الیکشن 2024 کے مشکوک نتائج، پاکستانی معیشت کیلئے خطرہ، ہر سال کتنے ارب ڈالر درکارہونگے ،خطر ناک اعداد شمار سامنے آگئے

الیکشن 2024 کے مشکوک نتائج، پاکستانی معیشت کیلئے خطرہ کیوں؟، ہر سال کتنے ارب ڈالر درکارہونگے ،خطر ناک اعداد شمار سامنے آگئے

ملتان(عامر حسینی، جوائنٹ ایڈیٹر) پاکستان میں عام انتخابات کے بعد ابھرنے والی بے یقینی کی کیفیت نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ منفی کردی ۔ موڈی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی قرض واپس کرنے کی اہلیت کو انتہائی کمزور قرار دے دیا۔
موڈی انوسیٹرز سروسز نے 14 فروری 2024ء کو پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بارے اپنی حالیہ رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات کے مشکوک نتائج سے سیاسی بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوکئی ہے۔ انتخابات میں کسی سیاسی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت نہیں ملی اور نئی پارلیمنٹ کا معلق ہونا یقینی ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان حکومت تشکیل دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں لیکن اس دوران سیاسی بے یقینی اور پالیسیوں بارے فیصلے نہ کیے جانے پاکستان کی معاشی حالت بارے عالمی مالیاتی اداروں کے شکوک بڑھادیے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی بے یقینی کی کیفیت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میکرواکنامک سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان کی اندرونی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی بارے گہرے شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔
موڈی انوسیٹرز سروسز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی بے یقینی نے اس کی کریڈٹ ریٹنگ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔اس منفی ریٹنگ کے سبب پاکستان کی آئی ایم ایف سے قرض کےنئےمعاہدے بارے بھی شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں۔پاکستان کو مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ پاکستان کے پاس اپنی ضرروتوں اور دیگر ممالک کے قرضوں کی اقساط کی ادائيگی کے لیے درکار پیسہ نہ ہونے کا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت تک رہے گی جب تک پاکستان مطلوبہ پیسے اور وسائل کو بہتر بنانے کے لیے طویل المدت منصوبہ نہیں بنا لیتا۔
عالمی ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو محض 6 ہفتوں کی امپورٹ کے لیے ہیں اور اس سے پاکستان کی میکرواکنامک مسائل کو حل نہ کرنے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف نے نے اپنی ایک رپور ٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کو مالیاتی سال 2025ء کے آغاز تک 25 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی اور آنے والے سالوں میں بھی اتنے ہی ڈالر درکار ہوں گے۔ موڈی انوسٹرز سروسز کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی مالیاتی ضروریات محض آئی ایم ایف پروگرام سے پوری نہیں کرسکے گا۔ اسے ائی ایم ایف سے اگے دیگر ذرائع سے فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے ٹھوس فنانشل سٹریٹجی بنانا ہوگی۔
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میںمخلوط حکومت کی تشکیل کا تجربہ اگر کامیاب بھی رہا تب بھی سیاسی طور پر ایک مضبوط ایڈمنسٹریشن/ انتظامیہ کے امکانات نہیں ہیں۔ ایسی حکومت درکار لازمی معاشی اصلاحات پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔ پاکستان کو میکرواکنامک استحکام لانے کیلئے آمدنی بڑھانے کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لیے درکار اقدامات پر اتفاق رائے بہت مشکل ہوگا- رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر نئی انتظامیہ کے دور میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو وہ حکومت کی اصلاحات کرنے میں بہت بڑی روکاوٹ ثابت ہوں گے۔ روزنامہ قوم ملتان سے بات چیت کرتے ہوئے ماہرین معاشیات کا کہنا تھا کہ کریڈٹ نیگٹو میں اضافہ ہونے کا پاکستان کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ عالمی اور مقامی کریڈٹ ایجنسیاں پاکستان کی قرض دینے میں ملوث بلند خطرات کے سبب اور زیادہ بلند شرح سود پر قرض دیں گے۔ پاکستان کو سکوک بانڈز اور ٹریژری بل مقامی اور غیرملکی خریداروں کے لیے اور زیادہ بلند شرح منافع پر جاری کرنا پڑیں گے اور اس سے قرض کی لاگت بڑھے گی- ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بارے میں سرمایہ کاروں کا مورال پہلے ہی گرا ہوا ہے جو اور گرے گا اور اس سے پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے میں کمی آئے گی- ان کا کہنا تھا کہ اگر صورت حال یہی رہی تو اس سے مالیاتی اور معاشی معاملات اور ابتری کی طرف جائیں گے اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مزید گرآئیں کی اور اس سے پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں تک رسائی اور مشکل ہوجآئے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں