قائم مقام وائس چانسلربھرتیاںکرنے کا اختیار نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود کئی رجوانوں سے بھرتیوں کے لئے رجوع،اختیارات بتانے والوں کو’’صلواتیں‘‘
ڈاکٹر اشتیاق نے 3 ماہ گزرنے کے باوجود سینڈیکیٹ اجلاس کے منٹس جاری نہ کئے، 7مئی کو ریگولر وی سی کے انٹرویو ، 8 مئی کو قائم مقام تعیناتی کا عرصہ بڑھا لیا
سینڈیکیٹ کی ہدایات کے باوجودایکٹ کا غیر قانونی استعمال، ڈاکٹر رجوانہ وائس چانسلر کی مستقل اسامی کیلئے اہل بھی نہ تھے، نام انٹرویو لسٹ میں شامل ہی نہ تھا
ملتان (قوم ریسرچ سیل) کئی سال کی محنت کرنے، ناجائز قابض غنڈہ عناصر سے یونیورسٹی کی زمین کا قبضہ واپس لینے، دن رات پہرہ دے کر چند کھٹارہ سے کمروں پر مشتمل ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان کو قلیل ترین عرصے میں عالیشان کیمپس اور بین الاقوامی پہچان دے کر ریٹائرہونے والے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر آصف علی راؤ کی محنت اور خلوص پر لاقانونیت کر گرد ڈالنے اورذاتی مفادات کو تعلیمی مفادات پر قربان کرنے کا سلسلہ ڈاکٹر اشتیاق رجوانہ نامی عارضی وائس چانسلر نے چارج سنبھالتے ہی مستقل بنیادوں پر شروع کر دیا ۔ عارضی اور قائم مقام وائس چانسلر کسی بھی طور پر بھرتیاںکرنے کا اختیار نہیں رکھتے مگر اس کے باوجود کئی رجوانوں سے موصوف بھرتیوں کے لئے رجوع کئے بیٹھے ہیں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور سینڈیکیٹ کی واضح ہدایات ہیں کہ عارضی وائس چانسلر کسی بھی قسم کی عارضی، ڈیلی ویجز اور مستقل تعیناتی کسی بھی عہدے پر نہیں کر سکتے مگر سینڈیکیٹ کی واضح ہدایات کے باوجود اشتیاق رجوانہ نے زرعی یونیورسٹی کے سیکشن (3)12 2013 ایکٹ کا غیر قانونی استعمال کرکے ترقی کی منازل طے کرنا شروع کر رکھی ہیں اور وہ یونیورسٹی میں نت نئے بحران پیدا کر رہے ہیں، اگر نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے قائم مقام وی سی ملک اشتیاق رجوانہ کو کوئی انتظامی امور پر متعین ماتحت قوائد و ضوابط بتانے کی کوشش کرے کہ غیر قانونی بھرتیاں نہ کی جائیں اور یونیورسٹی کے محدود وسائل سے وی سی ہاؤس کے ساتھ اس جیسی نئی رہائش گاہ بنانے کی قانون کے مطابق مخالفانہ رائے دے تو ڈاکٹر رجوانہ ماتحت عملے کی رج کر بے عزتی فرماتے اور دھمکیاں دینے پر اتر آتے ہیں، ذرائع کے مطابق 9 مارچ کو سینڈیکیٹ نے قائم مقام وائس چانسلر ملک اشتیاق احمد رجوانہ کو وی سی ہاؤس میں رہائش اختیار کرنے اور غیر ضروری بھرتیوں جیسے کام سے تحریری طور پر روک دیا تھا مگر انہوں نے تین ماہ گزرنے کے باوجود سینڈیکیٹ کے اجلاس کے منٹس ہی جاری نہ کیے۔ بتایا گیا ہے کہ 7 مئی کو ریگولر وائس چانسلر کے انٹرویو ہوئے اور اس کے اگلے ہی روز 8 مئی کو ڈاکٹر اشتیاق رجوانہ نے ہائی کورٹ سے سٹے آرڈر لے کر اپنی تعیناتی بطور قائم مقام وی سی کا عرصہ بڑھا لیا۔جبکہ ڈاکٹر رجوانہ وائس چانسلر کی مستقل اسامی کے لیے اہل بھی نہ تھے، اسی لئے ان کا نام انٹرویو لسٹ میں شامل ہی نہ تھا۔تعلیمی و سماجی حلقوں کی جانب سے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کی استدا کی جا رہی ہے تاکہ یہ ادارہ بہترین ریسرچ اور تعلیمی میدان میں سابقہ روایات کو جاری رکھ سکے۔
اس حوالے سے ترجمان ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان ریاض ہراج نے اپنے موقف میں کہا کہ عدالت میں جانا وائس چانسلر کا آئینی حق ہے جو انہوں نے استعمال کیا جبکہ دیگر معاملات بھی آئین و قانون کے مطابق سرانجام دیے جارہے ہیں۔







