ملتان،لاہور(خبرنگار،بیورورپورٹ )پنجاب میں سموگ کےوارجاری ہیں۔چاراضلاع میں پابندیاں مزید سخت کردی گئی ہیں،گزشتہ روزآلودگی میںملتان پہلے،روجھان دوسرےنمبرپررہا۔ہائیکورٹ نے برہمی کااظہارکرتےہوئےکہاکہ اقدامات ناکافی ہیں۔صوبہ چل کیسے رہا ہے؟۔تفصیل کےمطابق ملک بھر میں جاری سموگ کی لہر کا روگ کم نہ ہو سکا، فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، فضا میں زہریلے ذرات کے باعث سانس لینا بھی محال ہو گیا۔پشاور، اسلام آباد اور راولپنڈی بھی سموگ کی لپیٹ میں آ گئے، ملتان گزشتہ روزبھی فضائی آلودگی میں سر فہرست رہاجہاں اے کیو آئی950 ریکارڈ کیا گیا ہے ۔آلودگی میں کل دن کے وقت راجن پورکاعلاقہ روجھان دوسرےنمبرپررہاجبکہ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس560 تک جا پہنچا ہے جبکہ پشاور کا اے کیو آئی 597، اسلام آباد کا254 اور راولپنڈی کا اے کیو انڈیکس284 کو چھو گیا۔دوسری جانب ملتان اور لاہور میں خشک کھانسی، سانس میں دشواری، بچوں میں نمونیا اور چیسٹ انفیکشن میں اضافہ ہو گیا، ایک ہفتے میں لاہور کے5 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں، آنکھوں میں جلن اور جلدی امراض بھی بڑھنے لگے ہیں۔ادھر دھند اور سموگ کے باعث موٹر ویز کو مختلف مقامات پر بند کر دیا گیا، ایم ون پشاور سے رشکئی، ایم ٹو بھیرہ سے کوٹ مومن، ایم تھری لاہور سے درخانہ تک بند کر دی گئی ہے جبکہ ایم فور پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم، ایم فائیو ملتان سے سکھر تک بھی ٹریفک کیلئے بند ہے۔دوسری جانب پنجاب کے تمام اضلاع میں سموگ سے نمٹنے کیلئے ایئر پیو ریفائرز لگائے جائیں گے جس کے حوالے سے ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔پنجاب کے تمام شاپنگ مالز کو ایئر پیو ریفائرز لگانے کی ہدایت کی گئی ہے، لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ ڈویژنز میں خراب ایئر کوالٹی انڈیکس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ شدید دُھند کے باعث پنجاب میں فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا ہے، ملتان کی 6 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر ملک بھر میں 34 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں ہیں، جن میں ڈومیسٹک اور بین الاقوامی پروازیں بھی شامل ہیں۔دبئی/ملتان کی نجی ایئر لائن ایئر بلیو کی پرواز پی اے 811 کراچی میں اتارلی گئی، موسم سازگار ہونے پر پرواز کوملتان روانہ کردیا جائے گا۔کراچی ملتان کی پرواز پی کے 330 کو لاہور اتارا گیا جبکہ کراچی اسلام آباد کی پرواز پی کے 300 آج بھی تین گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی فیصل اباد کی پرواز 340 کی روانگی میں بھی تاخیر کردی گئی ہے، اسلام اباد سے کراچی کی پرواز پی کے 301 3 گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوگی۔دوسری جانب پنجاب کے چار اضلاع میں مارکیٹس رات 8 بجے بند کرنے کانوٹیفکیشن جاری کردیاگیا۔ڈی جی ماحولیات عمران حامد شیخ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق لاہور فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان میں مارکیٹس رات 8 بجے بند ہوں گی۔چاروں ڈویژنز میں آئوٹ ڈور فیسٹیولز، کنسرٹس پر بھی پابندی لگادی گئی۔ نوٹیفیکشن میں کہا گیا کہ تمام شاپنگ مالز، دکانیں، ریسٹورینٹس جلدی بند کیے جائیں گے، ریسٹورنٹس کی آئوٹ ڈور ڈائننگ پر بھی پابندی عائد ہوگی۔فارمیسز، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز اور بیکریوں کو اس پابندی سے استثنی حاصل ہوگا۔ بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز اپنے گروسری کے شعبے کھول سکیں گے۔فیصلے کا اطلاق 11 نومبر سے 17 نومبر تک رہے گا۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے تدارک سموگ کے حوالے سے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے تدارک سموگ سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی، پنجاب حکومت نے تدارک سموگ سے متعلق اقدامات کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔دوران سماعت وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ لاری اڈوں اور ٹرک سٹینڈز پر انتظامیہ خود جا کے انسپکشن کرے گی، بند روڈ پر تین بڑے ٹرمینلز پر کریک ڈاؤن کیا گیا، 400 گاڑیوں کو چیک کیا گیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ 400 گاڑیوں کی انسپکشن کے نتیجےمیں کتنی گاڑیاں ٹھیک حالت میں نہیں تھیں؟وکیل پنجاب حکومت نے بتایا کہ 42 گاڑیاں انسپکشن میں فیل ہوئی ہیں، پنجاب کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو انسپکشن کے لیے مطلع کر دیا گیا ہے، کل اتوار تھا اس لیے سیکرٹری ٹرانسپورٹ ہدایات جاری نہیں کر سکے۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ یہ آپ کیا بات کررہے ہیں؟ حالت دیکھیں باہر، ایک ایک منٹ بہت ضروری ہے،میں تو اتوار کو بھی اس کیس کوسننے کو تیار ہوں، اگر آپ کہتے تو میں اتوار والے دن کیس کی سماعت رکھ لیتا۔ممبر جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ سموگ پھیلانے والی گاڑیاں سڑکوں پر آنی ہی نہیں چاہئیں۔عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کا کوئی بندہ عدالت میں موجود نہیں، یہ آپ کی سنجیدگی کا عالم ہے۔عدالت نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو حکم دیا کہ آپ بادامی باغ جائیں اور بند کی گئی گاڑیوں کو چیک کریں، کیا ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اب تک سویا ہوا تھا؟ ہم گزشتہ 2 سال سے آرڈر کر رہے ہیں، حکومتی اداروں کی جانب سے مکمل ناکامی ہے، میں 6 ماہ پہلے سے یہ کہہ رہا ہوں سموگ آنے سے پہلے تدابیر کریں، اگر سموگ آ گئی پھر کچھ نہیں ہو پائے گا۔جسٹس شاہد کریم نے پنجاب حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ سموگ کے اس سیزن میں ذمہ دار شہر میں موجود نہیں ہیں، میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا، جب عدالت میں حکومت کی بائیکس فراہم کرنے کی پالیسی پر آرڈر کیا تو حکومت کے لوگوں نے ہنسنے والے ریمارکس دیے، کیا اب کوئی جواب ہے آپ لوگوں کے پاس؟عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آج عدالت میں موجود نہیں ہیں، یہ سب سے اہم معاملہ ہے، آج انہیں عدالت میں ہونا چاہیے تھا، میں بہت مایوس ہوا ہوں، آپ ان تک میری ناراضی پہنچائیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ بس سٹینڈ پر گاڑیوں کو چیک کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ وکیل پنجاب حکومت نے بتایا کہ گاڑیوں کا دھواں چیک کیا جاتا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اس طرح حکومت معاملے کو سیریس لے رہی ہے؟ سموگ کنٹرول کرنے کے حوالے سے اقدامات کرنے میں حکومتی محکمے ناکام ہیں۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ دو ماہ پہلے سموگ کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، یہ بچوں سمیت ہم سب کی زندگیوں کا معاملہ ہے لیکن ادارے پراپر کردار ادا نہیں کر رہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کہاں ہیں ؟ ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ وہ جنیوا میں ہیں جس پر جسٹس شاہد کریم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹنگ چیف سیکرٹری کہاں ہیں؟ یہ صوبہ چل کیسے رہا ہے؟جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ لاہور میں بہت سی جگہوں پر تعمیرات ہو رہی ہیں، تعمیرات کا ہونا سموگ کی سب سے بڑی وجہ ہے، سکول بند کروا دیے ہیں، تعمیرات ہی بند کروا دیتے، کیا کوئی آرڈر موجود ہے کہ ڈپٹی کمشنر کیا کام کریں گے ؟وکیل پنجاب حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے حوالے سے ایسا کوئی آرڈر موجود نہیں ہے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ فصلوں کی باقیات جلائی جا رہی ہیں، کیا حکومت کو نہیں معلوم تھا کہ چاول کی فصل کے بعد فصلوں کی باقیات جلائی جائیں گی؟ حکومت نے کیا اقدامات کیے؟ حکومت نے کچھ نہیں کیا، روڈا کو چھوڑ دیں، اگر روڈا بنائیں گے تو کون اس شہر میں رہے گا، اگر لاہور کا ماسٹر پلان کالعدم قرار نہ دیا جاتا تو معلوم نہیں کیا ہو جانا تھا۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نے کوئی حکم نہیں دیا کہ مارکیٹس 8 بجے بند کی جائیںمیں نے یہ آپ لوگوں پر چھوڑ رکھا ہے کہ آپ میٹنگ کریں اور جو مناسب ہے کریں، ہم نے کہا تھا کہ ہفتے میں دو دن ورک فرام ہوم کریں، کب کریں گے؟آپ لوگ کر کیا رہے ہیں؟ یہ ڈی جی ماحولیات سے بہت اوپر کی بات ہے، پوری حکومتی مشینری کو اس پر ایکشن لینا ہوگا، تدارک سموگ کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں ہوئے۔عدالت نے وکیل پنجاب حکومت سے استفسار کیا کہ آرڈر کیا تھا ان دو ماہ میں کوئی تعمیراتی کام نہیں ہو گا اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ سکول بند ہیں، سب کچھ سامنے ہے کنسٹرکشن کیوں بند نہیں ہو رہی؟ اس وقت پنجاب میں ایمرجنسی ہے آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ درختوں کی کٹائی کی وجہ سے ملتان سموگ میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے، دو دن ” ورک فرام ہوم” کے حوالے سے بھی حکومت کو اقدامات کرنے کا کہا تھالیکن کچھ نہیں کیا گیا، میں خود کل باہر نکلا ہوں مجھے ٹریفک والا ایک بندہ بھی نظر نہیں آیا جو چیکنگ کر رہا ہو۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حکومت نے کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ اگر گاڑی کی فٹس پراپر نہیں ہے تو اسے ایک لاکھ جرمانہ ہو گا؟ 1500 یا 2000 جرمانے سے حالات نہیں بدلیں گے، جو ضروری اقدامات ہیں اور نوٹیفکیشن ہیں وہ حکومت کرے، کنسٹرکشن بند کرنے کے لیے حکومت سنجیدگی سے سوچے۔جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ میں نے شادی ہالز کے حوالے سے آرڈر کیا تھا، اس کا کیا بنا؟ ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ اس پر کچھ عملدرآمد نہیں ہوا جس پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ میں پر امید تھا موجودہ حکومت اس حوالے سے بہتر کام کرے گے مگر ان کے اقدامات کافی نہیں، میں کوئی آرڈر نہیں کر رہا، میں صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں حکومت کیا کرتی ہے، آپ کو جاری تعمیرات کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا، حکومت پنجاب بھر کے ڈی سیز اور اے سیز کی ڈیوٹی لگائے کبھی اپنے دفاتر سے نکل کر سڑکوں پر چیکنگ کریں۔






