
ملتان ( ایڈیٹر رپورٹنگ) پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی مصنوعی ذہانت و تکنیکی ترقی کے حوالے سے آج شاندار نمائش منعقد ہوئی جس میں جنوبی پنجاب کی پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے جدت پر مبنی 80 ماڈلز اور پراجیکٹس پیش کئے گئے۔ یونیورسٹیوں کالجوں اور سکولوں کے ہزاروں سٹوڈنٹس نمائش کو دیکھنے کے لئے امڈ آئے جبکہ سینکڑوں شہریوں نے بھی سائنسی ایجادات پر مبنی ماڈلز کو دیکھنے کے لئے نمائش کا رخ کیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب فواد ہاشم ربانی نے نمائش کا افتتاح کیا۔سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے پروفیسرز، ریسرچرز، سپیشل سیکرٹریز، سپانسرز اور صنعتکاروں بھی نمائش میں شریک ہوئے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب فواد ہاشم ربانی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ ٹیکنالوجیکل ایڈوانسمنٹ ایکسپو سے جنوبی پنجاب تخلیقی صلاحیتوں کی شاہراہ پر گامزن ہوگا اور یہ نمائش ٹیکنالوجی میں ترقی کے حوالے سے سنگِ میل ثابت ہوگی۔ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی ترقی تیزی سے دنیا کو بدل رہی ہے۔ عالمی کاروبار سے لے کر صحت کے شعبے تک اور تعلیم سے لے کر صنعت تک، ہر شعبہ میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی انقلاب کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں شریک سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے تخلیقی منصوبے ان کی محنت، لگن اور سائنس کے نئے افق تلاش کرنے کے جذبے کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے پروفیسرز، لیکچررز، طالب علموں اور اداروں کو ان کی شاندار کاوشوں پر مبارکباد دی اور کہا کہ آپ جنوبی پنجاب کا فخر ہیں، اور آپ کی تخلیقی صلاحیتیں اور جدت طرازی ہمارے خطے اور ملک کے مستقبل کی بنیاد رکھیں گی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے کہا کہ یہ ایونٹ ٹرپل ہیلیکس ماڈل کے تحت منعقد کیا گیا ہے، جس میں سیکرٹریٹ انتظامیہ، تعلیمی ادارے اور صنعتوں کے نمائندگان شریک ہیں۔ یہ ماڈل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آج یہاں پیش کیے گئے منصوبے مارکیٹ میں جگہ بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی مدد سے ان تخلیقات کو پیٹنٹ کیا جائے گاجس سے طلبہ اور ادارے رائلٹی حاصل کر سکیں گے، ان کی فکری ملکیت کا تحفظ ہو سکے گا اور اسپانسرشپ کے ذریعے ان ماڈلز کی تجارتی پیداوار ممکن ہو سکے گی اور انہیں مارکیٹ میں لایا جا سکے گا۔انہوں نے اسپانسرز اور صنعت کے شعبہ سے وابستہ نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ ان تخلیقی خیالات میں سرمایہ کاری کریں تاکہ یہ منصوبے قابل عمل مصنوعات میں تبدیل ہو سکیں اور ہماری معاشرت اور معیشت کو فائدہ پہنچ سکے۔فواد ہاشم ربانی نے سٹوڈنس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ ممکنات کی سرحدوں کو آگے بڑھاتے رہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور آپ کے خیالات اس تبدیلی کی سمت کا تعین کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ہمیشہ تجسس اور جوش برقرار رکھیں، اور کبھی جدت طرازی سے دستبردار نہ ہوں۔ جنوبی پنجاب اور پاکستان کا مستقبل آپ پر منحصر ہے۔انہوں نے ایک کامیاب اور متاثر کن نمائش کے انعقاد پر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اور اپنی پوری ٹیم کو مبارکباد دی اور سیکرٹری سروسز انجینئر امجد شعیب خان ترین، سپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سرفراز احمد، ایڈیشنل سیکرٹریز عطاءالحق، محمد فاروق ڈوگر اور ڈپٹی سیکرٹری نئیر مصطفےٰ کو شاباش دی۔ انہاں نے تعلیمی اداروں کے سربراہان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ نمائش کے موقع پر سیمینار بھی منعقد ہوا اور پراجیکٹس کے بارے عملی ڈیمانسٹریشن دی گئی۔ سیمینار میں پراجیکٹس کو تجارتی بنیادوں پر لانچ کرنے کے حوالے سے مختلف پہلوں پر بحث کی گئی۔بہترین کارکردگی پر شیلڈ تقسیم کی گئیں۔علاوہ ازیں جنوبی پنجاب آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ ٹیکنالوجیکل ایڈوانسمنٹ ایکسپو کے موقع پر سیمینار کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں جدت پر مبنی 15 ماڈلز اور پراجیکٹس بارے ڈیمانسٹریشن دی گئی۔سیمنار کی صدارت ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب فواد ہاشم ربانی نے کی۔سیمینار میں وائس چانسلرز، پروفیسرز، سٹوڈنتس، صنعتکار اور سپانسرز کے علاوہ سیکرٹری سروسز انجینئر امجد شعیب خان ترین، سپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سرفراز احمد، سپیشل سیکرٹری زراعت سرفراز مگسی، سپیشل سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو آفتاب پیرزادہ، سپیشل سیکرٹری فاریسٹ رانا رضوان قدیر،سپیشل سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈاکٹر عبیداللہ کھوکھر ، سپیشل سیکرٹری لائیوسٹاک اظفر ضیاء،سیکرٹری ریونیو مہر خالد اور ایڈیشنل سیکرٹری عطاءالحق نے شرکت کی۔ملتان چیمبر آف کامرس کی آئی ٹی کمیٹی کے کنوئیر عاصم سعید شیخ اور دیگر ممبران بھی سیمینار میں شریک ہوئے۔سیمینار میں سولر گراس کٹر بارے ڈیمانسٹریشن دی گئی اور بصارت سے محروم افراد کے لئے سمارٹ سٹک، سمارٹ شوز اور سمارٹ عینک کا بھی عملی مظاہرہ کیا۔توانائی کی بچت کے لئے ٹرپل ری پلشن الیکٹرک موٹرز،مریضوں اور ضعیف افراد کے لئے یو فری یورن بیگ ،بائیو ڈیگریڈ ایبل سینٹری پیڈز بارے بریفنگ اور روبوٹک ہینڈ کا بھی عملی مظاہر کیا گیا۔ویسٹ کو استعمال میں لانے کے لئے ویسٹ ٹو ورتھ پراجیکٹ، سمارٹ سولر پاور پینل کلینر پراجیکٹ، زمین کی ذرخیزی جانچنے والے ماڈل، بائیو پلاسٹکس پروڈکشن پراجیکٹ اور پلاسٹک ویسٹ سے فرنیچر بنانے کے پراجیکٹ بارے بھی ڈیمانسٹریشن دی گئی۔






