ملتان (قوم ریسرچ سیل) ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور رائے بابر سعید کے براہ راست ماتحت ریجنل انویسٹی گیشن برانچ کی گناہ گاروں کو بے گناہ کرنے کی روایت جاری ہے۔ اسی آر آئی بی کے انسپکٹر اکرم وٹو کا اسلامیہ یونیورسٹی کے پروفیسر ابوبکر کو PFSA اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی واضح رپورٹس کا ملاحظہ کئے اور حوالہ دیئے بغیر ہی بے بنیاد اور من گھڑت واقعات کی بناپر سنگین نوعیت کے جنسی ہراسمنٹ کے مقدمے کے اخراج کو ہضم کرنے کے بعد ایک اور کارنامہ سامنے آ گیا۔ سی آئی اے پولیس کے سب انسپکٹر ریاض اشرف کی ظفر چوہان اور اس کے اہل خانہ پر ظلم و ستم اور باپ بیٹوں کو برہنہ کرکے تشدد کرکے گاڑی کے ڈبے بنانے جیسے انتہائی تکلیف دہ ٹارچر کے معاملہ پر RPO بہاولپور کو دی جانے والی درخواست بھی سماعت کے لیے RIB کے انسپکٹر اکرم وٹو ہی کو دی گئی جو ایسے تفتیشی پر آر پی او کے اعتماد کی نہ صرف کھلی دلیل ہے بلکہ ان شکوک و شہبات کو بھی تقویت دیتی ہے کہ “سب کچھ” اعلیٰ سطحی احکامات ہی سے ہو رہا ہے۔ اکرم وٹو انسپکٹر نے درخواست دہندہ فریق کو بالمشافہ دریافت کی زحمت ہی گوارہ نہ کی اور ذرائع سے معلوم ہوا کہ اکرم وٹو انسپکٹر نے اپنی “کاریگری” سے اپنے پیٹی بھائیوں کو بچاتے ہوئے درخواست ہی داخل دفتر کر دی ۔انکوائری کی کاپی درخواست دہندہ ظفر چوہان کو دینے سے بھی یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ابھی آر پی او آفس نے انکوائری پر دستخط نہیں کئے ۔یاد رہے کہ مدعی ظفر چوہان کی آئی جی پنجاب کو دی جانے والی درخواست برائے دریافت SP/IAB بہاولپور کو بھجوائی گئی تھی۔ اس درخواست پر SP /IAB بہاولپور نے معاملہ TAKE UP کرتے ہوئے گزشتہ روز فریقین کو دریافت کے لیے بلایا۔اس سے قبل درخواست دہندہ معززین علاقہ کے ساتھ جب IAB آفس گیا تو آفس ریڈر اختر ASI مدعی ظفر چوہان وغیرہ کو افسران کے ساتھ ملانے میں ٹال مٹول کرتے رہے پھر درخواست دہندہ نے طویل انتظار کے بعد SP/IAB صاحب کے سامنےپیش ہو کر صورتحال بتائی اور کہا کہ ہر مرتبہ ہمیں دن دس بجے کا پابند کر لیا جاتا ہے مگر الزام علیہان کبھی بھی وقت پر نہیں آتے اور آج بھی ہم صبح سے روزگار چھوڑ کر انتظار کر رہے ہیں مگر الزام علیہان ملازمین نہیں آئے۔حالات سن کر SP/IAB نے فوری طور پر تمام الزام علیہان کو طلب کر لیا تو جواد سخا DSP/IAB اور اعجاز شاہ IP/IAB کی موجودگی میں الزام علیہان ریاض اشرف SI، ثقلین کانسٹیبل، احسان کانسٹیبل اور محمد شفیق کنسٹیبل سے ان کا موقف سنا۔دوران انکوائری ظفر چوہان نے تفصیل بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ ہمیں ریڈ کر کے پکڑا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور CIA آفس لے جا کر میرے والد اور تینوں بھائیوں کے تمام کپڑے اتروائے، ایک دوسرے کے سامنے مکمل برہنہ اور ہمارے والد کے سامنے غیر اخلاقی کام کرنے پر مجبور کیا شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے میرا سر پھٹ گیا اور الزام علیہ ریاض اشرف SI نے پسٹل میری کنپٹی پر رکھ کر جان سے مار دینے کی دھمکی دی اس ساری کارروائی کے احمد چیمہ سب انسپکٹر ، شفیق کانسٹیبل وغیرہ چشم دید گواہ ہیں ان سے برحلف مسجد میں معلوم کر لیا جائے۔ اس رات اسی دوران DSP/CIA ناصر غوری بھی آ گئے اور انہوں نے بھی ہمارے ساتھ گالم گلوچ کی جبکہ دوران ریڈ CIA کی ٹیم کے ساتھ بہاولپور کے بدنام زمانہ ٹائوٹ طارق اور اعظم رضاکار بھی ساتھ تھے۔اس کے جواب میں ریاض اشرف SI نے گھر میں داخل ہونے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ A کیٹیگری کے اشتہاری کی گرفتاری کے لیے ریڈ کیا گیا۔ پانچ سات منٹ ظفر چوہان نے کھڑکی کے اندر سے ہمارے ساتھ بات کی اسی دوران اندر سے روڑے وٹے مارنے شروع کر دیئے جس سے میرا سر پھٹ گیا اور ایک کانسٹیبل کو بھی چوٹ لگی جس کے بعد ہم ان کو گرفتار کرکے تھانہ بغداد الجدید لے آئے اور مقدمہ درج کر دیا ہم لوگ گھر میں داخل نہیں ہوے۔ اس کی تفتیش محبوب ضیاء ASI کر رہا ہے۔ مزید کہا کہ طارق اور اعظم اس کے ساتھ نہیں تھے ۔دوران دریافت کانسٹیبل احسان نے ریاض اشرف SI کے موقف کی نفی کر دی اور کہا کہ ہم پہلے ملزمان کو لے کر CIA آفس گئے بعد میں تھانہ بغداد الجدید لے آئے جبکہ کنسٹیبل شفیق نے ریڈ پر موجود ہونے سے انکار کیا۔ظفر چوہان درخواست دہندہ نے ریکوئسٹ کی کہ تمام کے موبائل ڈیٹا حاصل کیے جائیں۔ تھانہ بغداد الجدید اور CIA کے کیمرہ جات کی فوٹیج لی جائے، احمد چیمہ بر حلف صفائی دے دیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ روزنامہ قوم ریسرچ سیل کے مطابق مقدمہ میں پولیس ریڈنگ پارٹی گاڑی BRG/18 پر گئی جسکا ٹریکر آج بھی چالو ہے ٹریکر ہسٹری آسانی سے مل جائے گی، ٹریکر ہسٹری سے معلوم ہو گا کہ گاڑی تھانہ بغداد الجدید کس وقت پہنچی اور اگر پولیس گھر میں بغیر وارنٹ گھر میں داخل نہیں ہوئی تو کیا ظفر چوہان اسکے والد اور بھائیوں نے پولیس کو گھر سے باہر آ کر گرفتاری دی تھی؟ نیز پرائیویٹ رضاکار اگر ریڈ میں شامل نہیں تھے تو اعظم اور طارق کے موبائل ڈیٹا لیکر آسانی سے فریقین کے درست موقف کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ ظفر چوہان نے مزید کہا کہ تفتیشی افسر محبوب ضیاء ASI پہلے دن سے اب تک اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہے اور صلح کے لیے سنگین ترین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ انکوائری کے بعد SP/IAB نے DSP/CIA ناصر غوری اور مقصود حسین SI کو بھی طلبی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مزید کہا کہ انٹرنل اکائونٹی بیلٹی برانچ آئی جی صاحب پنجاب کی آنکھ کی حیثیت رکھتی ہے تمام انکوائری میرٹ پر ہو گی اور کسی سفارش یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ عینی شاہدین کے مطابق ریاض اشرف SI جب انکوائری کے بعد آفس سے نکلا تو سچ بولنے کی پاداش میں کانسٹیبل احسان کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا اور شدید بد زبانی کی۔






