این ایف سی:ٹیکنیکل سائنسز کا ڈگری ہولڈرسربراہ الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ مقرر

جعلی وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کا ایک اور غیرقانونی اقدام، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران بھٹی اپنی غیر قانونی تقرری بچانے کیلئے بلیک میل

کامران لیاقت بھٹی کی تنخواہ وی سی سے زیادہ، این ایف سی و احد یونیورسٹی ہے جس میں صرف ایک فل پروفیسر ہے وہ بھی از خود ڈاکٹر اختر کالرو

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) ٹیکنیکل سائنسز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے کو الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ بنا کر وائس چانسلر این ایف سی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد اختر کالرو جو کہ خود غیر اخلاقی اور غیر قانونی طور پر گذشتہ 7 سال سے وائس چانسلر کے عہدے پر قابض ہیں‘ نے ایک اور غیر قانونی کام کر دیا۔ این ایف سی انتظامیہ نے یہ گھنائونا کھیل اس لئے کھیلا کہ ایک طرف تو ٹیکنیکل سائنسز ڈگری رکھنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی جو کہ خود غیر قانونی طور پر تعینات ہیں وہ اپنی غیر قانونی تقرری کو بچانے کیلئے وائس چانسلر کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں اور وائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو ہر انکوائری کا انچارج ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی کو بنا کر سو فیصد اپنی پسند کے مطابق ان سے فیصلے لکھوا رہے ہیں اور کامران لیاقت بھٹی کو مزید قابو میں رکھنے کیلئے ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو نے ان کی تنخواہ اپنے سے بھی زیادہ کر دی ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وائس چانسلر کی اپنی تنخواہ ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی سے کم ہے حالانکہ کامران بھٹی عمر میں ڈاکٹر کالرو سے 20 سال چھوٹے ہیں۔ تنخواہ میں اضافہ کے بعد ڈاکٹر بھٹی مکمل طور پر جہاں وائس چانسلر کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں وہیں پر غیر متعلقہ ڈگری کی وجہ سے سٹاف سے بھی بلیک میل ہو رہے ہیں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ یہ واحد یونیورسٹی ہے جس میں صرف ایک فل پروفیسر ہے وہ بھی از خود ڈاکٹر کالرو جبکہ صرف ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ہے جنہوں نے اپنی لابنگ شروع کر رکھی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں