حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی اور گیلانی خاندان کو ملتان میں صوبائی محکموں کی نولفٹ ، احکامات پر کورا جواب

حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی اور گیلانی خاندان کو ملتان میں صوبائی محکموں کی نولفٹ ، احکامات پر کورا جواب

حکومت پنجاب کے تقریباً تمام محکموں کے سربراہان اور انتظامی افسران کا پیپلز پارٹی اور خصوصی طور پر گیلانی خاندان کے ساتھ رویہ تبدیل، عدم تعاون کی فضا

ملتان میں پی پی کی اکثریت کے باوجود گیلانی خاندان کی طرف سے سرکاری محکموں کو بھجوائےگئےاحکامات اور سرکاری کام التوا کا شکار ،واضح بدلائوصاف محسوس

گیلانی خاندان کےقریبی ساتھی وسابق ایم پی اےکونئے تعینات اسسٹنٹ کمشنرنے جھنڈی کرادی،میں پنجاب حکومت کانمائندہ،وفاق سے کیاتعلق؟ٹکاسا جواب

خاموشی سے سابق دور میں ترقیاتی و دیگر سرکاری امور پر تحقیقات،سابق ڈی سی رضوان قدیرکیخلاف ریفرنس اینٹی کرپشن روانہ،چیف سیکرٹری کی مقدمہ درج کر نیکی اجازت

ملتان( سٹاف رپورٹر) مرکز اور پنجاب میں اتحادی حکومت کا ملتان کی حد تک اتحاد میں ہر آنے والا دن سرد مہری لارہا ہے اور ملتان میں تعینات حکومت پنجاب کے تقریباً تمام محکموں کے سربراہان اور انتظامی افسران کے پیپلز پارٹی اور خصوصی طور پر گیلانی خاندان کے ساتھ بدلے ہوئے رویوں اور عدم تعاون کی فضا نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ ملتان میں پیپلز پارٹی کی اکثریت کے باوجود گیلانی خاندان کی طرف سے سرکاری محکموں کو بھجوائے جانے والے احکامات اور سرکاری کام نہ صرف التوا کا شکار ہورہے ہیں بلکہ روکے جارہے ہیں جس سے انتظامی رویے میں واضح بدلائو ہر شہری کو محسوس ہورہا ہے ۔گزشتہ ہفتے گیلانی خاندان کے ایک بہت ہی بااعتماد ساتھی اور سابق رکن اسمبلی چند کارکنوں کے ہمراہ نئے تعینات ہونے والے ایک اسسٹنٹ کمشنر کےپاس چند معمولی نوعیت کے کاموں کیلئے گئے اور مذکورہ اسسٹنٹ کمشنر کو بتایا کہ وہ چیئرمین سینیٹ کے نمائندے کے طور پر آئے ہیں اور چند ضروری امور جوکہ آپ سے متعلقہ ہیں ان کو حل کرانا ہے جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ میں حکومت پنجاب کا نمائندہ ہوں میرا وفاق سے کیا تعلق، مجھے ہدایات حکومت پنجاب سے لینی ہیں اور پنجاب حکومت کی طرف سے میرٹ اور قاعدے قانون کے مطابق کام کرنے کی سختی سے ہدایات ہیں ۔مجھے ایسی کوئی ہدایت نہیں دی گئی کہ میں میرٹ سے ہٹ کر کام کروں اس صورتحال پر چہلم کے انتظامات کے سلسلے میں وہاں موجود ایک شہری نے مداخلت کی اور کہاکہ گیلانی خاندان نہ صرف محسن ملتان ہے بلکہ ان کے پاس اسمبلی میں بھی اکثریت ہے جس پر بھی بات نہ بن سکی اور چیئرمین سینیٹ کے نمائندے اٹھ کر واپس چلے آئے ۔ دوسری طرف خاموشی سے سابق دور میں ملتان کے ترقیاتی و دیگر سرکاری امور پر تحقیقات بھی ہورہی ہیں جنہیں ظاہر نہیں کیا جارہا البتہ کمشنر ملتان مریم خان جوکہ ایماندار شہرت رکھنے والی انتہائی محتاط اور ایک ایک فائل بغور مطالعہ کے بعد منظوری کے مرحلے سے گزارتی ہیں انہوں نے سابقہ ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر کے خلاف بھرتیوں سمیت مختلف الزام پر مبنی ایک ریفرنس بھی اینٹی کرپشن کو بھجوایا ہے۔باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کی طرف سے کمشنر ملتان کے ریفرنس پر سابق ڈپٹی کمشنر ملتان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے اور اس میں بہت سے سیاسی نام بھی سامنے آئیں گے کیونکہ الیکشن سے قبل بھرتیوں میں مبینہ طور پر امیدواروں سے پیسے لئے گئے ہیں جن کے ثبوت بھی تفتیشی ادارے کو مل چکے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق کمشنر ملتان شان الحق کے خلاف بھی کرپشن کے ڈھیروں ثبوتوں پر مقدمہ بھی درج ہوا تھا مگر پھر پردہ پوشی کردی گئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں