بہاولپور(کرائم سیل) شہریوں سے لاکھوں روپے ٹھگ کر فراڈیا صہیب ارشد ڈویلپر بن گیا ، سابق چیمبر آف کامرس شیخ عباس کے داماد نے اپنے سسر کی مقبولیت کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو ٹھگنا شروع کر دیا ، متاثرہ شہری آصف چغتائی “روزنامہ قوم “”آفس پہنچ گیا ، صہیب ارشد نے متاثرہ شہری سے ویزا کمپنی خرید کروانے کے نام پر 50 لاکھ روپے ٹھگ لیے ، متاثرہ شہری کے مطابق صہیب ارشد نے متعدد لوگوں سے مبینہ طور پر فراڈ کر کے انہیں رقم واپس نہ دینے سے انکاری ہے ، صہیب ارشد خود کو مبینہ طور پر خفیہ اداروں کا اہلکار ظاہر کرتا ہے کبھی حساس اداروں کے آفسران کا حوالہ دے کر ڈراتا دھمکاتا ہے فراڈ کی گئی رقم سے یزمان روڈ سے ملحقہ کنسٹرکشن ہب کے نام سے کمرشل پلازہ تعمیر کر لیا ، جسے مارکیٹ میں ایس ایم ڈویلپرز اینڈ بلڈرز کے نام سے متعارف کروا کر دوبارہ سے نام نہاد پلازہ کی خرید و فروخت میں بھی مبینہ طور پر فراڈ کرنا شروع کر رکھا ہے ، متاثرہ شہری نے وزیراعلی پنجاب ، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تفصیل کے مطابق بہاولپور میں بہاولپور شہر میں ٹھگوں نے ڈیرے ڈال لیے لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف کاروباری شخصیت کی بلیک منی کو پراپرٹی و دیگر کمرشل پراجیکٹس میں وائٹ کرنے والے نام نہاد فراڈی صہیب ارشد نامی شخص نے شہریوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے اس حوالے سے اس فراڈ گروپ کہ ڈسے ہوئے ایک متاثرہ آصف چغتائی نامی شہری نے روزنامہ “”قوم “” آفس آ کر اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کی بابت تمام تر تفصیلات بمع ثبوت قوم کو دیتے ہوئے اعلی حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے متاثرہ شہری کے مطابق صہیب ارشد نے گزشتہ 6 سال قبل انہیں لاہور کی ایک ویزا کمپنی کی خرید کروانے کی پیشکش کی اور کہا کہ ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل حدیبیہ کمپنی صرف تین کروڑ روپے میں فروخت ہو رہی ہے جس کی انکم بھی ماہانہ لاکھوں روپے میں ہو ہوگی تاہم صہیب ارشد کی چکنی چبڑی باتوں میں آتے ہی متاثرہ شہری نے اسے 50 لاکھ روپے بطور ایڈوانس دے دیا اور بقیہ کمپنی لائسنس اپنے اور اپنے شراکت داروں کے نام منتقل ہونے پر ادا کرنی تھی 50 لاکھ روپے وصول کرنے کے بعد صہیب ارشد کی نیت میں فتور آگیا اور وہ منظر عام سے غائب ہو گیا کچھ عرصہ بعد پری پلان اپنے فراڈ کو چھپانے کی خاطر متاثرہ شہری کو لاہور آنے کا کہا اور کرائے پر تیار کیے گئے اپنے ایک فراڈ گینگ کے رکن کے ساتھ نجی ہوٹل میں ملاقات کروائی جسے حدیبیہ کمپنی کا مالک ظاہر کیا جہاں پر متاثرہ شہری نے کمپنی کی پروفائل اور لائسنس چیک کرنے اور دی گئی ایڈوانس کی رقم کی رسید کا مطالبہ کیا تو فراڈ سے کرائے پر حاصل کردہ خود ساختہ حدیبیہ کمپنی کے مالک کسی قسم کی کمپنی رجسٹریشن ڈیڑھ سو افراد کا کوٹہ دکھانے میں ناکام رہے شعبہ پر جب کمپنی کے بارے میں پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ جس فرد کو حدیبیہ کمپنی کا مالک ظاہر کیا گیا وہ کمپنی کا مالک ہی نہ تھا ڈھونڈنے پر متاثرہ شہری اصلی مالکان تک جا پہنچے جس نے متاثرہ شہری آصف چغتائی کو کہا کہ اپ کے ساتھ بہت بڑا فراڈ ہو چکا ہے میں کسی صہیب ارشد نامی شخص کو نہیں جانتا اور نہ ہی میں نے اس کمپنی کو فروخت کرنا ہے نہ ہی کسی کے ذمے لگایا ہے فراڈ سامنے آنے پر صہیب ارشد لاہور سے فرار ہو کر بہاولپور آگیا اور دوبارہ سے اپنے فراڈ کی پردہ پوشی کرنے کے لیے نت نئے بہانے کرتے ہوئے حدیبیہ کمپنی کو الحدیبیہ میں تبدیل کر دیا کہا کہ حدیبیہ نہیں الحدیبیہ فروخت ہو رہی ہے چان بین کرنے پر معلوم ہوا کہ اس طرح کی بھی کوئی کمپنی فروخت نہیں ہو رہی راز فاش ہونے کے بعد میں صہیب ارشد نے ڈٹھائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کیے گئے فراڈ کو خود تسلیم کر لیا علاقہ معززین کی موجودگی میں چھ ماہ کی مدت لے کر رقم واپسی کی یقین دہانی کروائی گئی مگر چھ سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد فراڈ سے لوٹی ہوئی رقم اب تک واپس نہ کی گی متاثرہ شہری کے مطابق رقم واپس مانگنے پر صہیب ارشد سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے کبھی خود کو حساس اداروں کا اہلکار ظاہر کرتا ہے کھبی حساس اداروں کے آفسران کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دے کر ڈراتا دھمکاتا ہے، متاثرہ شہری نے وزیراعلی پنجاب و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اصلاح و احوال کا مطالبہ کرتے ہوئے مذکورہ کمرشل پلازہ کی چھان بین کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، اس حوالے سے ڈویلپر صہیب ارشد سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے موقف میں بتایا جلد حساب کتاب کر کے معاملات ٹھیک کر لیے جائیں گے۔






