امپورٹڈ ٹائرز ، پرس، لیدر پراڈکٹس ، بھارتی میک اپ کا سامان اور کریمیں ، نان پی ٹی اے موبائل ، غیر ملکی لیڈیز جوتیوں سمیت غیر ملکی قیمتی اشیا کےکئی شورومز بن چکے
ملتان ایئرپورٹ کاکسٹم افسرسرپرست،پہلی پروفیسر بیوی کوطلاق دیکرخاتون انسپکٹرسے دوسری شادی،پولیس سے بھی تحفظ مل گیا،دیگرمحکموں کوخودمنیج کرلیتاہے
کسٹم افسر دوسری اہلیہ کے پاس جہانیاں ہی میں رہائش پذیر ، جمعہ، ہفتہ، اتوار کووہ کاروباری معاملات خود دیکھتے ہیں ، باقی دنوں کیلئے باقاعدہ ٹیم بھرتی کررکھی ہے
ملتان ایئرپورٹ چند کسٹم افسران کی ملی بھگت سے دبئی و دیگر ممالک کیلئےپھیرے لگانے والوں کا سب سے محفوظ راستہ، نان پی ٹی اےموبائل لانے کیلئے فیورٹ
کسٹم حکام نےباقا عدہ پھیرے باز رکھے ہوئے ہیں، ٹکٹ ،رہائش اور ’’ مزدوری‘‘ بھی فراہم، براہ راست اور پارٹنر شپ پر ملتان ونواح میں آئوٹ لیٹس، شورومز بنا رکھے
دھند ے میں جہانیاں سرفہرست ہے ، غیر ملکی مال کی شاپنگ کے لئے ملتان، لودھراں، بہاولپور ، وہاڑی ، خانیوال ، جھنگ حتیٰ کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بھی خواتین آتی ہیں
ملتان( سٹاف رپورٹر) جہانیاں سمگلڈاشیا کی بڑی باڑہ مارکیٹ میں تبدیل ہوگیا،ملتان ایئرپورٹ کے ذریعےغیرقانونی سامان کی’’ امپورٹ‘‘ کی جاتی ہے،پھیرےبازملازم رکھ لئے،کسٹم حکام مالک ہیں۔جہانیاں اور گردونواح کے علاقے کسٹم حکام کی ملی بھگت سے سمگلنگ شدہ نان کسٹم اشیا کی خرید و فروخت کے حوالے سے جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا مرکز بن گئے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امپورٹڈ ٹائرز ، پرس، لیدر پراڈکٹس ، بھارتی میک اپ کا سامان اور کریمیں ، نان پی ٹی اے موبائل ، غیر ملکی لیڈیز جوتیوں سمیت غیر ملکی قیمتی اشیا کےکئی شورومز بن چکے ہیں جس کی سرپرستی ملتان ایئر پورٹ پر تعینات ایک آفیسر کررہا ہے جس نے جہانیاں میں اپنا کاروبار سیٹ ہونے پر اپنی بیوی کو طلاق دے کر ایک خاتون پولیس انسپکٹر سے دوسری شادی کی ہے جس کی وجہ سے پولیس کی طرف سے بھی اس نے براہ راست تحفظ حاصل کر رکھا ہے جبکہ دیگر اداروں کو وہ خودمینج کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کسٹم آفیسر کی پہلی اہلیہ جسے انہوں نے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا وہ زکریا یونیورسٹی میں گریڈ19 میں پروفیسر ہیں اور وہی خاتون اپنے بچوں کی دیکھ بھال کررہی ہیں جب کہ کسٹم آفیسر اپنی دوسری اہلیہ کے پاس جہانیاں ہی میں رہائش پذیر ہیں اور ہفتے میں 3 دن یعنی جمعہ، ہفتہ اور اتوار اپنے جہانیاں میں تما م کاروباری معاملات خود دیکھتے ہیں جبکہ باقی چار دنوں کے لیے انہوں نے باقاعدہ ٹیم بھرتی کررکھی ہے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ ملتان ایئرپورٹ چند کسٹم افسران کی ملی بھگت سے دبئی و دیگر ممالک کیلئےپھیرے لگانے والوں کا سب سے محفوظ راستہ بنا دیا گیا ہے۔غیر قانونی مال خصوصی طور پر نان پی ٹی اے موبائل فون لانے والوں کا پسندیدہ ایئر پورٹ ملتان ہی ہے جہاں کسٹم حکام نےباقا عدہ اپنے پھیرے باز رکھے ہوئے ہیں جو کسٹم افسران کے لیے سامان لاتے ہیں اور انہیں آنے جانے کے ٹکٹ کے علاوہ رہائش اور ’’ مزدوری‘‘ بھی دی جاتی ہے۔ ملتان شہر میں بعض ایسے افراد بھی ہیں جو بظاہر کوئی کام نہیں کرتے مگر انہوں نے ایک سال میں دبئی اور دیگر ممالک کے 30سے زائد پھیرے لگا رکھے ہیں اور انہی کے ذریعے لایا جانے والا مال فروخت کرنے کے لئے بعض کسٹم افسران نے براہ راست اور بعض نے پارٹنر شپ پر ملتان اور گردونواح میں آئوٹ لیٹس اور شورومز بنا رکھے ہیں۔ اس دھند ے میں اس وقت جہانیاں سرفہرست ہے جہاں غیر ملکی مال کی شاپنگ کے لئے ملتان، لودھراں، بہاولپور ، وہاڑی ، خانیوال ، جھنگ حتیٰ کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بھی خواتین آرہی ہیں۔






