جعلی وائس چانسلر این ایف سی ڈاکٹر کالرو کی مبینہ کرپشن کی ملک گیر ’’دھوم‘‘‘ ستارہ امتیاز سے نام ڈراپ

جعلی وائس چانسلر این ایف سی ڈاکٹر کالرو کی مبینہ کرپشن کی ملک گیر ’’دھوم‘‘‘ ستارہ امتیاز سے نام ڈراپ

پرو چانسلر پرنس عیسیٰ جان نے ایک اہم سیاسی سفارش پر ڈاکٹر اختر علی کو ستارہ امتیاز دینے کی سفارش کی،سابق صدر علوی کووزارت تعلیم کی منظوری کے بغیر خط موصول

کیبنٹ ڈویژن، وزارت تعلیم کے علاوہ ایوان صدر کو بھی متاثرین این ایف سی کی طرف سے متعدد خطوط اور ای میلز میں کرپشن،غیرقانونی عہدہ رکھنے بارے آگاہ کیا گیا

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) 23 مارچ 2024ء کو ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والی سول ایوارڈ دینے کی تقریب سے قبل این ایف سی یونیورسٹی کے غیر قانونی اور ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اختر علی ملک کالرو کا نام فہرست سے خارج کر دیا ۔ 9 مئی 2023ء کو پرو چانسلر این ایف سی پرنس عیسیٰ جان نے ایک اہم سیاسی سفارش پر ڈاکٹر اختر علی ملک کو ستارہ امتیاز دینے کی سفارش کی تھی۔ جب عیسیٰ جان کا خط سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو براہ راست وفاقی وزارت تعلیم کی منظوری کے بغیر براہ راست موصول ہوا تو سابق صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد نے صرف 16 میں وزارت تعلیم کو بتائے بغیر 25 مئی 2023 کو کیبنٹ ڈویژن کو ڈاکٹر اختر علی کالرو کا کیس مزید پراسس کیلئے بھیج دیا۔ اس دوران کیبنٹ ڈویژن اور وزارت تعلیم کے علاوہ ایوان صدر کو بھی متاثرین این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی طرف سے متعدد خطوط اور ای میلز کی گئیں جس میں ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو کی غیر قانونی اور تعلیم دشمن کاموں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا اور یونیورسٹی کی زبوں حالی بارے بتایا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ڈاکٹر اختر علی ملک 2017ء سے بغیر کسی بھی تقرر نامے کے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے پر ناجائز‘ غیر قانونی و غیر اخلاقی طور پر قابض ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں وائس چانسلر سے انتہائی معزز عہدے کی بے توقیر اور توہین ہو رہی ہے۔ ایوان صدر اور کیبنٹ ڈویژن کو یہ بھی بتایا گیا کہ ہائی کورٹ ملتان بنچ میں وفاقی وزارت تعلیم نے جو جواب جمع کرایا ہے اس میں تسلیم کیا کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر کے عہدے پر ڈاکٹر اختر 2017ء سے غیر قانونی طور پر قابضین سے جس کا کوئی بھی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں بنتا۔ ان کے پاس نہ تو ملازمت میں توسیع کا کوئی لیٹر ہے اور سابق پرو چانسلر این ایف سی یونیورسٹی عیسیٰ خان کے پاس اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی کلرک کو بھی توسیع دے سکیں اور ویسے بھی تمام این ایف سی یونیورسٹیوں کا انتظامی کنٹرول وفاقی وزارت تعلیم کےپاس ہے اس لئے پرو چانسلر کی کوئی حیثیت ہی نہیں اور وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے ڈاکٹر اختر علی ملک کو کسی قسم کی توسیع نہیں دی گئی اور نہ ہی ایوان صدر کی طرف سے کوئی توسیع دی گئی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ 65 سالہ ڈاکٹر اختر علی ملک بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے باقاعدہ ملازم کے طور پر جنوری 2019ء میں ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور زکریا یونیورسٹی کی ملازمت کے عرصے میں کئی بار طلب کرنے پر بھی ڈاکٹر اختر علی ملک اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری پیش نہیں کر سکے اور حیران کن امر یہ ہے کہ وہ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے بغیر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کی ملی بھگت سے باقاعدگی سے اپنی ماہانہ پنشن وصول کر رہے ہیں ان کا یہ غیر قانونی فعل گذشتہ 5 سال سے جاری ہے اور ایک فلاحی تنظیم اسے چیلنج کرنے جا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں