ڈائریکٹر ایڈورٹائزنگ پی ایچ اے سہولت کار، ایسٹرن ہائوسنگ مالکان سے ڈیل،تشہیری بورڈ نہ ہٹ سکے

ڈائریکٹر ایڈورٹائزنگ پی ایچ اے سہولت کار، ایسٹرن ہائوسنگ مالکان سے ڈیل،تشہیری بورڈ نہ ہٹ سکے

غیر منظور شدہ سکیم کو فروخت کیا جا سکتا نہ تشہیری مہم چلائی جا سکتی، ڈائریکٹراسامہ کی غیر قانونی سائن بورڈ اور ہورڈنگ لگے رہنے کیلئےمالکان سے انڈہینڈ ڈیل

ایم ڈی اےکے غیر قانونی ہائوسنگ کالونیوں کے تشہیری بورڈ ہٹانے کے خطوط

میرے پاس2 چپڑاسی ہیں،بورڈ کیسے اتروا سکتا ہوں:ڈائریکٹرکا بھونڈا مؤقف

منظور شدہ ٹھیکیداروں ہی کے ذریعے بورڈ لگوائےاور ہٹائے جاتے ہیں:ذرائع

ملتان ( قلب حسن سے ) پارکس اینڈہارٹیکلچر اتھارٹی ( پی ایچ اے ) ملتان شہریوں کو ڈویلپرز مافیا کے ہاتھوں لٹنے اور شہریوں کو اربوں روپوں سے محروم کرنے میں کرپٹ مافیا کا سب سے بڑا سہولت کار بن گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی پردہ پوشی نے پی ایچ اے کے دانت مزید تیز کر دیئے اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے غیر منظور شدہ اور غیر قانونی ہائوسنگ کالونیوں کی تشہیری مہم پر قانون کے مطابق پابندی کے باوجود حرام خوری کے عوض پی ایچ اے لینڈ مافیا کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے پی ایچ اے کو آگاہ کیا گیا کہ ایسٹرن ہائوسنگ جو کہ ملک بشیر احمد اعوان مرحوم کے بیٹوں ملک اسرار احمد اعوان اور ملک وقاص احمد اعوان کی ملکیت تھی اور انہوں نے اس سکیم کو میاں عبدالصمد کے نام فروخت کر دی تو اس کا سلور سٹی سے پریشینٹ ون رکھ دیا گیا جو کہ موضع بصیرہ میں واقع ہے۔ یہ سکیم غیر منظور شدہ ہے اور قانون کے مطابق غیر منظور شدہ سکیم کو نہ تو فروخت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی فروخت کیلئے تشہیری مہم چلائی جا سکتی ہے مگر پی ایچ اے کے ڈائریکٹر ایڈورٹائزنگ اسامہ نے ملتان کی غیر قانونی اور غیر منظور شدہ سکیموں کے مالکان سے انڈر ہیڈ ڈیل کر کے اور مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر شہر بھر میں غیر قانونی سائن بورڈ اور ہورڈنگ لگوا رکھے ہیں قانون کے مطابق شہر میں تشہیری بورڈ نصب کروانا اور انہیں اتارنا پی ایچ اے کا دائرہ اختیار ہے اس لئے ایم ڈی اے کی طرف سے قانون کے مطابق پی ایچ اے کو خطوط لکھے گئے کہ شہر بھر سے غیر قانونی ہائوسنگ کالونیوں کے تشہیری بورڈ ہٹائے جائیں مگر پی ایچ اے کے ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ نے بھونڈا سا مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس صرف دو چپڑاسی ہیں وہ بورڈ کیسے اتروا سکتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ایچ اے کے منظور شدہ ٹھیکیداروں ہی کے ذریعے بورڈ لگوائے جاتے ہیں اور انہی کے ذریعے بورڈ تبدیل اور ہٹائے جاتے ہیں مگر دو سال سے مختلف اوقات میں اسامہ نامی آفیسر تمام غیر قانونی اور غیر منظور شدہ ہائوسنگ سکیموں کی سہولت کاری کر رہے ہیں، ایم ڈی اے کی طرف سے ڈپٹی کمشنر حضرات کے نوٹس میں بھی یہ امر لایا گیا مگر ملتان سے تین ڈپٹی کمشنر تبدیل ہو گئے اور کسی بھی نوٹس لینے کی بجائے اسامہ ہی کو سہلوت کاری جاری رکھی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں