بہاولپور تشدد کیس،ملزم دولت مند،پولیس ضرورت مند،جانبدار تفتیش پر ؛قوم؛نے سوالات اٹھا دئیے

بہاولپور تشدد کیس،ملزم دولت مند،پولیس ضرورت مند،جانبدار تفتیش پر ؛قوم؛نے سوالات اٹھا دئیے

ملتان (قوم ریسرچ سیل) بہاولپور پولیس نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث ملزمان کے حوالے سے میرٹ پر تفتیش اور سخت قانونی کارروائی کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے ۔ 27 اکتوبر بروز ہفتہ نیشنل میڈیا نے خبر نشر کی کہ سابق چیئرمین ضلع کونسل بہاولپور شیخ دلشاد احمد کے اہل خانہ نے گھریلو ملازمہ اور بچے پر بہیمانہ تشدد کیا۔ گرم چھری سے بچے کا جابجا جسم داغا گیا۔ اس خبر کے آن ائیر ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری قانونی کارروائی کرنے اور ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جس پر وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے حکم پر تھانہ کینٹ بہاولپور میں حضور بخش سب انسپکٹر نے متاثرہ فیملی کی بجائے اپنی ہی مدعیت میں مقدمہ نمبر 982/24 بجرم 11/3 THE PUNJAB RESTRiCTION OF Employment OF CHILDREN 2016 اور 3/4 PREVENTION OF TRAFFICKING IN PERSON ACT 2018 کی دفعات کے تحت درج کرکے تفتیش ازخود اپنے پاس ہی رکھ کر کارروائی شروع کر دی، حالانکہ مدعی مقدمہ اخلاقی اور قانونی طور پر بھی تفتیش کرنے کا مجاز نہیں تھا مگر ابتدا ہی میں شیخ دلشاد اور ان کی فیملی پر دست شفقت رکھتے ہوئے ایس ایچ او کینٹ نے درست دفعات لگانے کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے کمزور اور غیر متعلقہ دفعات لگا کر آغاز ہی میں مقدمہ کمزور کر دیا اور کسی دوسرےافسر کو تفتیش پر مامور کرنے کی بجائے تفتیش بھی حضور بخش سب انسپکٹر نے خود رکھ لی اور چند ہی دنوں میں شیخ دلشاد پولیس کی طرف سے شاد کر دئیے گئے۔ روزنامہ قوم کے خصوصی ریسرچ سیل کی طرف سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق ایف آئی آر کے متن اور دستیاب فوٹیج میں گھریلو ملازم پر تشدد واضح دیکھا جا سکتا ہے، اس فوٹیج کی روشنی میں ملزمان پر دفعہ 328/اے کا اطلاق ہوتا تھامگر تفتیشی حضور بخش اور ایس ایچ او کینٹ نے الزام علیہان کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کمزور اور غیر متعلقہ دفعات لگاتے ہوئے ” تخفیف” جرم کا ارتکاب کیا کیونکہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق غلط دفعات یا مقدمہ کمزور کرنا مجرم کے ساتھ دینے کے مترادف ہے اور آئی جی پنجاب کی ایس او پیز میں شامل ہے اسی پر 7 نومبر کو ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے ایس ایچ او شاد باغ لاہور سب انسپکٹر دلاور علی کو معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کے ساتھ زیادتی کرنے والے اہلکاروں کی محکمہ میں کوئی گنجائش نہیں مگر یہاں بہاولپور میں پولیس کے پاس ملزمان کے لئے وافر مقدار میں ہر وقت اور ہر معاملے میں گنجائش موجودہوتی ہے جس کا کھلے عام استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہاولپور ڈویژن میں عرصہ دراز سے مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنانا تفتیشی افسران کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ مقدمہ کا اندراج ہوتے ہی ملزم شیخ دلشاد احمد نے اس قانونی سہولت کاری کے تحت گرفتاری دے دی، اب چونکہ شیخ دلشاد احمد نے چوری کا ایک مقدمہ متاثرہ بچے کے چچا اور چچی نسیم بی بی پر حفظ ما تقدم کے طور پر کروا رکھا تھا جس کی تفتیش بھی حضور بخش ہی کر رہا تھا اور مظلوموں کو ظالم بنا کر ان کے گھروں پر چھاپے بھی مار رہا تھا،اس پر متاثرہ خاتون نے عدالت میں رٹ بھی دائر کی تھی۔ ہفتہ 27 اکتوبر کے روز ملزم شیخ دلشاد کی گرفتاری ظاہر کرکے اتوار کے روز علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا تو عدالت نے 14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات دیئے مگر پولیس نے سہولت کاری کرتے ہوئے شیخ دلشاد احمد کو تھانہ کینٹ ہی میں بطور راہداری رکھ لیا اور بااثر ملزم کو تھانہ میں مہمان خاص کا پروٹوکول بھی دے دیا گیا۔ اب چونکہ شیخ دلشاد احمد کو تھانہ ہی میں ایک رات مزید رکھنا مقصود تھا لہذا تفتیشی افیسر نے ملزم کی بیماری کا بہانہ بنا کر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر سوموار 29 اکتوبر کی رات بھی اسے تھانہ میں رکھا اس دوران حیران کن طور پر حضور بخش سب انسپکٹر اور ایس ایچ او نے متاثرہ خاندان سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور نہ انکے بیانات قلمبند کئے اور نہ ہی متاثرہ بچے کا میڈیکل کروایا گیا۔ پولیس نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو بھی مطلع نہ کیا تاکہ معاملے کی تحقیقات ہوتیں، مقدمہ کے درست حالات واقعات افسران کے نوٹس میں لائے جاتے اور ملزم کو سزا دلوانے کی کوشش کی جاتی مگر جب ملزم دولت مند اور پولیس ضرورت مند تو مظلوم خاندان کی کون سنے اور کون انکے میڈیکل کروانے کی زحمت گوارا کرے۔ اوپر سے ڈی پی او بہاولپور اسد سرفراز خان بھی ان دنوں چھٹی پر ہوں، چارج ایس پی انویسٹیگیشن نوید ارشاد کے پاس ہو تو مظلوم کی کون سنتا۔منگل کے روز بعدالت جناب محمد زاہد اقبال علاقہ مجسٹریٹ جب ضمانت کی پیشی کے موقع پر تفتیشی نے اپنی ہی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے بیان سے منحرف ہوتے ہوئے عدالت میں بیان دے کہ یہ خبر ہی جھوٹی ہے، ایسا کوئی وقوعہ سرے سے ہوا ہی نہیں اور اس طرح ملزم کو ضمانت کروانے کا موقع فراہم کر دیا گیا اور منگل کے روز ضمانت منظور ہونے کے بعد اب چونکہ رہائی کی روبکار سپرٹینڈنٹ جیل کے نام بنی تھی لہذا شام پانچ بجکر تیتیس منٹ پر ملزم دلشاد شیخ کو جیل لے جایا گیا اور چھ بجکر بائیس منٹ پر جیل سے تعمیل حکم کروا کر ملزم کو رہا کرا دیا گیا ۔قوم ریسرچ سیل نے پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے لیے سوالات اٹھائے ہیں جنہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں بھی لایا جا رہا ہے۔ یہ سوالات اس طرح سے ہیں۔
1- اگر مدعی مقدمہ سب انسپکٹر حضور بخش نے وقوعہ کی تصدیق ہی نہیں کرنی تھی تو پھر انہوں نے ایک 70 سالہ بزرگ شیخ دلشاد کا چالان کیوں کیا ؟
2- کیا تفتیشی آفیسر نے غیر ضروری دفعات لگا کر اور تشدد و ظلم کی دفعات نہ لگا کر ملزمان کو فائدہ پہنچانے کے لیے تخفیف جرم نہیں کیا ؟
3- کیا عدالت سے جوڈیشل ہونے کے بعد48 گھنٹے جیل جمع کروانے کی بجائے اپنا مہمان بنا کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے قابلِ دست اندازی جرم نہیں کیا گیا-
4- کیا متاثرہ بچے کو کسی فورم پر پیش کیا کیا اور اسکے بیانات قلمبند کیے گئے؟
5، کیا اس سارے غیر قانونی عمل میں ایس ایچ او تھانہ کینٹ اور ڈی ایس پی سٹی پردہ پوشی کے مرتکب نہیں ہوئے؟ اگر ایسا ہے تو کیا انکے خلاف بھی ڈی پی او بہاولپور اسد سرفراز خان ایکشن لے پائیں گے؟ کیونکہ اب انہوں نے واپس آ کر چارج سنبھال لیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں