تعلق جالندھری ارائیں خاندان سے،جسٹس (ر)خلیل الرحمان رمدےکے بھتیجے ہیں
ملتان (عامر حسینی) نئے وفاقی وزیر خزانہ کون ہیں؟ نئے نامزد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب (چوہدری) کا تعلق جالندھری ارائیں خاندان ہے اور ان کے خاندان کے شریف خاندان سے بہت گہرے اور سیاسی تعلقات ہیں، وہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کے پسندیدہ افراد میں سے ہیں، ان کے دادا چودھری محمد صدیق برطانوی ہندوستان میں پہلے مسلم وکیل تھے جنھوں نے پی سی ایس امتحان میں واحد مسلمان نشست پر کامیابی حاصل کی تھی اور 1936ء میں مسلمان سول جج مقرر ہوئے، 1967ء میں ایوب خان کے دور میں وہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مقرر ہوئے – ان کے والد چودھری محمد فاروق ایڈوکیٹ دو مرتبہ پاکستان کے اٹارنی جنرل مقرر ہوئے، ایک بار جولائی 1993ء میں نگران وزیراعظم معین قریشی کے دور میں اور دوسری بار اپریل 1997ء میں میاں نواز شریف کے دوسری بار وزیر اعظم بننے پر۔ ان کے چچا خلیل الرحمان(رمدے) بطور جسٹس پاکستان سپریم کورٹ ریٹائرڈ ہیں اور دوسرے چچا اسد اقبال رمدے مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-107(کمالیہ) ٹوبہ ٹیک سنگھ سے امیدوار تھے ہار کئے۔ اس سے پہلے وہ دو بار ممبر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں- محمد ارنگ زیب 1964ء میں پیدا ہوئے۔ پہلے ایچی سن کالج میں پڑھے اور پھر آغا خان سکالرشپ پر امریکی یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وہارٹن سکول میں پڑھے اور انہوں نے وہاں سے سائنس اور اکنامکس میں بیچلرز کیا اور پھر ایم بی اے کیا- انھوں نے بطور بینکار اپنی ملازمت کا آغاز سٹی بینک پاکستان سے کیا اور پھر نیویارک میں بھی ملازمت کرتے رہے۔ 2001ء میں سٹی بینک سے وہ ڈچ بینک اے بی امرو کے کنٹری مینجر بن کر آئے اور پھر انہوں نے 8 سال بطور ہیڈ آف دا گلوبل ہول سیل لینڈنگ اینڈ کمرشل کلائنٹ بزنس کے اس بینک کے ہیڈکوارٹر واقع ایمسٹرڈیم ہالینڈ میں گزارے۔ اسی دوران انہوں نے ڈچ زبان سیکھی اور ہالینڈ کی شہریت بھی لے لی- 2009ء کے شروع میں انھوں نے ڈچ بینک چھوڑ کر سنگاپور میں آر بی ایس انٹرنیشنل میں گلوبل بینکنگ اینڈ مارکیٹ کے ہیڈ اور کنٹری ايکزیکٹو کےطور دسمبر 2010 تک کام کیا، 2011ء میں وا سنگاپور ہی میں جی پی مارگن کے گلوبل بینک کے ایشیاء پیسفک کارپوریٹ ڈویژن کے ہیڈ بن گئے اور 2018ء میں اسے چھوڑ دیا، محمد اورنگ زیب کو 2014ء میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان سٹیٹ بینک کا گورنر لگانے کی پیشکش کی تھی جسے انھوں نے قبول نہ کیا- 2018ء میں وہ حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر اور سی ای او مقرر ہوئے۔ وہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور پاکستان بزنس کونسل کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ ان کا شمار پاکستان کے سب سے زیادہ تنخواہ و مراعات پانے والے سی ای او میں ہوتا ہے لیکن وہ کبھی کسی حکومتی منصب پر فائز نہیں رہے، وہ پاکستان کے سب سے بڑے بینک حبیب بینک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر – سی ای او تھے جس سے مستعفی ہوکر وہ وفاقی وزیر خزانہ بنے، بطور سی ای او حبیب بینک وہ 35 کروڑ 20 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ لے رہے تھے جبکہ بطور وفاقی وزیر خزانہ ان کی تنخواہ اس کا دسواں حصّہ بھی مشکل سے ہوگی- 2023ء کے سال میں ان کی سربراہی میں حبیب بینک نے 113 ارب 60 کروڑ روپے(40 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) منافع کمایا، اس وقت بینک کی بیلنس شیٹ 55 کھرب روپے (40 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں رجسٹرڈ آغا خان فنڈ نے جنرل مشرف کے دور میں 2004ء میں بینک کے 54 فیصد شئیر خرید کیے تھے جبکہ اس کی بیلنس شیٹ 18 ارب 88 کروڑ 34 لاکھ 30 ہزار روپے تھی –۔







