انکوائری میں ہم پر الزامات ثابت نہیں ہوئے،5پولیس افسر ذمہ دارقراراساتذہ اسلامیہ یونیورسٹی

انکوائری میں ہم پر الزامات ثابت نہیں ہوئے،5پولیس افسر ذمہ دارقرار:اساتذہ اسلامیہ یونیورسٹی

بہاولپور (پریس ریلیز) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے پروفیسرز نے گزشتہ روز چھپنے والی خبر میں معلومات کی تردید کی ہے۔ اپنے موقف میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات سائنسی بنیادوں پر ہوئی جن میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور ون مین جوڈیشل کمیشن شامل تھیں۔ جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے اساتذہ پر لگائے الزامات کی تحقیقات کیں مگر کسی بھی استاد پر الزام ثابت نہ ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوبکر، پروفیسر ڈاکٹر محمد حسین طاہر، پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا، پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم وغیرہ پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے قرار پائے۔ جوڈیشل کمیشن نے اپنی فائنڈنگ میں پانچ پولیس افسران کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی تجویز کی۔ جوڈیشل کمیشن کی تجاویزات کی سابقہ حکومت پنجاب کی کابینہ سے منظوری کے باوجود تاحال پولیس افسران کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ پروفیسر ڈاکٹر ابوبکر پر پولیس کی مدعیت میں ایک مقدمہ درج ہوا جو پولیس نے ہی جھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا۔ بعد ازاں وہ مقدمہ عدالت سے بھی خارج ہو گیا اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر سب انسپکٹر محمد رمضان کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر جام سجاد حسین کے خلاف لاہور میں سات سال قبل ایک مقدمہ درج ہوا جو عدالت نے جھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا۔ خاتون محتسب پنجاب کا خلاف قانون فیصلہ ڈبل جیپرڈی کی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا جس پر تاحال گورنر پنجاب، خاتون محتسب پنجاب اور متاثرہ خاتون نے جواب جمع نہ کرایا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر تعیناتی پر نئی انتظامیہ نے پرانے کیس کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر سجاد حسین کی جوائننگ روک دی جس پر لاہور ہائی کورٹ (بہاولپور بینچ) نے جسٹس انوار الحق پنوں کی سربراہی میں ڈاکٹر سجاد حسین کا موقف درست مانتے ہوئے وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو حکم دیا کہ وہ فوراً ان کی جوائننگ نوٹی فائی کریں۔ عدالت کا حکم مانتے ہوئے یونیورسٹی نے ان کی گریڈ بیس میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اس دوران جامعہ نے بھی ڈاکٹر سجاد حسین کے خلاف انکوائری کی اور گیارہ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انہیں بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔ البتہ میجر (ر) اعجاز پرمقدمہ زیر التوا ہے جس پر تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں