بانی پی ٹی آئی بری،لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس کا تحریر فیصلہ جاری،اہم نکات سامنے آگئے

بانی پی ٹی آئی ودیگر کو لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس سے بری کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ،جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان نے تین صفحات پر مشتمل تفصیلی حکمنامہ جاری کیا۔عدالت نے کیس کے ریکارڈ کا بخوبی جائزہ لیاہے۔ جرم میں یکساں کردار جیسا الزام لگانے کا مطلب پراسیکیوشن کا کیس کمزور ہے ۔حکم نامہ میں مزید لکھا گیا کہ مقدمہ کو مضبوط بنانے کے لیے ثبوت درکار ہوتے ہیں۔اسد عمر لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس سے بری ہوچکے۔درخواست گزار دلائل دے سکتے کہ اسد عمر اور ان کے خلاف عدم ثبوت کا ہونا یکساں بات ہے۔اسد عمر کی بریت بانی پی ٹی آئی، علی امین گنڈاپور و دیگر ملزمان کے لیے اہم پوائنٹ ہے ،ثبوت کی عدم موجودگی پر بانی پی ٹی آئی ، علی امین گنڈاپور و دیگر کو بھی اسد عمر کی طرح ٹریٹ کرنا چاہیے ۔براہ راست ثبوت بھی موجود نہیں جس سے بانی پی ٹی آئی ، علی امین گنڈاپور و دیگر پر جرم ثابت ہوں ۔ بانی پی ٹی آئی ، علی امین گنڈاپور و دیگر کا کال ڈیٹا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے ۔شریک ملزمان کا بیان نہ ہی گواہ کیس میں سامنے آئے۔اسد عمر کی بریت کو پراسیکیوشن نے چیلنج بھی نہیں کیا گیا اورریکارڈ کے مطابق بانی پی ٹی آئی ، علی امین گنڈاپور و دیگر پر جرم ثابت کرنے کے آثار بہت کم ہیں۔ایسے ریکارڈ پر بانی پی ٹی آئی ، علی امین گنڈاپور و دیگر کے خلاف ٹرائل چلانا عدالتی وقت کا ضیاء ہوگا۔لہذا بانی پی ٹی آئی ، علی امین گنڈاپور و دیگر کو عدم ثبوت کی روشنی میں کیس سے بری کیا جاتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں