گاڑی چور بلال گینگ پر پولیس مہربان،پشاور کے افسران کو’’تحفے‘‘(ڈی پی او سپورٹس کار میں بک گیا )

اسلام آباد اور راولپنڈی سے 1500 گاڑیاں چوری کرنیوالے گینگ کے سرغنہ بلال کیخلاف کارروائی پرپتہ چلا اسلام آباد پولیس حمایت کرتی رہی

زیادہ تر گاڑیاں خیبر پختون خوا میں فروخت ہوئی ، بلال نے پشاور پولیس کے کئی سابق ایس ایچ اوز، ڈی ایس پی، ایس پیز کو بطور تحفہ گاڑیاں دیں
سپورٹس کار کی خواہش پربلال کار لفٹر نےگاڑی اسلام آباد سے چوری کر کے ایس پی کو دی،اسلام آباد سے خفیہ رپورٹ جاری ،بڑے افسران کے نام شامل



ملتان(سٹاف رپورٹر)اسلام آباد اور راولپنڈی سے 1500 گاڑیاں چوری کرنے اور پولیس مقابلے میں مارے جانے والے بلال گینگ کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، بلال گینگ نے چوری شدہ گاڑیاں پشاور پولیس کے افسروں کو دیں ،ایک سپورٹس گاڑی لینے والوں میں کے پی کے کا ایک ڈی پی او بھی شامل ہے،اسلام آباد سے خفیہ رپورٹ جاری کر دی گئی تفصیل کے مطابق اسلام اباد راولپنڈی سمیت دیگر شہروں سے ہونڈا لگزری گاڑیوں کو با آسانی پشاور پہنچانے والے بلال گینگ کے بارے میں انتہائی خفیہ رپورٹ جاری ہے،ائیرپورٹ کے مطابق پولیس کے لیے مخبری کا کام کرنے والا بلال ثابت آہستہ آہستہ گاڑی چوری جیسی وارداتوں میں ملوث ہو گیاجس کو باقاعدہ سپورٹ اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے فراہم کی جاتی رہی، بلال گاڑیاں چوری کرتا گیا پولیس اس کی مکمل سپورٹ کرتی رہی اسلام آباد سے جب نئی گاڑی چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا تو اس وقت کے سابق آئی جی احسن یونس نے سخت ایکشن لیتے ہوئے بلال گینگ کے خلاف کاروائی شروع کی تو معلوم ہوا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پولیس والے اس کے ساتھی نکلے ،جب بلال گینگ کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد سے پولیس روانہ ہوتی وہاں پر اس کو پہلے سے ہی اطلاع دی گئی ہوتی اور اسلام آباد پولیس مایوس لوٹتی اور اسی طرح بلال گینگ اپنی وارداتیں جاری رکھتا، ایک اندازے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی سے 1500 گاڑیاں چوری کی گئی جن میں سے زیادہ تر گاڑیاں خیبر پختون خواہ میں فروخت ہوئی جبکہ بلال نے پشاور پولیس کے کئی سابق ایس ایچ اوز ڈی ایس پی، ایس پیز کو بطور تحفہ گاڑیاں دیں، ہونڈا ویزل فورچونر دیگر لگزری گاڑیاں شامل ہیں،کے پی کے پولیس کا ایک ایس پی تو گاڑیوں کا اتنا دیوانہ تھا کہ بلال کو کہا اسے سپورٹس کار چاہیے، اگلے ہی دن بلال کار لفٹر نے وہ گاڑی اسلام آباد سے چوری کر کے مذکورہ ایس پی کو دی اور وہ ایس پی اج کل کے پی کے کہ ایک ضلع میں ڈی پی او تعینات ہے، مزید بتایا گیا ہے بلال سے چوری کی گاڑیاں لینے والوں میں وہ پولیس اہلکار شامل ہیں جو انتہائی کرپٹ ہیں،اسلام اباد پولیس کے اہلکار بھی بلال سے گاڑیاں لے چکے ہیںخیبر پختونخوا کی پولیس بلال پر کافی مہربان تھی مگر جب اس نے ایک (IB آئی بی) آفیسرز اور ایس ایچ او شکیل کو شہید کیا تو حساس ادارے حرکت میں آگئے اور انہوں نے راولپنڈی میں کارروائی کرتے ہوئے بلال گینگ کے سرغنہ کو گاڑی چوری کی واردات میں ملوث بلال کو ہلاک کر دیا،اس سلسلے میں اس کا لیپ ٹاپ اور موبائل قبضے میں لیا گیا ،جس میں خوفناک انکشافات ہوئے ہیں اداروں کی جانب سے حیران کن رپورٹ میں کہا گیا زیادہ تر سپورٹ کے پی کے کی پولیس بلال کو فراہم کرتی اور پولیس کے زیادہ تر آفیسروں کے پاس نئی گاڑیاں بلال ہی کی دی ہوئی ہیں، خفیہ رپورٹ میں تمام پولیس افسروں کے نام درج ہے جو کسی بھی وقت منظر عام پر ا ٓسکتے ہیں تاہم یہ رپورٹ بہت جلد تہلکہ مچانے والی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں