لادی گینگ سے بچہ بازیاب‘ تاوان کے 20 لاکھ روپے تاحال لاپتہ‘ پولیس سے نکلوانا مشکل

13دسمبر2023کوممتازآبادکے علاقے حیدرپورہ سے آصف بھٹی کے چارسالہ بیٹے کواوباش شخص عامرگوندل کے ایماپراغواکرلیاگیا

عامرگوندل بچہ لیکرخودتونسہ گیا،قبائلی علاقے کےلادی گینگ کے گلی سنجرانی نے بچے کی رہائی کے بدلے 6کروڑروپے تاوان مانگا
20لاکھ میں ڈیل،آصف بھٹی رقم لیکرتونسہ کے علاقے پل قنبرپہنچا،اغواکاروں نے کچے کے علاقے میں لیجاکرپیسے لیکربچہ چھوڑدیا
ملتان اورمظفرگڑھ پولیس تمام کارروائی مانیٹرکرتی رہی، اگلے ہی رو ز چھاپہ ما ر کر اغوا کار گلی سنجرانی کو گرفتار کر کے رقم برآمد کر لی
پولیس نے ٹائوٹ عامر گوندل کو فرار کرا دیا ، آزادپھررہا،آصف بھٹی کو رقم نہ ملی،’’برآمدگی‘‘صرف پولیس کی رائےپرمہرلگ گئی


ملتان(شعیب افتخار سے)تھانہ ممتاز آباد کے علاقے میں حیدر پورہ سے تاوان کے لئے اغوا کئے جانیوالے 4 سالہ عبدالوہاب کی برآمدگی کےبعد اغوا کارکی گرفتاری کے باوجود تاوان میں دی گئی 20لاکھ روپے کی رقم مغوی بچے کے والد کو واپس نہ مل سکی جبکہ ملزمان سے پوری رقم کی برآمدگی 48 گھنٹے کے اندر ہی ہو چکی تھی اور اس کیس نے عوام کی اس رائے کو تصدیق بخش دی کہ برآمدگی صرف اور صرف پولیس کی ہوتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 13دسمبر 2023 کو تھانہ ممتاز آباد کے علاقے حیدر پورہ کے ایک شخص محمد آصف بھٹی کے 4 سالہ بیٹےکو علاقے میں ایک اوباش شخص عامر گوندل کی نشاندہی پر تونسہ کے قبائلی علاقے کے بدنام اغوا کار گروپ گلی سنجرانی کا تعلق لادی گینگ سے بتایا جاتا ہے نے اغوا کر کے 6کروڑ تاوان مانگا اور عامر گوندل از خود اغوا کاروں کے پاس ملتان سے اگلے روز بچے کو لےکر تونسہ گیا تھا نے بچے کے والد عامر گوندل کی جانب سے فراہم کردہ موبائل نمبر پر رابطہ کیا اور پھر ڈیل کے نتیجے میں 20 لاکھ پر بات ختم ہو گئی ۔ محمد آصف بھٹی 20 لاکھ روپے لے کر تونسہ کے علاقے پل قنبر پہنچا تو اغوا کاروں کا ساتھی موٹرسائیکل پر اسے بٹھا کرکچے کے علاقے میں لے گیا اور رقم وصول کرنے کے بعد بچہ حوالے کر دیا۔ملتان اور مظفر گڑھ پولیس سادہ کپڑوں میں اس تمام کارروائی کی مانیٹرنگ کرتی رہی اور اگلے ہی رو ز چھاپہ ما ر کر اغوا کار گلی سنجرانی کو گرفتار کر کے رقم برآمد کر لی۔اس دوران پولیس نے اپنے ٹائوٹ عامر گوندل کو فرار کرا دیا کیونکہ عامر گوندل کو پولیس کی ٹائوٹی کے علاوہ اپنے بھائی پولیس انسپکٹر کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔پولیس نے عامر گوندل کے اہل خانہ کو چند دن حراست میں لے کر مدعی اوراہل علاقہ کی ضمانت پر رہا کر دیا۔ بعد ازاں مدعی محمد آصف نے گلی سنجرانی کی والدہ کی طرف سے مغوی بچے کی والدہ کے پائوں میں دوپٹہ رکھنے پر اسکواس شرط پر معاف کر دیا کہ تاوان کی رقم مغوی بچے کے والد کو واپس ملے گی جس کی تصدیق بھی سابق ایس پی قاضی علی رضا کے سامنے ہو چکی تھی کہ ساری رقم برآمد ہو چکی ہے مگر ڈھائی ماہ گزر جانے کے باوجود 20 لاکھ روپے میں سے ایک پائی بھی مغوی بچے عبد الوہاب کے والد محمد آصف بھٹی کو نہ ملی سکی اور نہ ہی اغوا کے اس سارے گھنائونے کھیل کا مرکزی کردار جو کہ چند روپوں میں پولیس کا سب سے بڑا مخبر بھی ہے تا حال آزاد پھر رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں