گندم امپورٹ سکینڈل

گندم امپورٹ سکینڈل, اہم ترین شخصیت کے عزیزبیوروکریٹ کوکلین چٹ،بیگناہ پس گئے

 چند افسران کی معطلی نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیئے، ابتدائی تحقیقات کا رخ ہی تبدیل ہوگیا،’’قوم‘‘ کے8سوالات

پلاننگ کےتحت امپورٹ لائسنس کے اتھارٹی افسر سہیل شہزادکا ٹرانسفر،سیکرٹری فوڈسکیورٹی محمداحمدمحمودنےبلوچستان کےقاسم خان کاکڑکوڈائریکٹرایڈمن لگادیا، انہوں نے برآمدکاراستہ ہموارکیا

معطل افسرسہیل شہزاداور ڈاکٹر وسیم کامعاملےسےدورکابھی تعلق نہیں،کیپٹن (ر) محمد احمد محمودنندی پورپاورسٹیشن،اسلام آبادرنگ روڈکرپشن منصوبےمیں بھی ملوث،ہربارمکھن سے بال کی طرح نکل گئے

ملتان(میاں غفار سے) گندم امپورٹ سکینڈل میں چند افسران کی معطلی نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں جن سے ابتدائی تحقیقات کا رخ ہی تبدیل ہو گیا ہے۔ روزنامہ’’قوم‘‘ کوجو معلومات ملی ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں ۔
1۔25 ستمبر کو منسٹری آف فوڈ سکیورٹی سے محمد سہیل شہزاد کو ٹرانسفر کر کے پاکستان زرعی ر یسرچ سٹیشن شنکیاری تعینات کر دیا گیا۔ محمد سہیل شہزاد ہی وہ شخص تھے جنہوں نے گندم کی امپورٹ کا لائسنس دینا ہوتا ہے۔ ان کے بارے مشہور ہے کہ وہ میرٹ پر کام کرتے ہیں ۔ سہیل شہزاد کی جگہ سیکرٹری فوڈ سکیورٹی محمد احمد محمود نے بلوچستان زرعی تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر محمد قاسم خان کاکڑ کو 23 نومبر 2023 کو ڈیپوٹیشن پر لا کر رولز کو روندتے ہوئے ڈائریکٹر ایڈمن لگا دیا اور پھر دوبارہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈائریکٹر ٹیکنیکل کورنٹائن کا 22 دسمبر 2023 کو چارج دے دیا گیا اور یہ سارا پلان ایک منظم طریقہ کار کے تحت مرحلہ وار اپنایا گیا۔
2۔ محمد قاسم خان کاکڑ نے بلوچستان سے آ کر پاکستان میں گندم کی برآمد کا راستہ ہموار کیا۔ قاسم خان کاکڑ نے گندم امپورٹ کی راہ ہموار کر دی اور گندم کی امپورٹ شروع ہو گئی تو اُسے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر رول 5 کے تحت ایف آئی آر نمبر 4/2024 درج کرکے ایف آئی آر درج کرکے ایف آئی اے کراچی نے 23 فروری 2024 كکو گرفتار کر لیا ۔
3۔ سہیل شہزاد جنہیں گندم سکینڈل میں معطل کیا گیا ہے وہ تو اس تمام دورانیے میں موجود ہی نہ تھے تو ان پر ذمہ داری کیسے ڈالی جا سکتی ہے۔
4۔ یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ نندی پور پاور سٹیشن کرپشن کیس کے مرکزی کردار بھی یہی کیپٹن (ر) محمد احمد محمود ہی تھے اور عمران خان کے دور حکومت میں اسلام آباد رنگ روڈ منصوبے میں کرپشن سکینڈل میں بھی مبینہ طور پر انہی کا نام لیا جاتا رہا ہے ۔ یہی موصوف 29 اگست 2023 سے 28 جنوری 2024 تک وفاقی سیکرٹری برائے فوڈ سکیورٹی تھے اور تمام تر امپورٹ کی منظوری انہی کی سیکرٹری شپ کے دوران ہوئی مگر وہ ہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی کلین چٹ لینے میں کامیاب رہے۔
5۔ اسی طرح ڈاکٹر وسیم جو کہ زرعی کمشنر فوڈ سکیورٹی تھے انہیں تو وفاقی سیکرٹری فوڈ سکیورٹی نے پہلے ہی ٹرانسفر کرکے کھڈے لائن لگا دیا گیا تھا اور زرعی کمشنر کا چارج بھی محمد قاسم کاکڑ ہی کو دیا گیا تھا جو کہ بعد ازاں گرفتار بھی ہو گئے۔ ڈاکٹر وسیم کا ٹرانسفر ہونے کے بعد گندم کی امپورٹ کی اجازت سے دور کا بھی تعلق باقی نہیں رہا مگر انہیں بھی معطل کر دیا گیا حالانکہ جن دنوں گندم لانے والے بحری جہازوں کی کلیئرنس ہو رہی تھی ڈاکٹر وسیم تو تبدیل ہو چکے تھے۔
6۔ یہ بھی سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ جو بحری جہاز کیڑوں اور فنگس سے بھری گندم انسانوں کے لئے تو درکنار جانوروں کے لئے بھی مضر ہے۔ وہ جہاز کراچی بندرگاہ پر موجودہ حکومت میں روک لیا گیا تھا مگر حیران کن طور پر وہ بھی ان لوڈ ہو گیا اور فنگس سے بھری یہی گندم بھی ملک بھر میں باآسانی سپلائی ہو گئی۔

7۔جن افسران کو معطل کیا گیا ہے وہ گندم امپورٹ کے تمام تر پراسس میں شامل ہی نہ تھے اور نہ ہی کسی جگہ ان کے دستخط موجود ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی یا ایف آئی آر پر سوالیہ نشان اٹھیں گے۔

8۔ کیپٹن (ر) محمد احمد محمود جو کہ پاکستان کی ایک سابق اہم ترین شخصیت کے قریبی تعلق داروں میں سے ہیں وہ اسلام آباد رنگ روڈ سکینڈل میں زیر تفتیش بھی رہے مگر رنگ روڈ سکینڈل کا مرکزی کردار ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی اور وہ مکھن سے بال کی طرح آسانی سے نکل گئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں