ملتان ( سٹاف رپورٹر ) این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر جو کہ سابق ناجائز برخاست وائس چانسلر کے دور میں ان کے گن گاتے نہ تھکتے تھے کیونکہ ناجائز وائس چانسلر نے ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کو 12 اکتوبر 2012 سے رجسٹرار کی کرسی پر عارضی چارج پر بٹھایا ہوا تھا اور وہ تاحال بھی رجسٹرار کی عارضی کرسی پر ناجائز قابض ہیں۔ تفصیل کے مطابق ناجائز رجسٹرار نصراللہ خان بابر جو کہ ناجائز وائس چانسلر کے تمام غیر قانونی کاموں میں ان کا ساتھ دیتے نظر آتے تھے آج کل لوگوں کو بلا بلا کر یہ کہنے لگ گئے ہیں کہ یہ اختر کالرو اپنے طور پر سارے غیر قانونی کام کیا کرتے تھے، میرا ان کے کسی قول و فعل سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ہے کچھ ملازمین کو جن کو برطرف وائس چانسلر نے نشانہ بنا کر مختلف جگہوں پر تعینات کر رکھا تھا ،نصر اللہ خان بابر نے ان کو بلا کر ان کو ان کی ٹرانسفر واپس کروانے کی بابت بات کی۔ ناجائز رجسٹرار جو کہ کسی سے سیدھے منہ بات کرتے نظر نہ آتے تھے وہ آج کل برطرف وائس چانسلر کے جانے کے بعد لوئر سٹاف مالی سویپر تمام ملازمین کو چائے کے آفر کرتے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب برطرف ناجائز وائس چانسلر نے کیا تھا ہمارا ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ہے وہ خود تو پھنس گئے ہیں اور ہمیں بھی پھنسا کر چلے گئے ہیں اب ملازمین ہمیں بالکل اچھا نہیں سمجھتے ۔ ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر جو کہ 2012 سے 2024 تا حال رجسٹرار کی اس کرسی پر ناجائز قابض ہیں 2012 سے 2020 تک پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی تعینات رہے یہ دو عہدے ساتھ ساتھ رکھنا ایک نہایت ہی غیر قانونی جرم ہے جس کی بابت بھی ان سے پوچھ گچھ کی تیاری کی جا چکی ہے۔ اس 12 سالہ دور میں ان کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا جس میں قصبہ لاڑ میں دو مربع پر تعمیر شدہ فارم ہاؤس، گردیزی موڑ پر واقع پی ایس او پٹرول پمپ جس کی مالیت 30 کروڑ روپے ہے اور سات سے آٹھ مربع مخدوم رشید کے علاقے میں ، انہوں نے تین سے چار کمرشل جگہیں مختلف بینکوں کو کرائے پر بھی دے رکھی ہیں اور ان کی ٹوٹل مالیت تقریباً 2 ارب کے لگ بھگ ہے۔ 2005 میں پاک ارب فرٹیلائزر سے ٹرانسفر ہو کر مہران کار پر آنے والے نصراللہ خان بابر نے سیاسی سفارشوں اور غیر قانونی کاموں کی بہتات کر کے ناجائز برطرف وائس چانسلر کو اپنے جال میں پھنسائے رکھا اور خوب مالی فوائد حاصل کرتے رہے اور اب جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ناجائز وائس چانسلر کو برطرف کر دیا ہے تو رجسٹرار نے ان سے بالکل منہ موڑ لیا ہے اور وہ نئے وائس چانسلر کے انتظار میں ہیں کہ جو بھی نیا وائس چانسلر آئے گا ان کو اپنے جال میں پھنسا کر مزید رجسٹرار کی کرسی پر قابض رہیں گے اور اپنا 2027 میں ریٹائرمنٹ تک رجسٹرار کی کرسی پر قابض رہنا چاہتے ہیں تاکہ ان سے کوئی کسی قسم کی کوئی پوچھ نہ ہو سکے مگر وفاقی وزارت تعلیم جس کے خلاف ناجائز رجسٹرار نصراللہ خان بابر پہلے ہی مختلف سٹے لے چکے ہیں جن میں فیصل اباد سے ٹرانسفر کیے جانے والے تین افراد کے کیس میں نصر اللہ خان بابر نے سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم کے خلاف لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ سے اسٹے نمبر 13320/23 جبکہ ایک انکوائری کے کیس میں نصر اللہ خان بابر نے وفاقی وزارت تعلیم کے خلاف دوسرا سٹے 13910/23 بھی لیا ہوا ہے اور ناجائز وائس چانسلر کی مختلف تقاریر میں یہ برطرف وائس چانسلر کے بالکل رائٹ سائیڈ پہ نظر اتے تھے جس میں ناجائز وائس چانسلر وفاقی وزارت تعلیم اور ایوان صدر کو دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آتے تھے جس کے ویڈیو ثبوت روزنامہ قوم کے پاس موجود ہے۔ اور وفاقی وزارت تعلیم نے بھی ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کی انہی حرکتوں اور ناجائز غیر قانونی کاموں کی بابت ان کے خلاف مکمل تیاری بھی کر لی ہے۔
زبان کھول دی






