بزنس ایڈمنسٹریشن، کمپیوٹر سائنس، انگلش، اردو، اکنامکس، ایجوکیشن، سائیکالوجی، سوشیالوجی، میتھ، سٹیٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن ودیگرشعبے شامل
سینکڑوں طلبا و طالبات کی ڈگریاں کنٹرولر اور ریکٹر کے دستخط کیلئے لاہور کیمپس بھجوائی جاتی ہیں، طالبہ کی ایم فل انگلش ٹرانسکرپٹ سےانکشاف
اجازت نہ ہوتی توڈگریوں کی تصدیق کیسےہو رہی: ڈائریکٹر میاں جہانگیرکی ڈھٹائی،تعلیمی نظام سے کھلواڑ،ایچ ای سی کارکردگی سوالیہ نشان
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) جنوبی پنجاب کے دو بڑے شہروں ملتان اور بہاولپور میں لاہور کے نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریٹریشن اینڈ اکنامکس (این سی بی اے ای) کے ملتان اور بہاولپور کیمپس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے اجازت نہ ہونے کے باوجود ایم فل کے غیر قانونی داخلوں کا گھنائونا کاروبار سامنے پر جب نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس کے کیمپس ڈائریکٹر میاں محمد جہانگیر سے موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہاں سے سینکڑوں طلباو طالبات ڈگریاں لے رہے ہیں جبکہ 10 مئی کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی ایم فل اور پی ایچ ڈی لسٹ میں کہیں بھی نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان اور بہاولپور کیمپس کو ایم فل داخلوں کی اجازت نہیں ہے۔ کیمپس ڈ ائریکٹر کے مطابق اگر اجازت نہ ہوتی تو ایچ ای سی ان کی جاری کردہ ڈگریوں کی باقاعدہ تصدیق کیسے کر رہی ہے۔ تفصیل کے مطابق نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان اور بہاولپور کیمپسز عرصہ دراز سے جن پروگرامز میں ایم فل کروا رہے ہیں ان میں بزنس ایڈمنسٹریشن، کمپیوٹر سائنس، انگلش، اردو، اکنامکس، ایجوکیشن، سائیکالوجی، سوشیالوجی، میتھ، سٹیٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن ،پاکستان سٹڈیز، پولیٹیکل سائنس اور اسلامک سٹڈیز شامل ہیں۔ حیران کن طور پر ایچ ای سی کی جاری کردہ تازہ ترین آفیشل لسٹ کے مطابق نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس ملتان اور بہاولپور کیمپسز کو کسی بھی ایم فل پروگرام میں طلبا و طالبات کے ایڈمیشن کرنے کی کسی بھی طرح اجازت نہیں ہے۔ یہ ایچ ای سی اور پنجاب گورنمنٹ کے تعلیمی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ یہ ڈگریوں کی فروخت کا عمل گزشتہ کافی دہائیوں سے جاری ہے ۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی ایک طالبہ کی ایم فل انگلش ٹرانسکرپٹ کا عکس واضح ہے کہ تعلیم تو سب کیمپس ملتان سے کروائی گئی ہے مگر ایچ ای سی لسٹ میں این سی بی اے ای ملتان کیمپس کے لئے ایم فل کا این او سی اجازت نامہ نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ طالبہ سمیت سینکڑوں طلبا و طالبات کی ڈگریاں کنٹرولر اور ریکٹر کے دستخط کے لیے نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس لاہور کیمپس بھجوائی جاتی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ملتان کیمپس کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن کا این او سی نہ ہونے کے باعث اس طرح سے ڈگری جاری کرنا تعلیمی نظام کے ساتھ ایک بہت بڑا کھلواڑ اور جعلسازی کے زمرے میں آتا ہے دوسری طرف ایچ ای سی کا ایسی غیر قانونی ڈگریوں کو تصدیق کرنا از خود ایچ ای سی پر ایک سوالیہ نشان اور ان الزامات کو تقویت دیتا ہے جو مبینہ طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن پر تسلسل سے لگتے ہیں۔







