یونیورسٹیوں میں غیر ترقیاتی گرانٹ کا بڑا حصہ ملازمین کی پنشن پر خرچ ہو جانے کی وجہ سے اساتذہ کیلئے سروس سٹرکچر میں اہم نوعیت کی بنیادی تبدیلیوں پر کام شروع
ریٹائرمنٹ کی عمر کا بھی ازسرنو جائزہ،ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے افسران اور چند وائس چانسلرز پر مشتمل کمیٹی نئی تجاویز پر مبنی سروس سٹرکچر کو حتمی شکل دے رہی
سرکاری جامعات کی طرف سےپنشن فنڈ قائم نہ ہونے کی وجہ سے ایچ ای سی کی سالانہ 65 ارب کی غیر ترقیاتی گرانٹ کا 40 فیصد ملازمین کی پنشن پر خرچ ہو رہا
حتمی مشاورت کیلئے تمام تجاویز اور نکات کو فنانس ڈویژن میں لے کر جا رہے ، جس کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن میں پیش کیا جائے گا: چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد
ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی وفاقی اور صوبائی سطح کی تمام سرکاری و نیم سرکاری یونیورسٹیوں میں بڑھتی ہوئی سالانہ غیر ترقیاتی گرانٹ کا ایک بڑا حصہ ملازمین کی پنشن پر خرچ ہو جانے کی وجہ سے اور تعلیمی استبداد مسلسل گرنے کی وجہ سے یونیورسٹی اساتذہ کے لئے سروس سٹرکچر میں اہم نوعیت کی بنیادی تبدیلیوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے اور اس میں ریٹائرمنٹ کی عمر کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے گا، فیڈرل ہائی ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے نیا سروس سٹرکچر جلد اور بڑی تبدیلیوں کے ساتھ سرکاری جامعات میں لاگو کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے اپنے افسران اور چند سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز پر مشتمل کمیٹی نئی تجاویز پر مبنی سروس سٹرکچر کو حتمی شکل دے رہی ہے۔اس کمیٹی کی تجاویز کے مطابق ابتدائی طور پر ملک بھر کی سرکاری جامعات میں لیکچرر کی ریگولر اسامیاں ختم کی جا رہی ہیں جبکہ نئے سروس سٹرکچر میں اساتذہ اس بات کے پابند ہوں گے کہ پروویڈنٹ فنڈ کی طرز پر اب پنشن فنڈ بھی ان کی تنخواہ سے منہا کیا جائے گا۔کمیٹی کی مذکورہ تجاویز کو وفاقی محکمہ خزانہ کی مشاورت سے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں منظوری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جس کے بعد اسے جامعات کے حوالے کیا جا سکے گا۔ ذرائع کے مطابق ایچ ای سی آئندہ بجٹ کے لیے جامعات کو اس امر کا پابند کرنے کی خواہش بھی رکھتی ہے کہ متعلقہ سرکاری جامعات غیر ترقیاتی گرانٹ کو پنشن فنڈ کے طور پر مزید خرچ کرنے سے گریز کریں۔ادھر وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ ہم اس سلسلے میں حتمی مشاورت کے لیے اس طرح کے تمام تجاویز اور نکات کو فنانس ڈویژن میں لے کر جا رہے ہیں جس کے بعد اسے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں پیش کیا جائے گا۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ محتاط اندازے کے مطابق گورنمنٹ سیکٹر کی جامعات کو دی جانے والی ایچ ای سی کی سالانہ 65 ارب روپے کی غیر ترقیاتی گرانٹ کا تقریباً 40 فیصد جامعات اپنے ملازمین کی پنشن پر خرچ کر رہی ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ سرکاری جامعات اپنا پنشن فنڈ قائم نہیں کر سکی ہیں جس سے پنشن ادا کی جا سکے اور دیگر مدات کی گرانٹ پنشن مد میں جا رہی ہے۔چیئرمین ایچ ای سی نے واضح کیا کہ وفاق کی جانب سے صوبائی جامعات کو گرانٹ کی فراہمی بند نہیں کی جا رہی، ایچ ای سی نے اگلے مالی سال کے بجٹ کے لیے فنانس ڈویژن سے 125 ارب روپے مانگے ہیں تاہم بجٹ میں کتنی گرانٹ منظور کی جاتی ہے اس بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔چیئرمین ایچ ای سی کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ 6 سال سے سرکاری جامعات کے سالانہ بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ اس دوران صرف تنخواہوں میں 135 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔واضح رہے کہ ملکی جامعات میں سے بیشتر میں پنشن فنڈ سرے سے قائم نہیں ہے اور یہ جامعات مجموعی طور پر ہزاروں ملازمین کو پینشن کی ادائیگیاں ایچ ای سی سے ملنے والی غیر ترقیاتی گرانٹ ہی سے کرتی ہیں مزید براں اس کمیٹی کی تجاویز کے مطابق مالی بوجھ کو کم کرنے کی غرض سے جامعات میں ریگولر ٹیچنگ کیڈر اب لیکچرر کے بجائے اسسٹنٹ پروفیسر سے شروع ہو گا اور لیکچرر جیسی جونیئر پوزیشن کنٹریکٹ بنیادوں پر ہی ہو گی جنھیں مارکیٹ کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے فکس تنخواہ دی جائے گی۔تدریس جو کہ یونیورسٹی فیکلٹی کی بنیادی ذمےداری ہے لہذا ٹیچنگ ایکسیلنس کو ریسرچ آؤٹ پٹ، ٹیچنگ لوڈ ،ریسرچ گرانٹ اور گریجویٹ طلبا کی سپرویژن پر پرکھا جا سکے گا اور اب سینیئر فیکلٹی کو بھی ٹیچنگ لوڈ کے سلسلے میں اپنا حصہ بڑھانا ہو گا۔ واضح رہے کہ ایچ ای سی گزشتہ کافی عرصے سے یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ملک کی موجودہ مالی صورتحال کے ضمن اور گرانٹ میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود سالانہ گرانٹ سے ایک خطیر رقم پنشن کی مد میں جاری ہوتی ہے، لہٰذا جامعات کو اس حوالے سے نہ صرف اپنا فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ تنخواہ کے ساتھ دیے جانے والے دیگر الائونسز پر بھی از سر نو غور کرنا ہوگا۔







