مدرسہ میں 13 سالہ لڑکے کی ہلاکت،ڈی پی او مظفرگڑھ اصل قاتل کو بچانے کیلئے متحرک

حسنین حیدر تفتیش اپنے ہاتھ میں لے کر قتل کا ملبہ اصلی قاتل رانا معاذکے آلودہ زندگی کے ساتھی فخر المالک پر ڈال کر کیس کا حلیہ بگاڑنے لگے

عینی شاہد 14 سالہ عمر فاروق نے تھانہ سٹی کوٹ ادو میں قتل کا سارا واقعہ بے نقاب کردیا ، ویڈیو دو افراد کی موجودگی میں بنائی گئی اور محفوظ کرلی گئی

ملتان (سٹاف رپورٹر) چوک سرور شہید کے دینی مدرسے میں اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں 19 مارچ کو روزے کی حالت میں قتل ہونے والے 13سالہ محمد صائم کے قاتلوں کی تفتیش اپنے ہاتھ میں لے کر ڈی پی او مظفر گڑھ سید حسنین حیدر نے اصل قاتل کو بچا لیا اور قتل کا ملبہ اصلی قاتل رانا معاذر کے آلودہ زندگی کے ساتھی فخر المالک پر ڈال دیا۔ عینی شاہد 14 سالہ عمر فاروق نے تھانہ سٹی کورٹ ادو میں قتل کا سارا واقعہ بے نقاب کردیا جس کی ویڈیو ریکارڈنگ تھانہ سٹی کورٹ ادو میں دو افراد کی موجودگی میں بنائی گئی اور محفوظ کرلی گئی ۔ اس ویڈیو میں محمد عمر صاف الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ رانا معاذ نے پہلی گولی محمد صائم کے منہ میں ماری جس کی وجہ اس کے چہرے سےخون جاری ہوگیا ۔ عینی شاہد محمد عمر کے مطابق فخر الملک بھی محمد صائم پر تشدد کرتا رہا تھا۔ قاتل رانا معاذ کے موبائل کا جو ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے اس کے مطابق رانامعاذ 19مارچ کو شام 5بجکر 56 منٹ پر چوک سرور شہید میں موجود تھا ۔ اس کے زیر استعمال تین ماہ کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے۔ قتل کےفوری بعد رانا معاذ کے چچا رانا اورنگرزیب اشرف جو کہ پی ٹی آئی کے حلقہ 276 سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں ۔ رانا اورنگزیب اور اس کے بھائی رانا جہانزیب کے مدرسے میں اس سے قبل بھی ایک بچے نے خودکشی کرلی تھی جیسے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس قتل کی تفتیش اپنے ہاتھ میں لے کر ڈی پی او مظفر گڑھ ہر حال میں اصل قاتل رانا معاذ کو بچا کر فخر الملک پر ملبہ ڈال کر کیس کا حلیہ بگاڑرہے ہیں اور مدعی پارٹی سے انہوں نے بد تمیزی کی انتہا کررکھی ہے۔ یاد رہے کہ مظفر گڑھ پولیس میں تاحال پی ٹی آئی کا دور حکومت ہی چل رہا ہے اور سیاسی ہمدردیاں قانونی ذمہ داریوں پر غالب ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں