غیر قانونی وائس چانسلراین ایف سی کی کرپشن ، ایوان صدرکا ملازم حقائق پہنچنے میں رکاوٹ

بھٹی نامی ایوان صدر کے ملازم نے اپنے بھتیجے نویل ولایت بھٹی کو یونیورسٹی میں اکاؤنٹس کلرک لگوایا ہوا، فری رہائش،الاؤنسزکی ’’سہولیات‘‘ میسر

ڈاکٹر کالرو نے تمام تر چیکوں پر دستخط کے اختیارات بھی نویل کو دے رکھے، صدر مملکت کی ٹیبل اور ان کے سیکرٹری تک معلومات جانے ہی نہیں دی جاتی

ملتان(سٹاف رپورٹر) ایوان صدر میں صدر عارف علوی تک این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے غیر قانونی اور نا جائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کی کرپشن، قوائد و ضوابط کی پامالی اور غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے بھیجے جانے والے تمام خطوط ایوان صدر میں تعینات بھٹی نامی ایک ملازم راستے سے ہی غائب کر دیتے ہیں۔ اور کوئی بھی معلومات صدر مملکت کی ٹیبل تک اور ان کے سیکرٹری تک جانے ہی نہیں دی جاتی۔ بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت جو کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے چانسلر بھی ہیں کیونکہ یہ یونیورسٹی وفاق کے زیر انتظام ہے ۔ بھٹی نامی ایوان صدر کے ملازم نے اپنے ایک بھتیجے کو این ایف سی یونیورسٹی میں اکاؤنٹس کلرک ڈیلی ویجز پر لگوایا ہے اور اس کا نام نویل ولایت بھٹی ہے۔ جس کا تعلق منڈی بہاوالدین سے ہےاور اس یونیورسٹی میں فری رہائش کے علاوہ تقریباً 20 ہزار ماہانہ شارٹ کورسز اور ایم ایس الاؤنس کے نام پر دیا جاتا ہے ، 10 ہزار این ایف سی ٹرسٹ کے الاؤنس کے طور پر دیا جاتا ہے ، 9 ہزار ہارڈ شپ الاؤنس دیا جاتا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ این ایف سی ٹرسٹ کے ڈیلی ویجز ملازم نویل ولایت بھٹی کو این ایف سی یونیورسٹی کے غیر قانونی اور نا جائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے تمام تر چیکوں پر دستخط کے اختیارات دے رکھے ہیں جو کہ رجسٹرار کے پاس بھی نہیں ہیں بلکہ این ایف سی یونیورسٹی کے ہر چیک پر جن 3 افراد کے دستخط ہوتے ہیں ان میں سے ایک نا جائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو ، دوسرے نا جائز خزانچی مغفور انور چغتائی اور تیسرے ایوان صدر کے ملازم بھٹی کا بھتیجا یونیورسٹی کا اکاؤنٹس کلرک نویل ولایت بھٹی کے ہوتے ہیں، اس مسلسل رشوت کے عوض ایوان صدر کے اسلام آباد میں تعینات بھٹی این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے غیر قانونی اور نا جائز وائس چانسلر کو ایوان صدر کی اس یونیورسٹی کے حوالے سے سرگرمیوں سے اپ ڈیٹ رکھتے ہیں اور کسی بھی شکایت پر مشتمل ڈاک ایوان صدر کے متعلقہ افراد تک جانے نہیں دیتے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے نا جائز اور 12 سال سے قابض وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ 31 جنوری کو 65 سال کے ہو جائیں گے کیا وہ اپنا غیر قانونی قبضہ بغیر کسی تعیناتی کے آرڈر کے قائم رکھیں گے۔ یا پھر وفاقی وزارت تعلیم اور صدر پاکستان این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے نا جائز وائس چانسلر سے یہاں کے ملازمین اور پروفیسر حضرات کی جان چھڑانے میں کامیاب ہو پائیں گے۔ کیونکہ نا جائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو اس بات کو بہت بار دہرا چکے ہیں کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ چاہے وہ سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم ہوں یا صدر پاکستان ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں