کینٹ، بوسن روڈ، گلگشت اور ملحقہ علاقوں میں چاروں لفٹروں سے روزانہ حاصل لاکھوں کی رقم قانون کے برخلاف پولیس ویلفیئر فنڈز میں جاتی
ضلعی پولیس کے زیر انتظام تھانہ کینٹ کے عقب میں مخصوص لوگوں کے ٹیسٹ کلیئر ، سڑک پر لائننگ ہی نہیں تو غلط پارکنگ کاکیسے طے ہوگا :متاثرہ خاتون
ملتان ( سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی پرائیویٹ لفٹروں کے ذریعے گاڑیاں اٹھانے ، دو ہزار فی گاڑی جرمانہ موقع پر یا بذریعہ ایزی پیسہ وصول کرنے اور ٹریفک پولیس کے متوازی نظام چلائے جانے کے حوالے سے گزشتہ سے پیوستہ روز شائع ہونے والی خبر حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی بلکہ یہ معلومات بھی ہیں جو مصدقہ ہیں کہ تھانہ کینٹ میں ٹریفک لائسنس بنانے کا متوازی نظام بھی چل رہا ہے جو کہ ضلعی پولیس کے زیر انتظام ہے اور تھانہ کینٹ کے عقب میں خالی پلاٹ میں سرخ رنگ کے پلاسٹک کون رکھ کر مخصوص لوگوں کے ٹیسٹ بھی کلیئر کرائے جاتے ہیں۔ ایک خاتون نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ مہذب ملکوں میں باقاعدہ سڑکوں پر لائننگ ہوتی ہے جس سےپارکنگ کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تو ہر کام میں غیر مہذب انداز میں ہوتا ہے اور پورے شہر میں اس قسم کی جب کوئی لائننگ ہی نہیں تو جرمانہ کیا۔ ایک پولیس والا سڑک پر لائننگ نہ ہونے پر کیسے طے کرسکتا ہے کہ گاڑی کسی غلط جگہ پر پارک کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بچے کی کاپی لینے کے لیے دو کان کے سامنے گاڑی پارک کرکے دو منٹ کے لیے دوکان میں گئیں اور 80 روپے کی کاپی خریدی۔ دو ہزار روپیہ لفٹر والے کو دے کر گاڑی اتر وائی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کینٹ، بوسن روڈ، گلگشت اور ملحقہ علاقوں کے چاروں لفٹروں کو یومیہ ٹارگٹ دیا جاتا ہے اور ان ملازمین کو یہ ٹارگٹ ہر حال میں پورا کرنا ہوتا ہے۔ عید اور شادیوں کے سیزن میں چونکہ رش بڑھ جاتا ہے لہٰذا ٹارگٹ بھی بڑھا دیا جاتا ہے اوران چاروں لفٹروں سے روزانہ کے حساب سے حاصل ہونے والی لاکھوں کی رقم پولیس ویلفیئر فنڈز میں جاتی ہے جو کہ کسی بھی فائدے اور قانون کے مطابق نہیں۔ دوسری طرف ٹریفک پولیس کاکمائی والا علاقہ چھن جانے کے بعد ملتان کے باقی علاقوں کے اہم مقامات پر تعیناتی کے نرخ بھی بڑھ گئے ہیں جبکہ جنرل بس سٹینڈ کے ریٹ میں گزشتہ ماہ 100فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہاں یہ امر انتہائی توجہ طلب ہے کہ ملتان میں سب سے زیادہ ٹریفک کچہری چوک میں بلاک ہوتی ہے اور گاڑیاں سڑک کے عین وسط تک پارک ہوتی ہیں مگر ان قانونی وغیر قانونی لفٹروں کو اس طرف دیکھنے کی بھی جرات نہیں کہ مبادا کوئی وکیل رٹ دائر کردے اور یہ غیر قانونی کھاتہ بند کرنا پڑے۔







