پندرہ روپےلٹروالاسمگلڈایرانی پٹرول عوام کوحکومتی ر یٹ پرفراہم،ڈی سی تربت کاپرمٹ

پندرہ روپےلٹروالاسمگلڈایرانی پٹرول عوام کوحکومتی ر یٹ پرفراہم،ڈی سی تربت کاپرمٹ

ایران سے خشکی اور سمندری راستوں سے ہر روز لاکھوں لٹر پٹرول اور ڈیزل 50 سال سے پاکستان لایا جا رہا ،کراچی سے چترال تک خریدار

پٹرول پمپوں،ایجنسیوں پر ایرانی پٹرول سرکاری قیمت سے 12 سے 15 روپے فی لٹر کم پر دستیاب ، رحیم یار خان سے خانیوال تک زیر زمین ڈمپنگ سٹیشن

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) حکومت ایران نے ایرانی پٹرول کی فی لٹر جو نئی قیمتیں مقرر کی ہیں ان کے مطابق امریکی کرنسی کے مطابق ایرانی پٹرول کی فی لٹر قیمت 0.053 ڈالر ہے جبکہ پاکستان بارڈر پر ایرانی پٹرول کی قیمت 14 روپے 84 پیسے یعنی تقریباً 15 روپے فی لٹر کے قریب ہے۔ ایران سے خشکی اور سمندری راستوں سے ہر روز لاکھوں لٹر پٹرول اور ڈیزل گزشتہ 50 سال سے پاکستان لایا جا رہا ہے اور کراچی سے چترال تک اس ایرانی پٹرولیم مصنوعات کے خریدار موجود ہیں جنہیں ان کے سیل پوائنٹ تک سپلائی سال بھر جاری رہتی ہے۔پاکستان بھر کے پٹرول پمپوں و دیگر پٹرول ایجنسی ہولڈروں کو یہی ایرانی پٹرول پاکستان کی سرکاری قیمت سے 12 سے 15 روپے فی لٹر کم پر دستیاب ہے اور نقد ادائیگی کی صورت میں دو چار روپے مزید بھی کم ہو جاتے ہیں۔ زمینی راستوں سے ایرانی پٹرول نماز فجر سے مغرب تک یعنی دن بھر ہزاروں گاڑیاں لے کر آتی ہیں جبکہ سمندری راستے سے لانچوں کے ذریعے ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی 24 گھنٹے جاری رہتی ہے۔ ڈی سی تربت ان گاڑیوں کے لئے باقاعدہ پرمٹ جاری کرتا ہے اور فی پرمٹ فی گاڑی سے 15 ہزار روپیہ لیا جاتا ہے جو کہ کروڑوں کی رقم بنتی ہے مگر یہ رقم حکومت کے کس کھاتے میں جمع ہوتی ہے اس سوال کا جواب آج تک کسی کو نہیں مل سکا۔ پنجاب میں رحیم یار خان سے لے کر خانیوال تک درجنوں زیر زمین ڈمپنگ سٹیشن بنے ہوئے ہیں اور ہر ڈمپنگ سٹیشن میں لاکھوں لٹر ایرانی تیل ہر وقت موجود رہتا ہے۔ تربت اور اس سے ملحقہ علاقوں سے لے کر کوئٹہ‘ لورا لائی‘ ڈیرہ غازی خان اور ملتان والے روٹ پر درجنوں چیک پوسٹیں ہیں اور ہر چیک پوسٹ سے یہ سمگل شدہ تیل روزانہ گزر کر آتا ہے جبکہ اس کے علاقےمیں حب چوکی والا روٹ بھی ہے اور تیسرا روٹ براستہ سبی ڈیرہ مراد جمالی، جیکب آباد، شکار پور، کشمور ،راجن پور کا ہے اور چوتھا روٹ جیکب آباد سے سکھر اور گھوٹکی کے راستے سے پنجاب میں آتا ہے۔ موٹر وے بننے کے بعد تو اور بھی آسانی پیدا ہو گئی ہے اور اب اس سہولت کاری میں موٹر وے پولیس نے بھی اپنا حصہ ڈال لیا ہے۔ کھربوں روپے ماہانہ کے اس غیر قانونی کاروبار سے ہر کوئی اپنا حصہ وصول کرتا ہے مگر نہیں حصہ ملتا تو عوام کو نہیں ملتا جو ریفائنری سے حاصل کردہ امپورٹڈ تیل جس قیمت پر خریدنے پر مجبور ہیں انہیں اس قیمت پر سمگل شدہ تیل مل رہا ہے۔ اس گھنائونے کاروبار سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے مگر کسی بھی سرکاری ادارے کے بس میں نہیں کہ وہ اسے روک سکیں یا پھر اس دھندے سے اربوں روپے کمانے والوں سے ٹیکس ہی لے سکیں۔ حکومتی اہم لوگ بھی اس سمگلنگ سے اپنا حصہ سالہا سال سے وصول کر رہے ہیں اور کچھ نہیں مل رہا تو عوام کونہیں مل رہا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں