وزیر خزانہ اورنگزیب کا تقرر – انقلابی تبدیلی یا جواء؟
ن لیگ نے پرائیویٹ بینکنک سیکٹر کی ایک طاقتور اور نامور شخصیت کو منصب دیا جس نے نجی مالیاتی سیکٹر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے
عوامی توقعات،معاشی حقائق کے درمیان جو اس وقت بہت بڑی خلیج ہے اسے پاٹنے کا چیلنج بذات خود اورنگ زیب کی قابلیت کا بڑا امتحان ہوگا
ملتان(جوائنٹ ایڈیٹر ڈیسک ) محمد اورنگزیب کا تقرر – انقلابی تبدیلی یا جواء؟ بینکنگ سیکٹر کی جانی پہچانی شخصیت محمد اورنگزیب کی پاکستان کے نئے وزیر خزانہ کے طور پر تعیناتی کے فیصلے کے کیا نتائج نکلیں گے؟ یہ وہ بحث ہے جو پاکستان کے معاشی مستقبل بارے قیافے لگانے والے کر رہے ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے پرائیویٹ بینکنک سیکٹر کی ایک طاقتور اور نامور شخصیت کو پاکستان کی معشیت کے حوالے سے بنیادی اہمیت کی پالیسی سازی کا فرض سونپا ہے۔ کیا اس فیصلے سے پاکستان کو درپیش معاشی مسائل سے نمٹنے کی سوچ میں کوئی بڑا بدلاؤ آئے گا؟ مسلم لیگ نواز نے اس مرتبہ اسحاق ڈار کو وزرات خزانہ کا منصب نہیں دیا بلکہ انہوں نے اس مرتبہ ایک ایسے شخص کو وزرات خزانہ کا منصب دیا ہے جس نے نجی مالیاتی سیکٹر کے اندر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں اور مسلم لیگ نواز کے زرایع اسے حکومت کی معاشی پالیسی میں ایک سٹرٹیجک بدلاؤ قرار دے رہے ہیں؟ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایک سینئر رہنماء جو کابینہ میں بھی شامل ہیں نے دعوا کیا کہ اورنگ زیب خان میاں محمد شہباز شریف کی دریافت ہیں اور انہوں نے ایک تازہ نئے معاشی پرسپکٹو کے ساتھ انہیں وزیر خزانہ متعین کیا ہے اور ان کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ پرائیویٹ سیکٹر میں جو بہترین بدلاؤ لیکر آئے وہ اسے سرکاری مالیاتی سیکٹر میں بھی لیکر آئیں۔پاکستان کے نئے وزیر خزانہ اورنگ زیب خان نے ایک انتہائی پرکشش عہدے سے مستعفی ہوکر ایک ایسی وزرات کا چارج لیا ہے جو سخت ترین چیلنجز کا شکار ہے۔ کیا وہ پرائیویٹ سیکٹر میں کامیابی کی دلیل سمجھے جانے والے کارپوریٹ کلچر کو متعارف کراسکیں گے؟ ملکی معشیت کی منجیمنٹ میں نت نئی جدت کاریوں کو وہ جگہ دے پائیں گے؟نئے وفاقی وزیر خزانہ کا اس وقت سب سے پہلا اور فوری چیلنج تو آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ کرنا ہے جس پر پاکستانی معشیت کا فوری طور پر سنبھالا لینے کا امکان ہوگا- داخلی سطح پر ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج افراط زر کو سنگل ڈیجٹ پر لیکر آنا اور پاکستان کو جو بیرون ملک سے فنانشل ایڈ درکار ہے اسے ممکن بنانا ہیں- ان کا سب سے بڑا کریڈٹ حبیب بینک لمیٹڈ کو مستحکم اور انتہائی منافع بخش ادارہ بنانا ہے۔ کیا وہ اس طرح کی کامیابیاں قومی معشیت کے لیے بھی حاصل کر پائیں گے؟ ایک کامیاب بینکر کے طور پر انہوں نے اپنی سٹریٹجک اور آپریشنل مہارتوں کو جیسے بینکنگ سیکٹر میں نبھایا کیا وہ ایسی صلاحیت وفاقی بجٹ تشکیل دینے اور محفوظ غیر ملکی سرمایہ کاری کو لانے میں استعمال کر پائیں گے؟ ان کا یہ امتحان بھی ہوگا کہ وہ کیسے پاکستان کی خراب مالیاتی صورت حال کو ٹھیک کرنے کے لیے درکار انتہائی سخت اصلاحات کا نفاذ کر پاتے ہیں جسے قریب قریب ماضی کے سب ہی وزرائے خزانہ نے خانہ التواء میں رکھے رکھا-اورنگزیب کے لیے بطور وزیر خزانہ ایک اور نئے چیلنج کا سامنا کریں گے اور وہ ہے پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کا مالیاتی فیصلہ سازی میں بڑھتا ہوا کردار- وہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ‘اتفاق رائےکیسے کرائیں گے اور ملٹری اسٹبلمنٹ کی مداخلت کو کیسے مطابقت میں لائیں گے؟ عوامی توقعات اور معاشی حقائق کے درمیان جو اس وقت بہت بڑی خلیج ہے اسے پاٹنے کا چیلنج بذات خود اورنگ زیب کے بطور وزیر حزانہ ان کی قابلیت کا سب سے بڑا امتحان ہوگا- کیا وہ کارپوریٹ سیکٹر میں اپنے ٹیکنالوجی کے منتر کو پھونک کر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے والی حکمت عملی کا کامیاب اطلاق ملکی معشیت پر کرپائیں گے؟۔







