چیف جسٹس نےیونیورسٹیزمیں قائم مقام وی سیز،رجسٹرارز،خزانچی حضرات اور قائم مقام کنٹرولرز کی تفصیلات طلب کی تھیں
رپورٹ میں اخترکالرو2020سےوی سی قرار،حقیقت میں2012سے مسلسل تعینات،2017میں فارغ بھی کیاجاچکا
رجسٹرار،کنٹرولر،خزانچی بارےبھی ہیراپھیری،وفاقی وزارت تعلیم نےرپورٹ بغیرتصدیق جمع کرادی
ملتان (سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان وائس چانسلر کے عہدے پر سالہا سال سے غیر قانونی اور ناجائز طور پر قابض اختر کالرو نے کئی سالوں پر محیط دھوکا دہی کا تجربہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس پر بھی لگانے کی کوشش کی جو بے نقاب ہو گئی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کیس نمبر سی پی 7/2024 میں 15 مئی کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز، رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولرز کی تعیناتی کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ اس بابت وفاقی وزارت تعلیم اور صوبائی وزارت تعلیم نے تمام وائس چانسلرز سے سپریم کورٹ میں تحریری طور پر جمع کرانے کے لئے کوائف اور دیگر تفصیلات طلب کر لیں اور ان تفصیلات کی روشنی میں مفصل جوابات پر مشتمل رپورٹس سپریم کورٹ جمع کروائی گئیں۔ حیران کن طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں جو رپورٹس جمع کروائی گئیں ان میں این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کے عہدے پر ناجائز قابض اختر کالرو نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو دھوکے میں رکھتے ہوئے حقیقت کے برعکس ڈیٹا جمع کروا دیا۔ اس کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قائم مقام وائس چانسلرز، قائم مقام رجسٹرارز، قائم مقام خزانچی حضرات اور قائم مقام کنٹرولرز کی تفصیلات کہ یہ اسامیاں کتنے عرصے سے خالی ہیں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی جانب سے تحریری طور پر جو تفصیلات وفاقی وزارت تعلیم کو فراہم کی گئیں ان کو وفاقی وزارت تعلیم نے بغیر تصدیق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروا دیا۔ ان جمع کروائی جانے والی رپورٹس میں لکھا گیا کہ ڈاکٹر اختر کالرو 2020 سے این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر تعینات ہیں جبکہ حقیقتاً موصوف 2012 سے مسلسل تعینات ہیں، جبکہ 2017 میں ان کو نوکری سے فارغ بھی کیا جا چکا ہے مگر ان کی وائس چانسلر کی کرسی سے برخاستگی بھی سپریم کورٹ آف پاکستان سے چھپائی گئی ۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق اسی یونیورسٹی کے رجسٹرار کی اسامی 13 جون 2019 سے خالی دکھائی گئی مگر حقیقتاً رجسٹرار کی اسامی بھی 2012 ہی سے خالی ہے۔ جعلی وائس چانسلر اختر کالرو کی تعیناتی 2012 کے بعد کوئی بھی مستقل رجسٹرار تعینات نہیں کیا گیا۔ اکتوبر 2012 میں نصر اللہ خان بابر کو ہی قائم مقام رجسٹرار پھر 2017 میں ظفر اقبال ظفر کو قائم مقام رجسٹرار، پھر 2019 میں دوبارہ نصر اللہ خان بابر کو ہی قائم مقام رجسٹرار تعینات کیا گیا جبکہ سیکشن 13(1) کے مطابق مستقل رجسٹرار کی تعیناتی سینیٹ ہی کے ذریعے سے ممکن ہےجبکہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی سینیٹ کی میٹنگز گزشتہ 12 سال میں 24 ہونی لازمی تھیں مگر 24 کے بجائے صرف ایک ہی کرائی گئی کیونکہ سینیٹ کی میٹنگ نہ کروانے کا واحد مقصد ناجائز قابض وی سی کا اپنے ناجائز کاموں کو طول دینا ہے۔ کنٹرولر کی اسامی 2020 سے قائم مقام دکھائی گئی ہے جبکہ حقیقتاً کنٹرولر کا عہدہ بھی 2012 ہی سے قائم مقام کے طور پر چل رہا ہے۔ پہلے قائم مقام کنٹرولر ظفر اقبال ظفر کو 2012 میں اضافی چارج دیا گیا تھا۔ پھر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیمیکل انجینئر رسول احمد کو 2020 میں اضافی چارج دیا گیا۔ اسی طرح خزانچی کا اضافی چارج 2012 میں ہی حسن نقوی کو دیا گیا تھا جو کہ ان کی ریٹائرمنٹ 31 دسمبر 2021 کے بعد یکم جنوری 2022 کو اضافی چارج ایک کلرک مغفور انور چغتائی کو سونپا گیا حالانکہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائے گئے جواب میں خزانچی کا عہدہ بھی 2022 سے اضافی چارج پر دکھایا گیا جبکہ یہ حقیقتاً 2012 سے ہی یہ عہدہ بھی اضافی چارج پر چلایا جا رہا ہے۔ وزارت برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے سیکرٹری محی الدین احمد وانی کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ (CMA 5934 /2024) میں بتایا گیا کہ ملتان میں قائم نیشنل فرٹیلائزرز کارپوریشن انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان میں اختر علی ملک ایک دہائی سے زائد عرصے سے وائس چانسلر، این ایف سی انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے عہدے پر سیاسی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اور انسٹی ٹیوٹ کے قواعد و ضوابط کی غلط تشریح کر کے ناجائز قابض ہیں اور اسی بابت سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے یہ حکم بھی دیا گیا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اس حکم کی وصولی کے 14 دنوں کے اندر اندر تحریری طور پر سپریم کورٹ کو وضاحت پیش کریں کہ گزشتہ 12 سال سے قابل اطلاق قانون کی خلاف ورزی کیونکرجاری ہے اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر علی ملک اگلی تاریخ سماعت پر حاضر ہونے کے پابند ہوں گے۔ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے ناجائز قابض وائس چانسلر کی سپریم کورٹ آف پاکستان کو دی جانے والی اس دھوکہ دہی کی بابت ایک درخواست بمعہ ثبوت بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروائی جا چکی ہے جو کہ ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہے۔






