گورنر ہاؤس لاہور میں جامعہ کے مالی، انتظامی چیلنجز بارے میٹنگ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشنکی انکوائری رپورٹس سامنے لانے ،عمل درآمد کی تجویز
نئے ڈیپارٹمنٹس میں سٹاف کی تعیناتیوں، تنخواہوں میں اضافے، ایڈمیشن میں کمی نے یونیورسٹی کو شدید مالی مشکلات سے دو چار کیا:وائس چانسلر
ہایٔر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے نے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ تعیناتیوں میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی اور ذمہ داران کو سامنے لانے کا مشورہ
لاہور(سٹاف رپورٹر) بہاولپور سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب جو کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے چانسلر بھی ہیں کی سربراہی میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی غیر یقینی مالی حالت کے بارے میں ہونے والی اعلی سطحی میٹنگ میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کی ناقص کارکردگی اور کرپشن کھل کر سامنے آ گئی اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ داخلوں میں کمی واقع ہو گئی ہے اور تنخواہیں ادا کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے کیونکہ رواں مالی سال میں اس یونیورسٹی کا خسارہ7 بلین سے بڑھ چکا ہے۔ اس میٹنگ میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی بھرتیوں پر سابقہ دور میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر بھی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی تجویز دی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال بجٹ میں 3 ارب 90 کروڑ کے اخراجات ظاہر ہی نہیں کئے گئے جس کی تحقیقات کی سفارش کی گئی۔ اس میٹنگ کے منٹس منظر عام پر آ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گورنر ہاؤس لاہور میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی سربراہی میں 18 جنوری 2024 کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے مالی، انتظامی چیلنجز کے بارے میں میٹنگ منعقد کی گئی جس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی آسلام آباد ڈاکٹر ضیاء القیوم ، ایڈوائزر ایچ ای سی ڈاکٹر مظہر سعید، ڈائریکٹر فنانس ثمینہ درانی، سیکرٹری ہایٔر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب خالد سلیم، ایڈیشنل سیکریٹری کامران خان، ایڈیشنل سیکرٹری ہایٔر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب طارق محمود اعوان، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس مس زینب خان، چیرمین پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر، سی او او ڈاکٹر منصور احمد بلوچ، ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی نعمان مقبول راؤ، وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر نوید اختر، خزانچی اسلامیہ یونیورسٹی عبد السّتار ظہوری، ڈویژن ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ شاہسوار نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں جو معاملات طے پائے ان کے مطابق سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے اسلامیہ یونیورسٹی کی نازک صورتحال پر کھل کر اظہار خیال کیا اور چند تجاویز پیش کیں جس کے مطابق اسلامیہ یونیورسٹی چونکہ ایک خود مختار ادارہ ہے اس لیے یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کو یونیورسٹی کے معاملات پر چھوڑ دیا جائے جو کہ شارٹ اور لانگ ٹرم حل پیش کرے۔ انہوں نے یونیورسٹی کو ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کی یقین دہانی کروائی اور تجویز کیا کہ یونیورسٹی کے جاری پروجیکٹس کی ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلیویشن سے ازسر نو ایویلیویشن کروائی جائے اور پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ سے یونیورسٹی کی مالی معاونت کا تخمینہ لگوایا جائے تاکہ یہ پروجیکٹس بغیر کسی نقصان کے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ تمام انکوائری رپورٹس کو متعلقہ فورم کے سامنے لایا جائے اور ان پر عمل درآمد کیا جائے ۔ اس میٹنگ میںچیئرمین ہایٔر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کی سربراہی میں اسلامیہ یونیورسٹی کے معاملات پر کمیٹی بنا دی گئی جو کہ 7 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔ مزید تجویز کیا کہ اخراجات کے نقصان کو کم کرنے کے لیے یونیورسٹی کو اپنے تعلیمی اور انتظامی معاملات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ نئے تعمیر ہونے والے ڈیپارٹمنٹس میں اساتذہ اور سٹاف کی تعیناتیوں اور تنخواہوں میں اضافے، ایڈمیشن میں کمی نے یونیورسٹی کو شدید مالی مشکلات سے دو چار کیا ہے۔مالی سال 2023-24 میں یونیورسٹی کو 7 بلین کا نقصان ہو چکا ہے۔ جس سے یونیورسٹی ملازمین کو تنخواہیں اور مراعات دینا مشکل ہو گیا ہے ان حالات میں کمرشل بینکس سے بہت زیادہ سود پر قرض لینے پر یونیورسٹی مجبور ہو چکی ہے۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کی مالی مشکلات کو کم کرنے کے لیے کچھ تجاویز پیش کیں ۔ جس میں نئی ملازمتوں پر مکمل پابندی، غیر قانونی تعینات ملازمین کی فوری برخاستگی ، پی او ایل میں کمی، ہاؤس رینٹ الاؤنس پالیسی میں تبدیلی، غیر قانونی طور پر بھرتی کیے گئے ایسوسی ایٹ لیکچرارز کی برخاستگی شامل ہیں۔ تاہم ان کو وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھرتی کیا جا سکتا ہے ۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ مزید پروجیکٹس کی مقررہ مدت پر تکمیل، گرلز ہاسٹل ، بیچلر ہاسٹل اور ایڈیشنل کلاس رومز کے لیے گورنمنٹ سپیشل گرانٹ مہیا کرے۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے نے بتایا کہ متعدد مواقع پر خاص طور پر سینڈیکیٹ کی میٹنگ میں یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ بجٹ بکس میں مالی شفافیت نہ دکھائی گئیہے ، مزید بتایا کہ 2022-23 میں 3.9 بلین کے اخراجات بجٹ بکس میں نہ دکھائے گئے تھے۔ اور سینڈیکیٹ میں ہونے والے فیصلوں میں یونیورسٹی کے باہر کے ممبران کے نوٹس کو کوئی اہمیت ہی نہ دی گئی مزید کہا کہ یونیورسٹیوں کو کمرشل بینکس سے قرضہ لینے کی اجازت نہیں ہے ۔ 2023-24 کے لیے 50 ملین کی گرانٹ منظور کی گئی ہے لیکن یونیورسٹی نے ابھی تک اس بارے کوئی درخواست نہیں دی اس بات پر زور دیا گیا کہ یونیورسٹی کے تمام مسائل کا حل مالی ڈسپلن اور یونیورسٹی کے لیگل فریم ورک پر ہے۔ ہایٔر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے نے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ تعیناتیوں میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی اور ذمہ داران کو سامنے لانے کا مشورہ دیا تاکہ مستقبل میں اس بے قاعدگی سے بچا جا سکے ۔چیئرمین ہایٔر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے تجویز دی کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو کہ یونیورسٹی کے مالی معاملات پر نظر ثانی کرے اور ڈیپارٹمنٹس میں اساتذہ اور سٹاف کی عین ضرورت کو واضح کرے۔







