پروفیسر ابوبکر منشیات کیس:آرپی اوبہاول پورکےدس نمبری لاڈلےکی تفتیش پرمزید10معصومانہ سوال

پروفیسر ابوبکر منشیات کیس:آرپی اوبہاول پورکےدس نمبری لاڈلےکی تفتیش پرمزید10معصومانہ سوال

ملتان (قوم ریسرچ سیل) اسلامیہ یونیورسٹی کے بدنام پروفیسر ابوبکر منشیات کیس میں انسپکٹر آر آئی بی اکرم وٹو کی ملزم کو بے گناہ کرنےکی رپورٹ کی اہل علاقہ نے روزنامہ قوم کی طرف سے جائے وقوعہ پر حقائق جاننے کے لئے کئے گئے سروے کے دوران وقوعہ کی تصدیق نہیں کی جس سے پولیس افسران کی بدنیتی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزنامہ قوم کے ریسرچ سیل نے موقع پر رات کے دو بجے وزٹ کیا تو اس وقت اڈا 7 بی سی پر ہو کا عالم تھا۔ دس بارہ کے قریب چھوٹی چھوٹی دن کے اوقات میں کھلنے والی دکانیں رات کے وقت مکمل طور پر بند تھیں، نہ کوئی سکیورٹی گارڈ موقع پر تھا اور نہ ہی سی سی ٹی وی کیمرے ہیں جس کی وجہ سے اہل علاقہ کا وقوع سے لاعلمی کی وجہ سے ملزم پروفیسر ابوبکر کا منشیات مقدمہ میں بے گناہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بے گناہی کی ضمنی میں تفتیشی افسر نے تحریر کیا ہے کہ محمد رمضان کی جائے تعیناتی سی آئی اے تھی جبکہ ایف آئی آر میں تھانہ کینٹ لکھی گئی ہے تفتیشی کی کم علمی کا واضح ثبوت ہے۔ تفتیشی افسر اپنے علم میں اضافہ کرنے کےلئے ظفر چوہان پر ہونے والے جھوٹے اور بے بنیاد تھانہ بغداد کے مقدمہ کے خانہ نمبر 2 میں دیکھیں کہ مدعی مقدمہ ریاض اشرف کی جائے تعیناتی ٹریفک دفتر لکھی گئی ہے اور استغاثہ سی آئی اے بہاولپور کی جانب سے دیا گیا ہے پھر تو یہ مقدمہ بھی آسانی سے خارج ہو جانا چا ہئے اسکے علاہ ۔۔۔
1۔تفتیشی افسر اکرم وٹو نے تحریر کیا کہ دوران تفتیش 9 کس مرد اور 2 کس خواتین نے اپنے اپنے بیان حلفی پیش کیے جنہوں نے وقوعہ مندرجہ FIR کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ الزام علیہ ابوبکر کو 10 سال سے جانتے ہیں وہ غلط Activity میں ملوث نہ پایا گیا ہے۔ اس اعتراض پر تفتیشی افسر اکرم وٹو انسپکٹر 21 توپوں کی سلامی کے بھی حق دار ہیں ۔ضابطہ کے تحت عورت بطور VICTIM تو اپنا بیان ریکارڈ کرواتی ہے مگر کسی بھی مقدمہ میں VICTIM یا مدعیہ کے علاوہ کوئی بیان یا بطور گواہ کوئی بیان ریکارڈ نہیں کیا جاتا مگر تفتیشی افسر کی عظمت کو سلام کہ دو خواتین گواہوں نے بھی ملزم ابوبکر کے حق میں بیان حلفی پیش کیا۔
2۔سوال یہ ہے لیڈی پولیس افسر کی موجودگی کے بغیر تفتیشی افسر کیسے ایک عورت کو شامل تفتیش کر سکتا ہے؟؟ بطور گواہ صفائی ایک عورت کو کیسے اپنے دفتر بلا سکتا ہے؟
3۔تفتیشی افسر اکرم وٹو انسپکٹر کوئی ایک ایسا حکم نامہ یا سمنات دکھا سکتے ہیں جس پر محمد رمضان مدعی مقدمہ کے انکار یا اقرار کے دستخط ہوں؟
4۔تفتیشی افسر اکرم وٹو انسپکٹر نے تحریر کیا کہ محمد ماجد 1102/C جو کہ بوقت وقوعہ مستغیث محمد رمضان ASI حال SI کے ساتھ بمطابق FIR تھانہ، نے بتلایا کہ انہوں نے مورخہ 27.06.24 بوقت تقریباً ساڑھے 3 بجے دن الزام علیہ ابوبکر کو حاصل پور روڈ سے گرفتار کیا تھا جبکہ بمطابق FIR مورخہ 28.06.24 بوقت 01:45 بجے رات درج ہے۔ کیا اس تضاد کی کوئی دلیل بہاولپور پولیس دے سکتی ہے؟
