ملتان( سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی کے ناجائز قابض جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کے خلاف سپریم کورٹ کا زبانی فیصلہ سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کے تیور بدل گئے اور ان تمام ملازمین کی فہرستیں وفاقی اداروں کو بھجوادی گئی ہیں جو ڈاکٹر اختر کالرو کے گھر، فش فارم اور دیگر زرعی زمینوں پر گزشتہ دس سال سے کام کررہے ہیں ۔ان میں اقبال نامی ملازم ان دنوں اختر کالرو کے فش فارم کا انچارج ہے اور ہیڈ محمد والا کے علاقے میں یونیورسٹی کے وائس چانسلری کے دوران خریدی جانیوالی اراضی پر پر تعیش ڈیرہ بھی بنوارہا ہے ۔جس کی خفیہ رپورٹ اعلیٰ حکام کو جاچکی ہے معلوم ہوا ہے کہ اقبال کو گزشتہ روز یونین میں بھی ڈال دیا گیا ہے۔ روزنامہ قوم میں این ایف سی یونیورسٹی کے وی سی ہائوس کی بطور گیسٹ ہائوس استعمال کرنے کی خبریں شائع ہوتی رہیں جس کی یونیورسٹی انتظامیہ تردید کرتی رہی مگر 20ستمبر2024 کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس کے استفسار پر ڈاکٹر اختر کالرو نے از خود بتایا کہ یونیورسٹی کا وی سی ہائوس وہ وی وی آئی پی گیسٹ ہائوس کیلئے استعمال کررہے ہیں جس سے روزنامہ قوم کی خبر کی تصدیق ہوگئی۔ یاد رہے کہ روزنامہ قوم نے 29اگست 2023میں وی سی ہائوس کے غیر قانونی استعمال کی خبر شائع کی تھی ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ روزنامہ قوم نے شروع ہی سے یہی موقف اختیارکئے رکھا تھا کہ این ایف سی کے وائس چانسلر اختر کالرو کی تعیناتی جوکہ 2012 میں ہوئی وہ بھی جعلی تھی اور 2018 کے بعد سے 2024تک ان کی تمام تر تعیناتی اور ان کی طرف سے لی جانے والی تنخواہ و دیگر مراعات غیر قانونی ہیں سپریم کورٹ آف پاکستان نے روزنامہ قوم کے اس موقف کی بھی تصدیق کرتے ہوئے ڈاکٹر اختر کالرو کی تنخواہیں واپس جمع کرانے کا زبانی حکم دیا ہے اور ڈاکٹر کالرو کی فوری طور پر یونیورسٹی میں انٹری پر پابندی لگادی تھی تاکہ وہ ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرسکیں اور اس بارے میں وفاقی محکمہ تعلیم کی طرف سے رجسٹرار کو بھی آگاہ کردیا گیا تھا مگر ڈاکٹر کالرو روزانہ نہ صرف یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا آفس سنبھالے ہوئے ہیں بلکہ روزانہ چار سے پانچ افراد کی بھرتیاں بھی کررہے ہیں اور یہ تمام تر بھرتیاں اپنے آبائی علاقے نواب پور کے لوگوں کی ہیں، ڈاکٹر کالرو نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ان بھرتیوں سے مستقبل میں گیلانی خاندان کیخلاف الیکشن لڑنے میں آسانی ہوگی اور کوئی بعد میں آنے والا انہیں نکال بھی دے گا تو بھی میرے ووٹ پکے ہیں۔ ڈاکٹر کالرو جوکہ گیلانی خاندان کی مہربانی سے 12سال تک این ایف سی کے غیر قانونی وائس چانسلر رہے اور کئی سال تک بی زیڈ یو کے انجینئرنگ کالج کے پرنسپل رہے ۔ اب گیلانی خاندان بارے کہہ رہے ہیںمیکوں گیلانی ہٹوائے۔






