عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خصوصی نشستوں کے بغیراحتجاج کے ساتھ یہ ایکشن لڑا،کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایوان کا حصہ بنیں اور اس ایوان کوباوقار بنائیں۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے ووٹ اکانوےنکلے اور آپ کے ووٹ ایک سواکانوے میں سنگل ہوں آپ سات پارٹیاں ہیں۔ 8 فروری کا الیکشن جو خاموش انقلاب تھا۔اگر فارم 45 کے مطابق ا س ایوان میں نتیجہ آتا تو میرےووٹ 225 ہوتے۔8 فروری کو پاکستان کی غیور عوام نے عمران خان کے نظریے کو اس کی جدوجہد کوان نشانوں کو جو کوئی بینگن تھا،کوئی ڈھول تھا، کوئی جوتا تھا،کوئی گھڑیال تھا، ڈھونڈ ڈھونڈ کےمہر لگائی اور 180 سیٹیںہمیں دیں۔ پھر کیا ہوا ایک الیکشن9فروری کو ہوا اور آپ جانتے ہیں، آپ کی قیادت جانتی ہے کہ فارم 47کے ذریعےہمارے مینڈیٹ پہ ڈاکہ ڈالا گیااور قومی کی80 سیٹیں ہم سے چھینی گئیں ۔ اگر وہ 180 سیٹیںہوں اور ہماری خصوصی خصوصی نشستیں ہوں تو آج بھی تحریک انصاف اس ایوان کی سب سے بڑی اکیلی سنگل لارجر پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پارٹی کا چیف وہپ رہا ہوں ،مجھے پھر میرے قائدنے چیف وہپ بنایا، کاؤنٹنگ میراکام ہے آپ جانتے ہیں، میں225 سیٹوں کے ساتھ آج اس ایوان میں کھڑا ہوں۔







