سینکڑوں بار خو د ساختہ زیادتی کا شکار بلیک میلر عظمیٰ شہزادی کا ملتان میں نیا وار ،پولیس سہو لتکار

سینکڑوں بار خو د ساختہ زیادتی کا شکار بلیک میلر عظمیٰ شہزادی کا ملتان میں نیا وار ،پولیس سہو لتکار

ملتان(سٹاف رپورٹر)رحیم یار خان کے علاقے کوٹ سمابہ کی از خود دعوت گناہ دے کر سینکڑوں تاجروں، فنکاروں اور سرکاری افسران کو بلیک میل کر کے کروڑوں روپے ہتھیانے والی عظمیٰ شہزادی چند ہی سال میں ملتان میںساتویں واردات ڈال گئی۔ یہ بدکار عورت اپنی مدعیت میں سینکڑوں مقدمات اپنے ہی ساتھ زبردستی کا الزام لگا کر حدود کے درج کروانے کیلئے درخواستیں دے چکی ہے ۔ مگر گزشتہ 8 سال میں ایک بھی پولیس اہلکار اس کا ٹارگٹ نہیں بنا۔ بس آخری مرتبہ اس نے لودھراں کے ایک ڈی ایس پی کو اس کے کمرے میں تھپڑ مارا تھا مگر اس کے بعد یہ بدکار عورت پولیس کی پارٹنر بن گئی۔ ملتان میں ایک ڈپٹی سیکرٹری کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے بعد اب اس نے صرف دو ہی سال میں ایف بی آر کے ایک آفیسر جو کہ ایڈیشنل کمشنر ہیں اور ملتان ہی میں تعینات ہیں کے ساتھ اسی قسم کی واردات کر ڈالی۔ سینکڑوں اہم ترین لوگ جن میں گورنر ہائوس کے ڈپٹی سیکرٹری، تین سول اور ایڈیشنل جج، دو جیل سپرنٹنڈنٹس اور سینکڑوں تاجروں کو دعوت گناہ بذریعہ فیس بک فرینڈ شپ دے کر لوٹنے والی یہ بدکار عورت کئی مرتبہ گرفتار ہو ئی مگر دو دن ہی میں جیلوں کے دروازے اس کیلئے عدالتی معاونت سے کھل گئے۔ یہ پنجاب کے علاقہ اسلام آباد اور کے پی کے میںبھی کئی اہم افراد لوٹ چکی ہے۔ اس بدکار عورت کے نیٹ ورک کو پولیس کی سہولت کاری کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو کہ ایک ہی نوعیت کی دو ایف آئی آر ز صرف تھانہ کینٹ ملتان میں دو سال سے بھی کم عرصہ میں در ج ہوتی ہیں اور پولیس کے پاس تمام تر ریکارڈ ہونے کے باوجود ایف بی آر کے ایڈیشنل کمشنر کے خلاف مقدمہ اور کراس ورشن درج ہوتا ہے۔ رحیم یار خان کی یہ بدنام طوائف اب تک پولیس کی معاونت سے لاہور میں قیمتی گھر خرید چکی ہے یہ مختلف ناموں سے فیس بک پر اکائونٹ بنا کر لوگوں سے دوستیاں کرتی ہے۔اس کے سہولت کار پولیس ملازمین اسے مذکورہ ٹارگٹ بارے تمام خفیہ معلومات اور اس کی مالی حیثیت بارے آگاہ کر تے ہیں پھر یہ اس کے کاروبار یا ملازمت کے حوالے سے جال پھیلاتی ہے اور خود کو اپنی مرضی سے ریپ کر اکر باتھ روم میں جا کر 15 پر اطلاع کرتی ہے اور صرف تین منٹ سے 5 منٹ میں پولیس جگہ پر پہنچ جاتی ہے کہ وہ قریب ہی انتظار کر رہے ہوتے ہیں پھر ڈیل شروع ہوتی ہے ۔ عظمیٰ شہزادی نامی اس طوائف کے پرس میں اسٹامپ اور گاڑیوں کے ٹرانسفر لیٹر کیلئے بھی کاغذات موجود ہوتے ہیں۔ اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ٹارگٹ کے پاس کتنی اور کون کون سی گاڑیاں ہیں وہ نقدرقم ، چیک اور گاڑیاں بھی اوپن لیٹر پر لے لیتی ہے۔ فلم بھی بناتی ہے اور اگر ڈیل نہ ہو سکے تو پھر اپنے ٹارگٹ کے خلاف حدود کا مقدمہ در ج کرا کر بھاری ڈیل کر کے صلح کرتی ہے۔ یہ بدکار عورت ملتان کے تھانہ سیتل ماڑی ، تھانہ گلگشت، تھانہ سٹی لودھراں، تھانہ کینٹ اور تھانہ شالیمار میں اس نوعیت کے مقدمات اپنی ہی مدعیت میں درج کر اچکی ہے اور تمام مقدمات کی کہانیاں ملتی جلتی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں