ملتان( جوائنٹ ایڈیٹر عامر حسینی ) پاکستان سٹیٹ بینک کی جانب سے کمرشل بینکوں سے لاکھوں روپے مالیت کے ڈالرر خرید زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ کمرشل بینکوں کی مارکیٹ سے سٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے ڈالر خریدنے سے اوپن مارکیٹ میں منی ایکسچینج ڈیلروں نے ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کردی – ڈالر اوپن مارکیٹ ریٹ سے مہنگے داموں فروخت کیے جانے کا انکشاف – تفصیلات کے مطابق پاکستان سٹیٹ بینک نے 28 مارچ کی شب کو ملک کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 40 لاکھ ڈالر کے اضافے کے ساتھ 8 ارب 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ جانے کی رپورٹ دی تھی لیکن پاکستان کے وفاقی سرکاری بینک نے ذخائر میں 40 لاکھ ڈالر کے آنے کا ‘زریعہ’ بارے کوئی معلومات فراہم نہ کی تھیں- انٹربینک مارکیٹ ڈیلرز نے دعوا کیا ہے کہ سٹیٹ بینک پاکستان بینکنگ مارکیٹ سے ڈالروں کی خریداری کر رہا ہے۔ اس حوالے سے سٹیٹ بینک پاکستان سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا- پاکستان پر اس وقت بیرونی قرضوں اور ان کے سود کا بوجھ بڑھ رہا ہے جس میں آئی ایم ایف سے ملنے والے ایک ارب ڈالر سے کچھ کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن پاکستان سٹیٹ بینک کے زرایع کا کہنا ہے کہ اپریل کے مہینے میں پاکستان کی طرف سے یورو بانڈ کی مد میں لیے گئے ایک ارب ڈالر کے قرضے کی مدت مکمل ہوجآغے گی جنھیں خریداروں کو واپس کرنا پڑے گا اور اس سے بظاہر آئی ایم ایف سے ملنے والی قسط سے بغیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والا وقتی اضافہ پھر ختم ہوجائے گا- وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ پاکستان مالیاتی سال 2024-25 میں بیرونی قرضوں اور ڈیٹ سروسز کی مد میں واجب الادا 25 ارب ڈالر کیسے ادا کرے گا جو پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سب سے بڑا سبب ہیں







