ملتان (سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے سابق وائس چانسلر کالرو کی سپریم کورٹ کے حکم کے پر توہین آمیز برخاستگی کے باوجود نئے وائس چانسلر کا تقرر نہ ہو سکا،حالانکہ وفاقی وزارت تعلیم کے افسران نے سپریم کورٹ میں سابق چیف جسٹس کو بتایا تھا کہ وہ این ایف سی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر کو فوری طور پر ایڈیشنل چارج دے دیں گے، جس سے چیف جسٹس نے اتفاق کیا تاہم کسی نامعلوم دباؤ پر سپریم کورٹ میں دئیے گئے بیان پر بھی وفاقی وزارت تعلیم نے عمل درآمد روک رکھا ہے کیونکہ ملک بھر کی دیگر یونیورسٹیوں سے سیاسی قیادتوں کے سیاسی اور مالی مفادات اس طرح براہ راست وابستہ نہیں ہیں جس طرح سے ملتان میں گزشتہ کئی سالوں سے ایک منظم سسٹم کے تحت گہری وابستگی جاری ہے اور اس “طریقہ تدریس” کے خالق بھی ڈاکٹر کالرو ہی ہیں جو ناجائز عہدہ برقرار رکھنے کے لئے ہروقت اور ہر طرح کا سودا کرنے کو تیار رہتے تھے۔ یاد رہے کہ 20 ستمبر کو دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اختر علی کالرو کو ہٹائے جانے پر وفاقی سیکرٹری تعلیم سے پوچھا کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کے عہدے کے لیے کوئی نام تجویز کریں تو چونکہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں کوئی پروفیسر سرے سے موجود ہی نہ ہے جو وائس چانسلر کے معیار پر پورا اترتا ہو چنانچہ وفاقی سیکرٹری تعلیم نے این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کے عہدے پر ایڈیشنل چارج کے لیے این ایف سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نجف اعوان کا نام تجویز کیا تھا چنانچہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے تحریری فیصلے میں اس بات کا ذکر کیا کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کے ایڈیشنل چارج کے لیے وفاقی سیکرٹری تعلیم خود فیصلہ کریں۔

اختر کالرو کے لئے یہ فیصلہ موت کا منظر تھا کیونکہ ان کے کروڑوں کی کرپشن کا پردہ چاک ہونے کے سو فیصد امکانات تھے جس پر اختر کالرو نے پھر سیاسی چڑھاوے چڑھانے شروع کر دیے تاکہ کوئی ایسا وائس چانسلر نہ آ جائے جو سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کی روشنی میں ڈاکٹر کالرو سے 6 سال کی تنخواہیں جو کہ تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار ماہانہ کے حساب سے 76 ماہ کی تنخواہ کی 5 کروڑ ، 70 لاکھ کی رقم واپسی کا تقاضا کرے،اربوں کے گھپلوں کا آڈٹ بھی ہونا باقی ہے۔ جس پر اختر کالرو نے سیاستدانوں کی منتیں ترلے کرنا شروع کر دئیے کہ میرے ہی کسی منظور نظر بندے کو چارج دلوا دیں تاکہ مجھ سے ریکوریاں نہ ہو سکیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اختر کالرو ایڈیشنل چارج کے لیے ایسوسی ایٹ پروفیسر کامران لیاقت بھٹی کو پروفیسر بنوا کر قائم مقام وی سی بنوانا چاہتے ہیں جو کہ کرپشن کے حوالے سے بہت مشکوک شہرت رکھتے ہیں۔ اس وقت کالرو مافیا کے سارے ممبران اپنے اپنے سفارشیوں سے رابطوں میں لگے ہوئے ہیں جبکہ سر سے پاؤں تک کرپشن میں لتھڑے ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کہ جن کے اثاثہ جات میں ایف بی آر اور ریونیو ریکارڈ میں زمیں آسمان کا فرق ہے اور جنہوں نے دو روز قبل اعلان کر دیا تھا کہ وہ نئے وی سی کو چارج دیتے ہی اپنا چارج چھوڑ کر صرف اپنی کلاسیں پڑھائیں گے، نے پھر سے امید بر آنے کی آس پر اپنے اختیارات سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے۔ چونکہ ابھی تک نئے وی سی کا نوٹیفکیشن بھی رکا ہوا ہے اس لیے ان افواہوں کو تقویت مل رہی ہے، دوسری طرف ذرائع سے یہ بھی دعوی کیا رہے ہیں کہ وفاقی سیکرٹری تعلیم کسی بہت ہی اچھی شہرت کے حامل وائس چانسلر کی تلاش میں ہیں جو اختر کالرو کا بقیہ گند صاف کر سکے۔ یاد رہے کہ 12 سال سے رجسٹرار کی کرسی پر ناجائز قابض نصر اللہ خان بابر جنہوں نے ڈاکٹر کالرو کے ساتھ مل کر ہمیشہ حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑائیں حتیٰ کہ جب وفاقی وزارت تعلیم نے فیصل آباد سے ملتان 3 لوگوں کو ٹرانسفر کیا تو یہ وہی رجسٹرار نصر اللہ خان بابر تھا جس نے دوران میٹنگ کالرو کی گورنمنٹ مخالف پالیسیوں میں حامی تھا اور پھر رجسٹرار نصر اللہ خان بابر نے ہی ہائیکورٹ سے وفاقی وزارت تعلیم کے خلاف سٹے آرڈر لے لیا تھا۔ اسی طرح ایک اور اہم انکوائری میں بھی ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر نے اختر کالرو کا ساتھ دیتے ہوئے وفاقی وزارت تعلیم کے خلاف سٹے لے لیا تھا۔ ایک میٹنگ میں نصر اللہ خان بابر یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ وفاقی وزارت تعلیم نے تین فیکلٹی ممبران کو فیصل آباد سے ملتان ٹرانسفر پر دباؤ ڈالا تو انہیں رجسٹرار نصر اللہ خان بابر ہی نے پیغام بھجوایا تھا کہ ملتان آنے کی جرات نہ کرنا، اسی طرح اختر کالرو کی باقیات میں کامران لیاقت بھٹی دوسرے نمبر پر ہیں جن کی پی ایچ ڈی بھی ڈاکٹر کالرو کی طرح مشکوک ہے۔ یہ موصوف بھی 14 سال سے الیکٹریکل انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کی کرسی پر قابض ہیں جبکہ ان کے ڈگری سائنسز کی ہے اور انجینئرنگ کونسل رولز کے مطابق وہ اس عہدے کے لئے غیر موزوں ہیں اس کے علاوہ وہ کالرو کے ساتھ کرپشن میں بھی ملوث ہیں۔ یونیورسٹی کے انتظامی عہدے کے بل پر انہوں نے اپنا ایک ذاتی سکول اور شادی ہال بھی بنا لیا ہے۔






