ڈالرز کی شدید کمی اور ملک ڈیفالٹ کی طرف جانے کو مکمل نظرانداز کر کے ایل سی کے ذریعے منی لانڈرنگ، منصوبے کیلئے ٹائوٹ میڈیا کا بھی بھر پور استعمال کیا گیا
گندم درآمد کی تمام تر پالیسی پی ڈی ایم حکومت مرتب کرکے اقتدار سے علیحدہ ہوئی ،نگران سیٹ آپ آیا تو گندم ،آٹا بحران کا پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا،کیئر ٹیکر حکومت نے بلا تحقیق امپورٹ کی اجازت دیدی
یوکرائن سے بحری جہاز 22سے 24دنوں میں پاکستان پہنچتا ،گندم امپورٹ کی اجازت جاری ہونے کے صرف 8 دن بعد گندم سے بھرے دو بحری جہاز پاکستانی ڈرائی پورٹ پر پہنچنے نےسازشی تھیوری بے نقاب کردی
جب ایل سیز کھولنے کی اجازت دی گئی تو محکمہ خوراک پنجاب،سندھ،کے پی اور پاسکوکے پاس 76 لاکھ ٹن گندم تھی، حکومت پنجاب 40 ہزار ٹن یومیہ گندم کا کوٹہ بھی جاری کرتی تو یکم مارچ تک 8 لاکھ ٹن گندم سٹاک میں موجود ہوتی
درآمدکے وقت عالمی منڈی میں اے گریڈ گندم کی قیمت 248سے253 ڈالر فی ٹن ، ڈی گریڈ،کیڑوں سے بھری گندم کےسودے 300 ڈالر فی ٹن ظاہر کئے گئے
گندم کی آمد پر پاکستانی امپورٹروں کا مجموعی خرچ 40 سے 44 کروڑ ڈالر ، حکومت کے ایک ارب ڈالر میں سے 55 کروڑ ڈالر سے زائد رقم طریقے سے باہر ہی رہ گئی
کیڑوں ،سسریوں اور آلودگی سے بھری امپورٹ شدہ 40 لاکھ بوری گندم تاحال کراچی میں موجود ، صرف منی لانڈرنگ کیلئےکاشتکاروں کو مفاد پرست برباد کر گئے
ملتان ( میاں غفار سے) ملک میں ضرورت سے زیادہ اور وافر مقدار میں گندم موجود ہونے کے باوجود جعلی اعداد و شمار اور ٹائوٹوں کے ذریعے میڈیا مہم چلا کر گندم امپورٹ کی اجازت کی آڑ میں 55 کروڑ ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا ہے اور یہ منظم منی لانڈرنگ ایسے وقت میں کی گئی جب پاکستان میں ڈالرز کی شدید کمی اور ملک ڈیفالٹ کی طرف جا رہا تھا۔ یہ تمام تر منی لانڈرنگ ایل سی کے ذریعے کی گئی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یوکرائن سے ایک بحری جہاز 22سے 24دنوں میں پاکستان پہنچتا ہے مگر گندم امپورٹ کی اجازت جاری ہونے کے صرف 8 دن بعد گندم سے بھرے دو بحری جہاز پاکستانی ڈرائی پورٹ پر پہنچ چکے تھے اور یہ سب ریکارڈ سے بھی ظاہر ہو چکا ہے کہ 8 دن میں جہازوں کا گندم لے کر پاکستان میں لنگر انداز ہو جانا تمام تر سازشی تھیوری کو بے نقاب کر رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے جس وقت گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ایک ارب ڈالر کی ایل سیز کھولنے کی اجازت دی اس وقت پاکستان میں محکمہ خوراک پنجاب، پاسکو، محکمہ خوراک سندھ اور محکمہ خوراک کے پی کے کے پاس 76 لاکھ ٹن گندم موجود تھی جو کہ ملکی ضروریات سے 12سے15 لاکھ ٹن زائد تھی اور پھر جب اجازت دی گئی کہ گندم امپورٹ کر لی جائے تو اے گریڈ کی عالمی منڈی میں گندم کی قیمت 248سے253 ڈالر فی ٹن تھی مگر حیران کن طورپر سودے 300 ڈالر فی ٹن ظاہر کئے گئے مگر جو گندم یوکرائن ، روس ، بلغاریہ اور دیگر ممالک سے منگوائی گئی وہ ڈی گریڈ یعنی چوتھے درجے کی گھٹیا اور کیڑوں سے بھری گندم تھی جس میں فنگسی بیکٹیریا حتیٰ کہ زندہ کیڑے بھی موجود تھے۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ گریڈ 4 کی اس گندم کی روس اور یوکرائن میں جانوروں کے استعمال پر بھی پابندی تھی۔ اس ڈی گریڈ گندم کو پاکستان امپورٹر حضرات کی غالب اکثریت سے 125 ڈالر سے 140 ڈالر فی ٹن کے حساب سے خریدا اور اس ریٹ میں جہاز کا کرایہ و پاکستانی بندرگاہ تک پہنچ شامل ہوتی ہے۔ صرف دس فیصد پارٹیوں نے بی گریڈ کی گندم امپورٹ کی جو انہیں پاکستان بندرگاہ پر پہنچ کر 195سے 225 ڈالر فی ٹن تک پڑی۔ اس طرح بی سے ڈی گریڈ کی گندم کی پاکستان آمد پر پاکستانی امپورٹروں کا زیادہ سے زیادہ مجموعی خرچ 40 سے 44 کروڑ ڈالر ہوا جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک ارب ڈالر میں سے 55 کروڑ ڈالر سے زائد رقم قانونی منی لانڈرنگ کے طریقے سے باہر کی باہر ہی رہ گئی۔ اس امپورٹ میں بعض نامی گرامی سیاستدانوں نے بھی اپنے فرنٹ پر دیگر افراد کو رکھ کر کھل کر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ گندم امپورٹ کی تمام تر پالیسی پی ڈی ایم کی حکومت مرتب کرکے اقتدار سے علیحدہ ہوئی تھی اور جونہی نگران سیٹ آپ آیا تو اس کابینہ کے سنبھلنے اور معاملات کو سمجھنے سے قبل ہی بھرپور پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا کہ پاکستان میں خدانخواستہ گندم اور آٹے کا شدید بحران آنے والا ہے جس پر بلا تحقیق نگران حکومت نے گندم امپورٹ کی اجازت دے دی۔ روزنامہ’’قوم‘‘ کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق یکم ستمر کو صرف سرکاری سطح پر محکمہ خوراک پنجاب ، محکمہ خوراک سندھ، محکمہ خوراک کے پی کے اور پاسکو کے پاس 76 لاکھ ٹن سے زائد گندم موجود تھی اوراس علاوہ ملک بھر میں فلور ملز مالکان اور نجی طور پر محفوظ شدہ گندم کے کسی بھی قسم کے اعداد و شمار حکومت کے پاکستان نہیں مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق آج بھی پاکستان کے 40 فیصد سے زائد لوگ ایسے ضرور ہیں جو کہ اپنی گھریلو ضرورت کی سالانہ گندم کا اپنے گھروں میں سٹاک رکھتے ہیں۔ اپنے منصوبے کو عمل جامہ پہنانے کے لیے ٹائوٹ میڈیا کا بھی بھر پور استعمال کیا گیا۔ اخبارات میں مضامین لکھوائے گئے کہ پاکستان میں گندم کی شدید قلت آنے والی ہے جبکہ حقائق اس کےبالکل برعکس تھے اور گندم ستمبر سے لے کر مارچ تک بغیر کسی تعطل کے لگاتار جاری ہوتی رہتی تب بھی ملک کے گندم کے ذخائر میں 12 سے 15 لاکھ ٹن گندم موجود رہتی جبکہ نجی شعبہ اس کے علاوہ ہے۔ صوبہ سندھ کی گندم تو فروری کے آخری ہفتے میں میں مارکیٹ میں آنا شروع ہو جاتی ہے جبکہ چولستانی گندم مارچ کے پہلے ہفتے مارکیٹ میں فروخت کیلئے موجود ہوتی ہے اور جنوبی پنجاب کی گندم مارچ کے آخر تک عمومی طور پر مارکیٹ پہنچ جاتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کیڑوں ،سسریوں ، فنگس زندہ کیڑوں اور آلودگی سے بھری امپورٹ شدہ 40 لاکھ بوری گندم تاحال کراچی میں موجود ہے جس وقت گندم امپورٹ کی اجازی دی گئی اس وقت حکومت کے پاس 76 لاکھ ٹن گندم موجود تھی جو پاسکو اور صوبائی حکومتوں کے پاس تھی۔ حکومت پنجاب اگر ہفتے میں 5 دن فل کوٹہ بھی جاری کرے تو یہ کوٹہ 32 ہزار ٹن یومیہ بنتا ہے اور اس آٹے سے پنجاب کی فلور ملیں سندھ بلوچستان کے پی کے ،آزاد کشمیر حتیٰ کہ گلگت بلتستان کی ضروریات میں بھی زیادہ حصہ ڈالتی ہیں ۔ اگر حکومت پنجاب 32 ہزار ٹن پریومیہ کی بجائے 40 ہزار ٹن یومیہ گندم کا کوٹہ بھی جاری کرتی تو بھی یکم مارچ تک 8 لاکھ ٹن گندم سٹاک میں موجود ہوتی مگر یہ سارا کھیل صرف اور صرف منی لانڈرنگ کے لیے کھیلا گیا اور ملک بھر کے کاشتکاروں کو چند مفاد پرست برباد کر گئے۔







