روزنامہ قوم ملتان میں شایع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی – ایم ڈی اے میں شفافیت کے حوالے سے زوال پذیری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے – نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب ڈی جی ایم ڈی اے زاہد اکرام سمیت کئی ایک افسران کا نام گزشتہ سال رمضان پیکچ کے تحت سستے آٹے کی مد میں مبینہ سوا کروڑ روپےے کے کمیشن اور ترقیاتی کاموں کی مد میں جاری چیکوں پر دو فیصد کمیشن کی بندر بانٹ پر ہوئے جھگڑوں اور مقدمات بازی میں بھی لیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعوا کیا گیا ہے کہ حال ہی میں ایم ڈی اے کے ایک ملازم کی جانب سے اسٹور کیپر شوزب رافع کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کے پیچھے بھی وہی کمیشن کی بندر بانٹ کا جھگڑا چل رہا ہے۔ ایم ڈی اے ملتان کی اسٹبلشمنٹ پر
ہاؤسنگ اسکیم ماڈل ٹاؤن میں ملتان پولیس کو دو کینال کی جگہ 6 کینال اراضی ناجائز طور پر دیے جانے کا اسکینڈل بھی سامنے آیا ہے۔ مبینہ کرپشن سے کمیشن کی تقسیم پر جھگڑے میں ملوث ایم ڈی اے کے جن افسران کا نام سامنے آ رہا ہے ان میں ایم ڈی اے کے موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس احسان قدیر بھی شامل ہیں جن کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ موجودہ ڈپٹی کمشنر رضوان قدیر کے چھوٹے بھائی ہیں اور ان پر الزام ہے کہ ایم ڈی اے ملتان میں تعیناتی کے دوران انہوں نے ہی اپنے بھائی کی ایم ڈی اے میں تعیناتی کرائی تھی اور اس تعیناتی پر بھی قواعد و ضوابط گی خلاف ورزی کے الزامات لگائے جارہے ہیں – جبکہ موجودہ ڈی سی ملتان کی ایم ڈی اے میں مختلف عہدوں پر تعیناتی کے دوران بھی قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اقدامات اٹھانے کے الزامات ہیں- تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے اسٹور کیپر شوذب رافع کا موقف ہے کہ ان پر مبینہ غیرقانونی کام کرنے کا دباؤ تھا اور انکار پر ان کے خلاف انتقامی کاروائیاں کی جارہی ہیں- یہ ساری تفصیلات انتہائی تشویش ناک ہیں- زاہد اکرام جب سے ایم ڈی ملتان تعینات ہوئے ہیں تب سے ایم ڈی اے کی اسٹبلشمنٹ پر مالیاتی بے ضابطگیوں، رشوت خوری اور قواعد وضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات پر مبنی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں- ایم ڈی اے ملتان ، ڈپٹی کمشنر ملتان جیسے دفاتر بہت اہمیت کے حامل ہیں اور ان دفاتر میں مالیاتی اور انتظامی شفافیت کو گدلا کرنے والی میڈیا رپورٹس انتہائی تشویش ناک ہیں- ایم ڈی کی جانب سے ہاؤسنگ اسکیموں میں اسکول اور ڈسپنسری کے لیے مختص زمینوں کو قبضہ گروپوں کے حوالے کیے جانے اور مالیاتی بدعنوانی کے الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے ائے ہیں جب صوبہ پنجاب کی مالیاتی حالت اور بجٹ دونوں انتہائی مشکلات کا شکار ہیں- عالمی ادارے جیسے آئی ایم ایف ہے وہ نئے قرضوں اور گرانٹ کو اداروں میں مالیاتی شفافیت، کارپوریٹ گورننس اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ پر مبنی پالیسیاں اور اقدامات سے مشروط کررہے ہیں – ایسے میں ایم ڈی اے ملتان جیسے ترقیاتی اداروں میں مالیاتی شفافیت، کارپوریٹ گورننس کو بہتر بنانے اور اس کے امیج کو بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم سمجتے ہیں کہ ایم ڈی اے ملتان کے معاملات کا نومنتخب چیف منسٹر محترمہ مریم نواز شریف کو فی الفور نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا وہ چیف سیکرٹری پنجاب کو کہیں کہ وہ گزشتہ سال رمضان پیکج کے تحت سستے آٹے کی اسکیم کے تحت ایم ڈی اے کی جانب سے تقسیم کا آڈٹ کرائیں – اس کے ساتھ ساتھ ایم ڈی اے ملتان کی مالیاتی شفافیت کی جانچ کرنے کے لیے اس کے سپیشل آڈٹ کا حکم نامہ بھی جاری کیا جآئےے تاکہ اس ادارے کی اسٹبلشمنٹ کے اہم عہدے داروں پر لگنے والے انتہائی سنگین الزامات کی تحقیقات ہوسکیں۔







