پاکستان ہماری سوہنی دھرتی، رکھوالی سبھی کو کرنا ہو گی: میاں مقبول

ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست سے بالاتر ہو کرملک اور قوم کی خدمت کی جائے:گفتگو

برمنگھم ( نمائندہ خصوصی ) پاکستان کی تعمیر و ترقی ہر شخص کا فرض ہے، پاکستان ہماری سوہنی دھرتی ہے جس کی رکھوالی سبھی کو کرنا ہو گی، ان خیالات کا اظہار برٹش پاکستان سوشل سوسائٹی کے زیر اہتمامُ بزنس کانفرنس سے کیا گیا جس کے مہمان خصوصی ممتاز کاروباری شخصیت میاں مقبول تھے ،برمنگھم لندن سلاؤ سے معروف کاروباری شخصیات نے شرکت کر کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمارے سوہنی دھرتی ہے جسے نکھارنا سنوارنا اور ترقی کی راہ پے گامزن کرنا سب کا فرض ہے،

مہمان خصوصی میاں مقبول نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست سے بالاتر ہو کے اپنے ملک اور قومُ کی خدمت کی جائے، برطانیہ ہمارا ملک ہے سب سے پہہلے ہمیں برطانیہ کی ترقی خوشحالی اور امن کے لیے جدوجھد کرنا ہو گی پاکستان ہمارے دل کی گہرائیوں میں بستا ہے جس کی آبیاری بھی ہمارا فرض ہے پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان ہماری پہچان پاکستان پر جان بھی قربان پاکستان اللہ تعالیٰ کا وہ تحفہ ہے جس کا اگر جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں اِس جیسی نعمت کسی قوم کے حصے میں نہیں آئی ہو گی جو برصغیر کے مسلمانوں کو 14اگست 1947 ، 27رمضان المبارک 1366 ہجری میں شب ِقدرکو نصیب ہوئی۔ پاکستان ہمیں پلیٹ میں سجا کر نہیںدیا گیا تھا

بلکہ طویل جدوجہد کے بعد ہمیںیہ ملک ملاہے ۔ پاکستان ایک ملک کی سرزمین کا نام ہی نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے جس میں اسلامی تشخص کی بنیاد اور اُس بنیاد پر اسلام کے قلعے کی عمارت کی تعمیر ہوئی انھوں نے کہا کہ آئیے سب ملکر پاکستان اور پاکستان کے اداروں کو مضبوط کریں برٹش پاکستان سوشل سوسائٹی کے صدر منور چیچی چیئرمین محمد قیصر چچی اور جنرل سیکریٹری محمد علی نے کہا کہ پاکستانیوں کے جذبہ حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی قومی منصوبہ ہو یا کسی ہسپتال کی تعمیر کے لئے عطیات ہوں یا ڈیم کے لئے فنڈز، ایدھی صاحب کی خدمتِ خلق کی اپیل ، قرض اتاروملک سنوارو کا نعرہ ہو، پاکستانی پیسوں کی برسات کر دیتے ہیںصرف پاکستان میںرہنے والے شہری ہی نہیں بلکہ بیرونِ ممالک میں مقیم پاکستانی بھی اِن عطیا ت کوجمع کروانے والوںمیں سرگرم ہوتے ہیں

۔2005 ء کے زلزلے میں زلزلہ زدگان کی مدد ہو یا آبادکاری ، سیلاب کی تباہ کاریوں میں سیلاب زدگان کی مدد ہویا دوسرے کسی حادثے میں نقصانات، متاثرین کی مدد کرنے میں ہر کوئی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔16 دسمبر 2014 کا APS پشاور کا سانحہ اجتماعی غم تھا پاکستان کی ہر آنکھ اشکبار تھی بلکہ کئی روز تک فضا اور دل غم سے بوجھل رہے ۔ہر خوشی غمی کو ہم پاکستانی اجتماعی طور پر مناتے ہیں اورسیز پاکستان دور رہ کر بھی پاکستان کے بہت قریب رہتے ہیں بلکہ ان کا دل پاکستان میں ہی بستہ ہے ہمیں اپنے ملک اور ادروں سے پیار ہے بلکہ محبت ہے صحافی وقار ملک نے کہا کہ ادروں کی سالمیت ان کا وقار اور دلوں میں ان کی محبت ہی ہمیں کامیابی کی طرف راستہ دکھلاتی ہے دنیا کا کوئی ملک اپنے اداروں کے خلاف نہ بات کرتا ہے نہ پروپیگنڈہ ہمیں دیار غیر میں رہ کر اہنے ملک اور اہنے اداروں کا تحفظ کرنا ہو گا تقریب کے اختتام پر میاں مقبول نے اپنے وسیع و عریض گھر میں چاۓ پارٹی کا اہتمام کر رکھا تھا جھاں ان کے صاحبزادے محمد ظھیر نے انتہائی محبت بھرے انداز میںُ مہمانوں کی تواضع کی ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں