جامعہ اسلامیہ سکینڈل:پروفیسرابوبکرکوکلین چٹ،تفتیشی اکرم وٹوکی دس نمبریوں پر’’قوم‘‘کے12سوالات

جامعہ اسلامیہ سکینڈل:پروفیسرابوبکرکوکلین چٹ،تفتیشی اکرم وٹوکی دس نمبریوں پر’’قوم‘‘کے12سوالات

اسلامیہ یونیورسٹی ہراسمنٹ کیس،پولیس کی تفتیش پر’’قوم‘‘ کی تشویش

ملتان (قوم ریسرچ سیل) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورکے آلودہ شہرت کے حامل پروفیسر ابوبکر اور میجر( ر) اعجاز سے منشیات اور جنسی ادویات کی مبینہ برآمدگی کے علاوہ طالبات کو بلیک میل کرنے کے معاملے میں پولیس کی ریجنل انویسٹی گیشن برانچ بہاولپور کی تفتیش میں بہت سے سقم اور متعدد کمزوریاں سامنے آئی ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سنگین اخلاقی جرائم کے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری سے ثابت شدہ کیس کو کس طرح بگاڑ کر ملزمان کر محفوظ راستہ دیا گیا ہے۔ بے گناہ ہونے والے پروفیسر ابوبکر کوبے گناہ کئے جانے والی تفتیش میں نقائص کی نشاندہی کو چمک کا کمال کہا جائے، افسران کی آشیر واد تسلیم کیا جائے یا مٹی پائو پالیسی ۔تاہم پروفیسر ابوبکر کے بے گناہ ہونے میں آر پی او آفس بہاولپور کے کئی اہم اہلکاروں کی سہولت کاری کا بھی کھلے عام انکشاف ہوا ہے۔ حیران کن طور پر پنجاب کے دنیا بھر میں اعلیٰ مہارت کے حوالے سے منفرد شہرت رکھنے والے ادارے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی مفصل رپورٹ کو تفتیشی آفیسر اکرم وٹو نے اپنی تفتیش کا حصہ ہی نہ بنایا اور کیس میںاتنی بڑی کوتاہی اعلیٰ افسران کے نوٹس میں لائے بغیرکیسے ہو سکتی ہے جبکہ PFSA کی رپورٹس جو کہ روزنامہ قوم کے پاس بھی محفوظ ہےکی موجودگی میں پروفیسر ابوبکر کی بے گناہی ممکن نہ تھی ۔اسی طرح تفتیشی مقدمہ انسپکٹر اکرم وٹو نے متعین کردہ SOP کو بالائے طاق رکھ دیا اور بے گناہی والی ضمنی میں تفتیشی افسر اکرم وٹو انسپکٹر نے تحریر کیا کہ معززین علاقہ سے دریافت کیاگیا۔ جائے وقوعہ اڈہ 7 بی سی پر صرف دس سے بارہ کھوکھے اور دکانیں ہیں کوئی آبادی نہ ہے اور یہ بھی رات 8 بجے بند ہو جاتے ہیں جبکہ وقوعہ آدھی رات کے بعد کا ہے جب وہاں کسی کی موجودگی ممکن ہی نہیں ۔ملزم ابوبکر بہاولنگر کا رہائشی ہے جس کی بہاولپور یونیورسٹی میں بھی سرکاری رہائش ہے جبکہ اڈہ 7 بی سی کے علاقہ میں عام لوگوں کی سرے سے کوئی رہائش ہی نہیں اور وہاں کے دکاندار ملزم پروفیسر ابوبکر کو جانتے تک نہیں تو اس صورتحال میں معززین علاقہ کیسے صفائی دے سکتے ہیں؟۔ رات کے تقریبا ًایک بجے کا وقوعہ ہے موقع پر جا کر آج بھی چیک کیا جا سکتا ہے کہ اڈہ 7 بی سی کی دکانوں اور کھوکھوں میں آدھی رات کے وقت تو کوئی سکیورٹی گارڈ بھی موجود نہیں ہوتا نہ ہی کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ موجود ہے تو پھر انسپکٹر اکرم وٹو نے خفیہ طور پر بھی معلومات لیں بھی تو کہاں سے؟ کیا جنوں یا ہوائی مخلوق سے معلومات حاصل کی گئیں۔ روزنامہ قوم کے خصوصی ریسرچ سیل نے بے گناہی کے لئے تحریر کئے گئے مواد کے پوائنٹ وائز نقائص لکھ دیئے ہیں تاکہ عوام کو اصل حقائق کا علم ہو سکے۔
1۔ تفتیشی افسر نے تحریر کیا کہ بمطابق استغاثہ محمد کاشف C/1799 تھانہ پر لے گیا۔ جبکہ بحوالہ رپٹ نمبر 36 مورخہ 28.06.24 وقت 02:25 بجے مقدمہ ہذا درج رجسٹر ہوا ۔ اس میں تحریر لیکر آنے والے پولیس ملازم کا کوئی ذکر تک نہ ہے۔ اگر تحریر لے کر آنے والے ملازم کا ذکر رپٹ میں نہ ہے تو اس سے ملزم کیسے بے گناہ ہو گیا؟

2۔ رپٹ کا اندراج محمد رمضان ASI کی ذمہ داری ہی نہیں جو ایک اہم ٹیکنیکل FAULT ہے ۔

3۔تفتیشی افسر نے یہ اعتراض بھی کیا کہ مقدمہ میں دو مرتبہ جامہ تلاشی کیوں لی گئی، دو فرد مقبوضگی کیوں بنائی گئی۔ اس لیے مقدمہ جھوٹا ہے۔ اپنے اس اعتراض میں “ماہرتفتیشی” نے کسی پولیس رولز یا ضابطہ فوجداری کی کسی بھی شق کا حوالہ کیوں نہیں دیا کہ کسی مقدمہ میں ایک سے زائد فرد مقبوضگی مرتب نہیں ہو سکتی؟

4۔کیا یہ صرف ہوائی باتیں تحریر کی گئی ہیں؟

5۔تفتیشی افسر نے اعتراض کیا کہ دو فرد مقبوضگیوں پر گواہان ایک ہی ہیں لیکن دونوں فردات پر گواہان کے دستخط مختلف معلوم ہوتے ہیں، تو قانون کے مطابق ایسی رائے آنے پر دستخطوں کا فرانزک ضروری تھا جو نہیں کرایا گیا اور کیا یہ تفتیشی افسر کی کم فہمی اور جہالت کا ایک مصدقہ ثبوت نہیں؟

6۔کہیں یہ کسی ڈیل یا افسران کا حکم تو نہیں کہ تفتیشی افسر نے دستخطوں کی فرانزک رپورٹ کی ضرورت ہی محسوس نہ کی اور اپنی یک طرفہ رائے قائم کر دی؟

7۔تفتیشی افسر نے یہ اعتراض کیا کہ مستغیث محمد رمضان ASI کا استغاثہ میں جائے تعیناتی CIA بہاولپور تحریر ہے جبکہ FIR کے خانہ نمبر 2 میں تھانہ کینٹ تحریر ہے۔ایک ہی آفیسر کی دو جگہ پر تعیناتی ایک ہی وقت میں سمجھ نہ آتی ہے۔ اس اعتراض پر تفتیشی افسر اکرم وٹو انسپکٹر کی ذہنی پسماندہ حالت پر ترس آتا ہے کہ عوام اکرم وٹو انسپکٹر جیسے جدید علوم سے ناواقف اور پولیس کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے ناواقف لوگوں کے رحم و کرم پر انصاف کے طلب گار رہتے ہیں۔ کیا پولیس میں تبادلہ اور روانگی دو مختلف چیزیں نہ ہیں؟ اکثر اوقات کوئی بھی عہدیدار افسران بالا کے حکم پر اپنی جائے تعیناتی کے علاوہ بھی بھیج دیا جاتا ہے مگر اس کا تبادلہ نہیں کیا جاتا اور رپٹ پر دیگر جگہ پر نوکری کرنے والے عہدیدار جب کوئی استغاثہ برائے اندراج مقدمہ بھیجتا ہے تو کیا کمپیوٹر آٹومیٹک نظام کے تحت تبادلہ والی جگہ کی پوسٹنگ ظاہر نہیں کرتا؟

8۔ حیران کن امر ہے کہ اس بات کا محکمہ پولیس کے ایک عام خاکروب کو بھی علم ہے مگر انسپکٹر اکرم وٹو کو شاید جدت یا دبائو کی وجہ سے علم نہیں رہا اور اس کوتاہ علمی کی وجہ سے تفتیش ناقص قرار دے دی گئی؟

9۔ تفتیشی افسر کا اعتراض کہ جائے وقوعہ پر تفتیشی آفیسر محبوب احمد SI نے کسی بھی گرد و نواح کے فرد کے کوئی بیان تحریر نہ کئے ہیں۔ حیران کن ہے رات کے 2 بجے جب 7 بی سی اڈے پر کوئی چوکیدار یا سکیورٹی گارڈ ہی نہیں ہوتا تو وہاں سے کیسے گردو نواح کے لوگوں کے بیان لیے جا سکتے ہیں؟

10۔تفتیشی افسر انسپکٹر اکرم وٹو کا یہ اعتراض کہ جائے وقوعہ اڈہ 7 بی سی جہاں پر کافی دکانیں اور ہوٹل وغیرہ 24 گھنٹے کھلے رہے ہیں۔ جھوٹ بے بنیاد اور حقائق کے بر عکس ہے۔ آج بھی جائے وقوعہ پر جا کر اڈہ 7 بی سی کو رات گئے چیک کیا جا سکتا ہے کہ کوئی ہوٹل یا وکانیں 24 گھنٹے نہیں کھلتیں زیادہ سے زیادہ 9 بجے رات سنسانی چھا جاتی ہے حتی کہ چوکیدار بھی موجود نہیں ہوتا۔

11۔تفتیشی افسر اکرم وٹو کو یہ بات سمجھنی چاہئے تھی کہ وقوعہ ایک بجے رات کا ہے مگر یہ “ماہر” تفتیشی افسر دن کی روشنی میں موقع ملاحظہ فرما رہے ہیں جب دن کے وقت وقوعہ ہی نہیں ہوا تو اس کی تائید کس نے کرنی تھی؟

12۔ انسپکٹر اکرم وٹو تفتیش افسر ایک نان ٹیکنیکل تفتیشی ثابت ہوا ہے جو کہ CDR کو چیک بھی نہ کر سکتا ہے ہر ٹاور 4 سیکٹر رکھتا ہے اور اکثر اوقات پر شہر کے نزدیکی علاقہ میں مختلف ٹاور کے سگنل آتے ہیں جس کی وجہ سے ایک ہی مقام کی لوکیشن بھی مختلف ہو سکتی ہے لیکن اگر سیکٹر آئی ڈی سے چیک کیا جائے تو لوکیشن کا مقام ایک ہی آتا ہے یہ بے گناہی کی وجہ کیسے ہو سکتی ہے؟؟؟؟۔

اسلامیہ یونیورسٹی سیکنڈل:تفتیشی انسپکٹراکرم وٹو،ملزم پروفیسرابوبکراورسابق چیف سکیورٹی آفیسرمیجر(ر)اعجازشاہ

شیئر کریں

:مزید خبریں