جنوبی پنجاب میں وائس چانسلر لگوانے کے لیے دو گروپ متحرک، ایک کا تعلق ضلع خانیوال،دوسرے کاگوجرانوالہ ڈویژن سے، ایک گروہ سرکاری افسران اور دوسرا وکلا پر مشتمل
’’ایک کروڑ کا چیک دیں نام آجائے تو 4کروڑ مزید،ایک سال میں 15ملازمتیں آپ کو دینا ہونگی‘‘لاہور کے ایک امیدوار کو کال،ذمہ دار افسر کا فہرستیں پہلے سے تیار ہونیکا انکشاف
رحیم یارخان سے سابق وی سی 16 کروڑ اٹھائے پھرتے رہے ،سابق وی سی اسلامیہ یونیورسٹی انٹرویو میں تلخی کے باوجود کھیل میں ان، ملتان کے سیاستدان محمد علی شاہ، ڈاکٹر ناظر کے سپورٹر
ملتان( سٹاف رپورٹر)پنجاب بھر کی سرکاری سطح کی یونیورسٹوں کے وائس چانسلرز کے عہدوں کے لیے انٹرویوز کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا اور مصدقہ ذرائع کے مطابق انٹرویوز محض خانہ پُری ہے جبکہ فہرستیں پہلے ہی سے تیار ہیں جو کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں حتمی منظوری کے لیے بھیج دی جائیں گی۔ جنوبی پنجاب میں وائس چانسلر لگوانے کے لیے دو گروپ اچھے خاصے متحرک رہے اور ان متحرک افراد میں سے ایک کا تعلق ضلع خانیوال سے اور دوسرے کا تعلق گوجرانوالہ ڈویژن سے ہے۔ ان میں سے ایک گروہ سرکاری افسران اور دوسرا وکلا پر مشتمل ہے۔ صورتحال گزشتہ چند روز میں اس حد تک دگرگوں ہو چکی تھی کہ امیدواروں کو فون کالز پر پیشکش کی جاتی رہی کہ ڈیل کریں اور عہدہ حاصل کریں۔ ایک امیدوار نے تو ایک کروڑ ٹوکن بھی طے کرکے کل7 کروڑ میں ڈیل کی اور ڈیل کےلیے شیڈول کے مطابق لاہور پہنچا مگر اس کا ایک سورس پنجاب کے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں تھا جس نے روک دیا اور کہا کہ لسٹیں تیار ہو چکی ہیں۔ انٹرویو تو محض اس لیے ہورہے ہیں کہ اگر کوئی بہت ہی روٹ کلاس امیدوار آگیا تو وہ کہیں عدلیہ سے رجوع نہ کرے۔ اس لیے دس فیصد کا مارجن ہے کہ ایک دو امیدوار پریشر کی صورت میں میرٹ پر لے لیے جائیں۔ حیران کن طور پر ایک امیدوار سے کسی نے صوبائی وزیر تعلیم کے نام پر رابطہ کیا مگر جس امیدوار سے رابطہ کیا گیا اس کا صوبائی وزیر تعلیم کے خاندان سے پرانا رابطہ تھا تواس نےبات کھول دی جس پر صوبائی وزیر نے سختی سے نہ صرف تردید کی بلکہ ایچ ای سی کو بھی آگاہ کیا ۔ ایک امیدوار کو لاہور سے اس لاہور ہی میں واقع گھر سے نمبر پر نامعلوم کال آئی کہ ایک کروڑ کا چیک دے دیں نام آجائے تو 4کروڑ مزید اور ایک سال میں 15ملازمتیں آپ کو دینی ہوں گی مگر سورس کی تصدیق اور اس کے رابطوں کی تفصیل معلوم نہ ہونے پر انہوں نے معذرت کرلی۔ بتایا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے جس ذریعے نے تصدیق کی کہ فہرستیں پہلے ہی سے تیار ہیں وہ عام ملازم نہیں بلکہ ذمہ دار آفیسر ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ رحیم یارخان سے سابق وائس چانسلر مبینہ طور پر 16 کروڑ اٹھائے پھرتے رہے ہیں جبکہ اربوں روپے کی کرپشن اور غیر اخلاقی معاملات پر آنکھیں بند رکھنے والے اسلامیہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر سب سے بڑی پیشکش کے ساتھ انٹرویو کے دوران تلخی کے باوجود ابھی کھیل سے باہر نہیں ہوئے، البتہ تمام تر سفارشوں اور ہتھکنڈوں کے باوجود ڈاکٹر کالرو 65سالہ عمر کی حد کراس کرنے کی وجہ سےآؤٹ ہو چکے ہیں، وہ زکریا یونیورسٹی میں وائس چانسلر شپ کے امیدوار تھے۔ اگلے ہفتے سے انٹرویوز کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا جس میں خواتین یونیورسٹیوں اور پھر چھوٹی یونیورسٹیوں کے لیے وائس چانسلرز کے انٹرویوز ہوں گے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف سیاست دان محمد علی شاہ اور ڈاکٹر ناظر لابر کے سپورٹر ہیں۔







