نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز ، اقرا نیشنل یونیورسٹی،نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن ، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی اور غازی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ نے نام نہ بدلے
نیشنل کے نام سے فیڈ فیکٹریاں، فلور ملز ، مینوفیکچرنگ اداروں پربھی فیصلے کا اطلاق نہ ہوسکا، کوئی آفیشل لیٹرایچ ای سی یاوزارت سے نہیں ملا،: ریکٹر غازی نیشنل انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر اللّہ بخش
ایسا لفظ جس سے سرکاری ادارے کا تاثر ملے استعمال نہیں کیا جا سکتا ، کاروباری گروپوں، ملوں پر بھی اطلاق
کابینہ ڈویژن کی تمام وزارتوں، اداروں سے حکمنامہ پر عملدرآمد کی رپورٹ بھجوانے کی ہدایت
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) حکومت پاکستان نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے اپریل 2024 سےملک بھر کی تمام نجی یونیورسٹیوں اوردیگر تمام نجی اداروں کیلئے لفظ نیشنل استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس پابندی کے فوری بعد تمام نجی اداروں کے نام میں استعمال ہونے والا “نیشنل” کا لفظ ختم کروانے کی متعلقہ اتھارٹیز کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم کی ہدایت پر تمام وزارتوں اور اداروں کو بھی اس فیصلے کے متعلق آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ وزارتیں اور ادارے نجی شعبے کو کمپنیوں اور اداروں اور یونیورسٹیوں کیلئے لفظ نیشنل کا استعمال فوری رکوانے کی ہدایت دی گئی ہے،

نجی یونیورسٹیوں اور کمپنیوں میں کوئی بھی ایسا لفظ استعمال نہ کیا جائے جس سے سرکاری ادارے کا تاثر ملے۔ اس کا اطلاق متعدد کاروباری گروپوں اور ملوں پر بھی ہو گا۔ دوسری جانب کابینہ ڈویژن نے تمام وزارتوں اور اداروں سے اس حکمنامہ پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی بھجوانے کی ہدایت دی ہے،واضح رہے وزیراعظم کو شکایات تو نجی اداروں اور یونیورسٹیوں کے نام میں نیشنل کے استعمال کے حوالے سے موصول ہوئیں تھیں کہ نجی تعلیمی اور دیگر ادارے اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو لفظ نیشنل استعمال کرکے گمراہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں جو نجی یونیورسٹیاں اپنے نام کے ساتھ نیشنل کا لفظ استعمال کر رہی ہیں ان میں سن 2000 میں اسلام آباد میں قائم ہونے والی نجی یونیورسٹی نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز جس کے 4 کیمپسز چنیوٹ، کراچی ، لاہور اور پشاور میں قائم ہیں، دوسرے نمبر پر 2012 میں پشاور میں قائم ہونے والی اقرا نیشنل یونیورسٹی جس کا ایک کیمپس سوات میں بھی قائم ہے۔ تیسرے نمبر پر 1994 میں لاہور میں قائم ہونے والی نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس جس کے 3 کیمپسز ملتان ، بہاولپور اور رحیم یار خان میں قائم ہیں۔ چوتھے نمبر پر 2003 میں لاہور میں قائم ہونے والی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، اور پانچویں نمبر پر 2021 میں ڈیرہ غازی خان میں قائم ہونے والی غازی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز شامل ہیں۔ مگر حیران کن طور پر 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور نجی ادارے مسلسل اپنے نام کے ساتھ نیشنل کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح نیشنل کے نام سے فیڈ فیکٹریاں، فلور ملز اور دیگر مینوفیکچرنگ ادارے بھی ہیں جن پر اس فیصلے کا اطلاق بھی تاحال نہیں ہوا۔ اس خبر کے حوالے سے جب غازی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز کے ریکٹر ڈاکٹر اللّہ بخش ملک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کو اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی آفیشیل لیٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن یا متعلقہ وزارت سے موصول نہیں ہوا۔ جونہی باضابطہ اطلاع ملے گی تو قواعد و ضوابط پر انشااللہ عمل ہو گا