5۔محمد ماجد 1102/C کا موقف لیا گیا جس نے بتلایا کہ اس نے اکرم وٹو تفتیشی افسر کو ایسا کوئی متنازعہ
بیان نہ دیا ہے، اکرم وٹو کے پاس کانسٹیبل محمد ماجد کے بیان کا کیا ثبوت ہے صرف یہ لکھ دینا کہ محمد ماجد کانسٹیبل نے یہ بیان دیا کافی نہیں اکرم وٹو انسپکٹر نے محمد ماجد کانسٹیبل کا بیان کیوں ریکارڈ نہیں کیا اور تحریری بیان کیوں نہ لیا؟
6۔جن بے سرو پا اعتراضات پر تفتیشی افسر اکرم وٹو نے مقدمہ کو قابل اخراج قرار دیا، اپنی پوری تفتیش میں ملزم ابوبکر کے موبائل فرانزک PFSA کی مصدقہ رپورٹس کا ذکر تک نہیں کیا ، کرسٹل آئس کی موصول ہونے والی PFSA رپورٹس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا، ڈرگ لیبارٹری کی جاری کردہ سیکس ٹیبلٹ کی رپورٹ کا بھی ذکر گول کر دیا گیا۔ موبائل فرانزک ڈیٹا جو ملزم ابوبکر کے زیر استعمال موبائل سے برآمد ہوا اور جو فرانزک رپورٹ میں موجود ہے، اس کا بھی ذکر کرنا گوارہ نہیں کیا، آخر کیوں؟
7۔ ریجنل انویسٹی گیشن برانچ براہ راست رائے بابر سعید RPO کی زیر نگرانی ہے جب کہ نوید ارشاد بطور
SP ریجنل انویسٹی گین برانچ بہاولپور کام کر رہے ہیں حالانکہ عام تاثر ہے کہ نوید ارشاد SP ایک سمجھدار پولیس افسر ہیں تو پھر ایسی کیا مجبوری یا پریشر تھا کہ نوید ارشاد SP نے بھی اکرم وٹو انسپکٹر کی تفتیش پر بلا چوں و چرا دستخط کر دیئے؟؟؟
8۔عام تاثر ہے کہ رائے بابر سعید نے اکرم وٹو انسپکٹر کو رات کو دن اور دن کو رات ، کالے کوے کو سفید کوا ثابت کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے یہاں کوئی انصاف نام کی چیز نہیں۔ ریجنل آفیسر کی پسند نا پسند کی بنیاد پر تفتیشیں فائنل کی جاتی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پورے عدالتی نظام میں PFSA رپورٹس مستند شمار کی جاتی ہیں اور PFSA رپورٹس کی موجودگی میں رپورٹس کے برعکس قطعی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ۔ مگر جب معاملہ ریجنل پولیس افسر رائے بابر سعید کی پسند نہ پسند کا ہو تو یہ PFSA رپورٹس ردی کے کاغذ کے علاوہ کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ۔
9۔ تفتیشی افسر اکرم وٹو انسپکٹر نے یہ تفتیش کرنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ PFSA رپورٹس کدھر ہیں ۔ہاں البتہ یہ تحریر فرما دیا کہ رات ایک بجے سنسان جگہ پر ہونے والے وقوعہ کی دن میں موجود لوگوں سے تائید نہیں ہوئی۔
10۔تفتیشی افسر نے ضمنی ہذا خود بول کر تحریری کرانا بیان کیا ہے مگر یہ کس سے تحریر کروائی، کوئی نام تحریر نہیں کیا گیا۔ ضمنی تحریر کرنے والے کا بیان تحریر نہیں کہ ضمنی لفظ بہ لفظ تحریر کی گئی ہے حتیٰ کہ آپریٹر کا تصدیقی بیان بھی تحریر نہیں ۔
ان سب حالات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر ملزم طاقتور ہو یا پولیس کے ریجنل پولیس آفسر کی پسند نا پسند کا معاملہ ہو تو قانون موم کی ناک بن جاتا ہے افسر کی خوشنودی اور ناانصافی کرنے کیلئے جدھر چاہیں موم کی ناک موڑ دیں۔ ان حالات میں ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور کی براہ راست مداخلت کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟؟؟

شیئر کریں

:مزید خبریں