ملتان کے ماڈل تھانے میں دو مختلف سائلین سے ہونے والے سلوک کی روداد
سونےکی بھاری ڈکیتی میں لٹنےوالےسےایس ایچ اوکی ہمدردی،قیمتی چیزیں گھرمیں رکھنےپرپندونصائح،عزت بچنےپرشکراداکرنے کامشورہ دیدیا
جس نوجوان کی موٹرسائیکل چوری اسے بہترموٹرسائیکل دکھاکرچٹ لکھ دی،مخصوص شخص سےانجن،چیسزنمبرصاف کرانے،شاہ جی کوسلام دینےکی ہدایت
ملتان ( سٹاف رپورٹر ) دو مختلف سائلین اتفاق سے بیک وقت ایس ایچ او کے کمرے میں موجود ہیں۔ ایک کی ڈیڑھ لاکھ کی موٹر سائیکل چوری ہوتی ہے اور وہ سائل نوجوان ہے۔ دوسرے سائل کی بھاری مالیت کی سونے کی ڈکیتی ہوتی ہے اور وہ ادھیڑ عمر شہری ہے۔ اتفاق سے دونوں بیک وقت ہی ایس ایچ او کے کمرے میں آ جاتے ہیں دونوں کو عزت کے ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔ جن صاحب کی سونے کی ڈکیتی ہوئی ہے اس سے ایس ایچ او اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں مگر ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ویسے آج کون سا دور ہے سونا اور قیمتی چیزیں گھروں میں رکھنے کا‘ آپ شکر کریں عزت بچ گئی۔ دولت آنی جانی چیز ہے اللہ نے عزت اور زندگی محفوظ رکھی یہ بھی اس کا بہت بڑا کرم ہے۔ پھر سرد مہری سے کہا کہ آپ جائیں کوئی ڈویلپمنٹ ہوئی تو آپ کو اطلاع کر دی جائے گی پھر جس نوجوان کی موٹر سائیکل چوری ہوئی تھی اسے اس سے اچھی نئے ماڈل کی موٹر سائیکل دکھائی گئی اور ایک چٹ پر کسی شخص کا نمبر لکھ کر دیا کہ اس شخص کے پاس میرے حوالے سے چلے جائو۔ وہ موٹر سائیکل کا انجن اور چیسز نمبر بڑی صفائی سے تبدیل کر دے گا کہ پتہ بھی نہیں چلے گا پھر میں اس کی برآمدگی ڈال کر سپر داری پر آپ کو دلوا دوں گا بس دو تین دن ہی میں سارا کام ہو جائے گا۔ بس آپ نمبر تبدیل کرا کے لے آئو۔ وہ بندہ اعتماد کا ہے۔ ہاں اور شاہ صاحب کو سلام دینا۔







