مستقل وائس چانسلرز تعیناتی :گورنرکےپی کاوزیراعلیٰ کوخط،وفاقی یونیورسٹیزمیں بھی صورتحال ابتر

مستقل وائس چانسلرز تعیناتی :گورنرکےپی کاوزیراعلیٰ کوخط،وفاقی یونیورسٹیزمیں بھی صورتحال ابتر

پچیس پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کےوائس چانسلرز کی تقرری میں طویل تاخیر سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں، سنگین انتظامی، تعلیمی اور مالیاتی چیلنجزدرپیش:خط کامتن

سپریم کورٹ نے بھی اسی بابت وفاقی اور صوبائی حکومتوں سےرپورٹ طلب کر رکھی،تعلیمی حلقوں کی وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سےمسئلہ دورکرنےکی درخواست

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کے حوالے سے خط لکھ دیا گیا جس کے متن کے مطابق خیبر پختونخوا کی پچیس پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو متاثر کرنے والے ایک نازک مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وائس چانسلرز کی تقرری میں طویل تاخیر نے ان اداروں میں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہوئے سنگین انتظامی، تعلیمی اور مالیاتی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس سے کہیں بہتر صورتحال پنجاب میں ہے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔خیبر پختون خوا یونیورسٹیز ایکٹ، 2012 (2016 تک ترمیم شدہ) کے سیکشن 12(3) کے مطابق “نئے وائس چانسلر کے انتخاب کا عمل موجودہ عہدے کی میعاد ختم ہونے سے چھ ماہ قبل شروع کیا جائے” تاہم اکیڈمک سرچ کمیٹی کی سفارشات کے باوجود دی گئی فہرست کے مطابق وائس چانسلرز کے لئے امیدواروں کی حتمی منظوری کا عمل شروع نہیں کیا گیاجس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں پشاور ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن نمبر 2523/2024 میں قرار دیا کہ “ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجیبنوں کافی عرصے سے رجسٹرار، وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کے بغیر ہی کام کر رہی ہے۔” کہ ان آسامیوں کو پر کرنے کے لیے سرے سے کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ان حقائق کی روشنی میں، میں خیبر پختونخوا کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو درپیش انتظامی، مالی اور تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیتا ہوں۔ فوری کارروائی کرنے میں ناکامی صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور اس کی قائم کردہ خلاف ورزی کی وجہ سے پشاور ہائی کورٹ کی ناراضگی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں ایسی شاید ہی کوئی درخواست دائر کی گئی ہو۔ یاد رہے کہ اسی بابت سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے وائس چانسلرز کی تعیناتی کے حوالے سے رپورٹ طلب کر رکھی ہے کیونکہ وفاقی یونیورسٹیوں میں بھی مستقل وائس چانسلرز ، مستقل رجسٹرار اور مستقل کنٹرولر کے حوالے سے کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔تعلیمی حلقے وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی سیکرٹری محی الدین احمد وانی سے درخواست کرتے ہیں وفاقی یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز ، مستقل رجسٹرار ، مستقل کنٹرولر ، مستقل خزانچی کی تعیناتی کے حوالے سے جلد از جلد پراسس مکمل کریں تاکہ وفاق کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو درپیش انتظامی، مالی اور تعلیمی بحران سے نمٹا جا سکے۔وفاقی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری میں طویل تاخیر نے ان اداروں میں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہوئے سنگین انتظامی، تعلیمی اور مالیاتی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں