منصوبہ بندی کے تحت 3900 روپے میں خریدی گئی گندم تاریخ میں پہلی مرتبہ 885 روپے بڑھا کر 4785 روپے فی من کر دی گئی،پہلےحکومت پنجاب قیمت خریدپرہی فلورملزکودیتی تھی
بینکوں کے سود کو بھی عوام پر ڈال دیا گیا ،ہر قسم کی سبسڈی ختم ،امپورٹ کی اجازت ملتے ہی 22 سے 24 دن والے دو جہاز صرف 8 دن میں پاکستانی بندر گاہ پر لنگر انداز ،پلاننگ صاف ظاہر
جن فلور ملز مالکان نے گندم امپورٹ کی ا نہیں فی من 1700 روپے سے 2000 روپے بچت، باقیوںنے بھی امپورٹ شدہ گندم 3500 سے 4300 روپے تک خرید کر کے کروڑوں کمائے
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) نگران سیٹ اپ آنے سے قبل ہی گندم کی امپورٹ پالیسی بن چکی تھی اور اس وقت کے وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی طارق بشیر چیمہ بھی اس کھیل کا حصہ تھے۔ اس میں بعض اہم بیورو کریٹ بھی شامل تھے۔ نگران حکومت کے آتے ہی ایک منظم پراپیگنڈاشروع کیا گیا کہ پاکستان میں گندم کی شدید قلت آنے والی ہے اور اس حوالے سے مرتب کردہ تمام تر اعداد وشمار حقائق کے برعکس تھے۔ اس کھیل میں پنجاب کا محکمہ خوراک بھی مکمل طور پر شامل تھا۔ پہلے منصوبہ بندی کے تحت 3900 روپے میں خریدی گئی گندم کی قیمت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 885 روپے فی من بڑھا کر 4785 روپے فی من کر دی گئی حالانکہ اس سے قبل کئی دہائیوں سے حکومت پنجاب گندم سرکاری قیمت خرید پر ہی فلور ملوں کو جاری کرتی تھی تاکہ عوام کو سستا آٹا دیا جا سکے مگر اس مرتبہ بینکوں کے سود کو بھی عوام پر ڈال دیا گیا اور ہر قسم کی سبسڈی بھی ختم کر دی گئی جس سے گندم کی فلور ملوں کے لئے سرکاری قیمت 4785 روپے فی من ہو گئی۔ ادھر امپورٹ کی اجازت ملتے ہی 22 سے 24 دن والے دو جہاز صرف 8 دن میں پاکستانی بندر گاہ پر لنگر انداز ہو گئے جس سے ظاہر ہے کہ امپورٹ کرنے والوں نے سودے کر رکھے تھے اور انہیں علم تھا کہ کب اور کیسے اجازت مل رہی ہے۔ اب جن فلور ملز مالکان نے اپنی گندم امپورٹ کی ان کو تو فی من 1700 روپے سے 2000 روپے کی فی من بچت ہو گئی اور جنہوں نے امپورٹ نہ کی‘ انہوں نے بھی سرکاری گندم 4785 روپے میں لینے کے بجائے امپورٹ شدہ گندم 3500 سے 4300 روپے تک خرید کر کے کروڑوں روپے کمائے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پنجاب کا محکمہ گندم خوراک خریدنے سے قاصر ہے اور پاسکو صرف 18 لاکھ ٹن گندم خرید رہا ہے کیونکہ اس کے گوداموں میں پچھلے سال کی 16 لاکھ ٹن گندم اس وقت بھی موجود ہے۔







