وزیر اعلیٰ کے حکم کا ذکر کر کےپولیس کی طرف سےمظفر گڑھ، خانیوال، لودھراں،دیگر اضلاع میں دھڑا دھڑ منشیات کے الزام میں لوگوں کو پکڑا اور بھاری رشوت لے کر چھوڑا جار ہا
خانیوال، لودھراں میں کاریگر تھانے والوں نے ایک ہی جیسے درجنو ںمنشیات کے پیکٹ بنوا رکھے جو برآمدمختلف تھانوں، افراد سے ہوتے مگر حسن اتفاق سے ایک ہی جیسے ہوتے
تلمبہ کے ایس ایچ او مرزا رحمت نے کبیر والا کی منشیات فروش آسیہ اور نگینہ کی خدمات لے رکھیں جومختلف گھروں میں منشیات رکھوا تی اور برآمد کر وا کر 25 فیصد حصہ وصول کرتی
منشیات برآمد گی کے باوجود ملزمان چھوڑ نے پرپولیس کی عجب وضاحتیں، صوبہ کومنشیات سے پاک کرنے کی پنجاب کی منفرد مہم کو پولیس نے ہر طرح سے ناپاک کر کے رکھ دیا
ملتان(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی طرف سے پنجا ب کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے شروع کی گئی ’’ منشیات فری پنجاب‘‘ کو پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا کر صوبے بھر میں لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اور سب سے بری صورتحال جنوبی پنجاب میں ہے جہاں مظفر گڑھ، خانیوال، لودھراں سمیت بعض اضلاع میں دھڑا دھڑ منشیات کےالزام میں لوگوں کو پکڑا اور بھاری رشوت لے کر چھوڑا جار ہا ہے ۔ملتا ن پولیس کے سر براہ نے ابتدا ہی میں اس صورتحال پر کنٹرول کر لیا جس سے ملتان کے شہر ی کسی حد تک محفوظ رہ گئے۔ البتہ ملتان رینج کے اضلاع خانیوال، وہاڑی اور لودھراں میں پولیس نے اندھیر مچا رکھا ہے۔ پولیس اہلکار باقاعدہ وزیر اعلیٰ کے احکامات کا ذکر کرتے ہوئے شریف شہریوں اور کئی کئی سال سے پہلے تو بہ تائب ہونے کے علاوہ منشیات بیچنے والوں کو بھی قانونی و غیر قانونی حراست میں لینا شروع کر رکھا ہے۔ ضلع خانیوال اور لودھراں میں کاری گر تھانے والوں نے ایک ہی جیسے درجنو ںمنشیات کے پیکٹ بنوا رکھے ہیں جو برآمد تو مختلف تھانوں اور مختلف افراد سے ہوتے ہیں مگر حسن اتفاق ہے کہ ایک ہی جیسے ہوتے ہیں جبکہ تلمبہ تھانہ کے بدنام ایس ایچ او مرزا رحمت جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ قبرستانوں اور آستانوں سے بھی منتھلیاں لیتے ہیں نے اس منشیات فری مہم کو کامیاب بنانے کے لئے کبیر والا کی دو منشیات فروش عورتوں آسیہ اور نگینہ کی خدمات مستعار لے رکھی ہیں جس کے ذریعے وہ مختلف گھروں میں منشیات رکھوا تی ہیں اور پھر 100 فیصد درست نشاندہی کے ذریعے برآمد کر وا کر پولیس سے 25 فیصد حصہ وصول کرتی ہیں۔ تلمبہ پولیس نے انہی دونوں عورتوں کی معاونت سے کچھی موڑ کے رہائشی محمد طاہر ولد محمد اسلم کے گھر منشیات اور ترازو خود جا کر خواتین سے ملاقات کے بہانے رکھا اور وہیں سے فون کر کے پولیس سے ریڈ کرادیا اور پھر منشیات برآمدگی کر لی اور طاہر کو گھر سے گرفتار کر کے تھانے لا کر 4 لاکھ20 ہزار میں بولی ختم ہو گئی جو کہ مبینہ طو پر 7 لاکھ سے شروع ہونی تھی۔ طاہرسے ڈیل کے بعد جب اسے چھوڑ دیا گیا اور 20ہزار ریڈ مارنے کیلئے اخراجات کی مد میں لیا گیا اس طرح 4 لاکھ کی رقم 4 لاکھ 20 ہزار ہو گئی۔ اگلے روز ہی انہی عورتوں کے ذریعے یہی پیکٹ یاسر نامی ایک شخص کے ڈیرے پر رکھوا دی گئی جہاں سے 5 کلو چرس برآمد ہوئی اور وہاں سے مدثر محبوب اور عظیم کو منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار کیا مگر 10 لاکھ میں جب معاملات طے ہو گئے تو تینوں بھائیوں کو چھوڑ دیا گیا۔ اس پر ایس ایچ او سے موقف لیا گیا کہ بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہو ئی تو ملزمان کیسے چھوڑ دیئے گئے جس پر ایس ایچ او نے صحافیوں کو بتایا کہ مخالفین سے ان معصوم شہریوںکو پھنسانے کیلئے منشیات رکھوائی تھی تاہم نہ تو مخالفین کے نام سامنے آ سکے اور نہ ہی کوئی کارروائی ریکارڈ کا حصہ بن سکی۔ معلوم ہوا ہے کہ آسیہ اور نگینہ نامی خواتین کو بھی ان کی ’’ مزدوری‘‘ اور پورا معاوضہ نہیں ملا جس پر دونوں خواتین خفا ہیں۔ یہی صورتحال دیگر اضلاع کے مخصوص اور بدنام تھانوں کی ہے جس کی وجہ سے منشیات سے پاک پنجاب جیسی منفرد مہم کو پولیس نے ہر طرح سے ناپاک کر کے رکھ دیا ہے۔






