پنجاب ،کے پی کے میں وزرا اعلیٰ کی نامزدگیاں،انتقامی سیاست ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

پنجاب ،کے پی کے میں وزرا اعلیٰ کی نامزدگیاں،انتقامی سیاست ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

ملتان ( ایڈیٹر انوسٹی گیشن ڈیسک) کیا پاکستان پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے درمیان وفاق، پنجاب اور کے پی کے میں انتقام کی سیاست اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات کے اندراج کے نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے؟ یہ سوال پنجاب میں مریم نواز شریف اور صوبہ خیبرپختونخوا میں علی امین گنڈا پور کی بطور چیف منسٹر نامزدگی کے بعد سے سیاسی حلقوں اور عام آدمی کے درمیان ہونے والے مباحثوں میں کثرت سے پوچھا جا رہا ہے۔ این اے181 لیہ سے پی ٹی ائی کی حمایت یافتہ ممبر قومی اسمبلی امبر مجید کے بیٹے کی سوشل میڈیا پر ایک تقریر وائرل ہے جس میں وہ اپنے حلقے میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے لوگوں پر صوبہ خیبرپختونخوا کے ہر ایک تھانے میں مقدمہ درج کرانے کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں۔ وہ علی امین گنڈا پور کو اپنا قریبی دوست بتارہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نواز کے کئی ایک رہنما بشمول رانا ثناء اللہ صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ نواز پنجاب کے ویڈیو کلپ بھی گردش کررہے ہیں جن میں وہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو خبردار کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ خود پی ٹی آئی کے کے پی کے کے لیے نامزد چیف منسٹر علی امین گنڈا پور کی ڈیرہ اسماعیل خان میں جیت کے بعد کی گئی تقاریر کے جو ویڈیو کلپ ہیں وہ خاصے جارحانہ ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کے قریبی حلقوں کا دعو یٰ ہے کہ عمران خان وفاق اور پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت میں تشکیل پانے والی حکومتوں کو ٹف ٹائم دینے کے حق میں ہیں ۔انہوں نے علی امین گنڈا پور کی بطور چیف منسٹر کے پی کے نامزدگی کرکے پیغام دیا ہے کہ وہ کے پی کے میں خاص طور پر نواز لیگ اور جے یو آئی ایف کو ٹف ٹائم دیں گے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں نئی حکومتوں کی تشکیل کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز بشمول اس کی اتحادی جماعتیں اور پاکستان تحریک انصاف بشمول اتحادی جماعتوں کے درمیان سیاسی جنگ کا میدان دوبارہ سجے گا اور یہ فری اسٹائل ریسلنگ زیادہ ہوسکتی ہے۔ وفاق، پنجاب اور کے پی کے کے تھانے اس جنگ کے بڑے محاذ بن سکتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں سے پردے کے پیچھے ہونے والی گفتگو سے ایسا تاثر ملا ہے کہ نواز لیگ کو وفاق میں اور پنجاب میں اپنی کمزور پوزیشن کا ادراک ہے اور وہ محاذ آرائی کی طرف جانے سے گریز کرنا چاہتی ہے لیکن اس کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی اسے لامحالہ زبردست محاذ آرائی میں گھسیٹ لے گی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صوبائی رہنما طلال چودھری نے دعو یٰ کیا ہے کہ مریم نواز شریف سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتیں اور ان کی وزرات اعلیٰ کے دور میں پنجاب میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہوگا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی مفاہمت کرانے کے لیے کوشش کررہے ہیں ان کی اس کوشش پر خود پی پی پی پنجاب اور کے پی کے سے تعلق رکھنے والے سرکردہ رہنما راضی نظر نہیں آرہے۔ پی ٹی آئی ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر رہنماء نے روزنامہ قوم ملتان سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر پی ٹی آئی کو زبردستی وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے سے روکا گیا اور جن حلقوں میں فارم 47 میں کی جانے والی گربڑ واپس نہ لی کئی تو قومی مفاہمت کے لیے کوئی لچک دیکھنے کو نہیں ملے گی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت عسکری اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی مخالف سیاسی جماعتوں کو وفاق میں حکومت اور کابینہ میں شامل ہونے پر زور دے رہی ہے اور پاکستان مسلم لیگ نواز کا پی پی پی پر شدید دباؤ ہے کہ وہ مرکزی کابینہ کا حصّہ بنے۔ جبکہ پی پی پی اصرار کررہی ہے کہ وسیع مشاورتی دائرے میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کیا جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں