ٹرانسپورٹ آفیسر ثمر وحید نےاپنے کارخاص ڈرائیور سعد کے ذریعے متاثرہ سٹوڈنٹ عروسہ کو مبینہ طور پردھمکا کر خاموش کروا لیا
فون کالز کے ذریعے طالبہ کو ڈرا کرثمر وحید اور سعد نے کردار ادا کیا، اعلیٰ سطح پر سرکاری دباؤ نے ڈی پی او کے بھی ہاتھ باندھ دئیے
ثمر وحید کے یونیورسٹی میں منشیات سپلائی کرنیوالے منورہ باندی سے رابطے،موصوف کیخلاف خاتون لیکچرارکو ہراساں کرنیکا بھی مقدمہ

ملتان(سٹاف رپورٹر )اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جنسی ہراسمنٹ کے واقعات نہ تھم سکے، اس حوالے سے خبروں کی اشاعت پر ٹرانسپورٹ آفیسر ثمر وحید نے درخواست دہندہ بی ایس کی طالبہ عروسہ کو اپنے کارخاص ڈرائیور سعد سے دھمکیاں دلوا کر خاموش کرا دیا۔ مزید انکشافات سامنے آئے ہیں کہ اس یونیورسٹی میں سٹاف کی بھی عزتیں غیر محفوظ ہیں اور ٹرانسپورٹ آفیسر کو کھلی چھوٹ تاحال ملی ہوئی ہے،یونیورسٹی میں خوف ہراس کی فضا بدستورقائم ہے اور اسی وجہ سے داخلوں میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ سیاسی دباو بھی کم نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے وائس چانسلر بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ تفصیل کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں جنسی زیادتی کے معاملات منظر عام پر آنے کے بعد مزید انکشافات بھی سامنے آنے لگ گئے۔ چند روز قبل ہی ایک طالبہ عروسہ نے وائس چانسلر کو ٹرانسپورٹ آفیسر بارے درخواست میں اسکا سارا بھانڈا پھوڑا تو کئی سنسنی خیز انکشافات واضح ہونے لگے، زرائع کے مطابق ٹرانسپورٹ آفیسر ثمر وحید اسلامیہ یونیورسٹی میں مبینہ مشکوک محفلوں میں بدستور مصروف ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق موصوف نے اپنے کارخاص ڈرائیور سعد کے ذریعے متاثرہ سٹوڈنٹ عروسہ کو بھی مبینہ طور پر دھمکا کر خاموش کروا لیا ہے اور طالبہ اب نہایت خوف زدہ ہوکر اپنے تمام تر الزامات سے منحرف ہو گئی ہیں کیونکہ اعلیٰ سطح پر سرکاری دباؤ نے ڈی پی او بہاولپور کے بھی ہاتھ باندھ کر رکھ دیے ہیں۔ آج بھی اگر سی ڈی آر لیا جائے تو اس دوران زیادہ تر کالز ثمر وحید ٹرانسپورٹ آفیسر کی کارخاص ڈرائیور سعد اور مدثر نامی شخص کی سامنے آئیں گی جو اس معاملے کو سلجھانے اور طالبہ کو ڈرانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ منشیات کی سپلائی یونیورسٹی میں ثمر وحید ٹرانسپورٹ آفیسر کے رابطے میں ایک بدنام زمانہ منشیات فروش منورہ باندی جو کہ منشیات فروش ہے اور مبینہ طور پر اس کے خلاف درجنوں ایف آئی آرز درج ہیں اور ثمر وحید کےمنشیات فروش سے روابط بھی ہیں اور منشیات فروش کی ابھی بھی یونیورسٹی میں سپلائی جاری ہے۔ ماضی میں اسی یونیورسٹی میں ایک خاتون لیکچرار کو جنسی ہراسگی اور زدو کوب کرنے کی کوشش کی جس پر تھانہ سول لائن پولیس نے مقدمہ درج کیا جس میں موصوف نےلیکچرار سے 62 ہزار نقدی اور سونے کی چین سرعام چھین لی اور ہراساں کیا۔ متاثرہ لیکچرار کی مدعیت میں ایف آئی آر تو درج ہو گئی مگر مذکورہ خاتون لیکچرار کو بھی سعد اور مدثر کے ذریعے تھریٹ کیا گیا تھا مگر آج تک ایف آئی آر صرف ردی کا ٹکڑا بنا ہوا ہے۔ نئے وائس چانسلر بھی صورتحال کنٹرول نہیں کر پا رہے۔







