این ایف سی :ڈاکٹرکالروکا’’تاحیات‘‘ وی سی بننےکامنصوبہ،ریٹائرمنٹ سے2دن قبل نئی واردات

سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی سفارش پرڈاکٹراخترکالرو2012سےصرف ایک سی وی کی بنیادپرغیرقانونی طورپروائس چانسلرکےعہدےپرقابض

صدر پاکستان اختر کالرو کو 2017 میں عہدے سے برخاست کر چکے ،2021 میں لاہورہائیکورٹ سے سٹےواپس،اسسٹنٹ پروفیسرمرزازوہیب نےتعیناتی کوچیلنج کیا

غیر قانونی رجسٹرار کی ملی بھگت سے وائس چانسلر کی کرسی کیلئے غیر قانونی اخبار اشتہار، اپلائی کرنے کی آخری تاریخ 29 جنوری ،ڈاکٹرکالروکی ریٹائرمنٹ کی تاریخ31جنوری ہے

سینیٹ این ایف سی یونیورسٹی کا وجود ہی نہیں ، اشتہار میں رجسٹرار کا عہدہ سیکرٹری سینیٹ دکھایا گیا، اخبار اشتہارجعلی وائس چانسلر کے آفس میں تیار کیا گیا، خودہی درخواستیں کیسے وصول کرسکتے؟

2012 آج تک کبھی وی سی ، رجسٹرار ، خزانہ دار اور کنٹرولر کے عہدےکیلئے کوئی اخبار اشتہار نہ دیا گیا ، غیر قانونی وائس چانسلرکی چوتھی مدت کی تعیناتی کیلئے وارادات ،ملازمین کاحکام سے نوٹس کامطالبہ

ملتان(سٹاف رپورٹر)این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے جعلی اور غیر قانونی وائس چانسلر کی رجسٹرار کی ملی بھگت سے ایک اور غیر قانونی کارروائی سامنے آ گئی ۔ تفصیل کے مطابق این ایف سی یونیورسٹی کو 2012 میں ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوٹ کا درجہ ملنے کے بعد ڈاکٹر اختر کالرو کو صرف ایک سی وی کی بنیاد پر اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر غیر قانونی اور سیاسی بنیاد پر بغیر کسی اخبار اشتہار اور بغیر کسی مدت کے تعینات کیا گیا تھا جس پر وہ ابھی تک غیر قانونی قبضہ کیے بیٹھے ہیں جب کہ صدر پاکستان بھی پروفیسر اختر کالرو کو 2017 میں عہدے سے برخاست کر چکے ہیں جس پر وی سی اختر کالرو نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ سے سٹے لے لیا۔2021 میں وہ سٹے بھی واپس لے چکے ہیں۔ 17 جون 2023 کو این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے اسسٹنٹ پروفیسر مرزا زوہیب نے ان کی غیر قانونی تعیناتی کو لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں چیلنج کیا۔ جس کی بابت گورنمنٹ آف پاکستان کے موصول شدہ کمنٹس کے مطابق اختر کالرو وائس چانسلر کی سیٹ پر غیر قانونی طور پر براجمان ہیں ۔ واضح رہے کہ اختر کالرو 31 جنوری 2019 کو بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور یہ 31 جنوری 2024 کو 65 سال کے ہو جائیں گے۔ ایچ ای سی کے قوانین کے مطابق وائس چانسلر کی کرسی کے لیے مطلوبہ عمر 65 سال ہے۔ اور غیر قانونی وائس چانسلر این ایف سی یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر اختر کالرو نے غیر قانونی رجسٹرار کی ملی بھگت سے وائس چانسلر کی کرسی کے لیے غیر قانونی اخبار اشتہار دیا ہے۔ جس کی بابت ایک پروفیسر کی جانب سے ایک کمپلینٹ سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم، ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ، صدر مملکت ، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن ، سیکرٹری لا، چیئرمین سینیٹ، نیب اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھی کی جا چکی ہے جس میں یہ لیگل نکات واضح طور پر درج ہیں۔1۔ رجسٹرار جو کہ خود 12 سال سے ایڈیشنل چارج پر عارضی طور پر تعینات ہیں اور یہ سینیٹ سے تعینات نہیں ہیں۔ان کو رجسٹرار کی کرسی پر غیر قانونی وائس چانسلر نے 2012 میں تعینات کیا تھا۔ یہ حیران کن بات ہے کہ وائس چانسلر رجسٹرار کی تعیناتی کر رہے ہیں اور 12 سال سے عارغی رجسٹرار وائس چانسلر کی کرسی کے لیے انہی غیر قانونی وائس چانسلر اختر کالرو کو چوتھی مرتبہ اسی این ایف سی یونیورسٹی میں تعینات کروانے لیے اخبار اشتہار دے رہے ہیں۔ اور اس میںغیر قانونی وائس چانسلر اور غیر قانونی رجسٹرار کی ملی بھگت واضح ہے۔2۔ سینیٹ این ایف سی یونیورسٹی جس کا وجود ہی نہیں ہے۔ اخبار اشتہار میں ان کا عہدہ سیکرٹری سینیٹ کا دکھایا گیا ہے ۔3۔ جب این ایف سی یونیورسٹی ملتان کی سینیٹ موجود نہیں ہے تو سرچ کمیٹی کیسے ہو سکتی ہے۔ سرچ کمیٹی میں سینیٹ کے 2 اراکین کا ہونا ضروری ہے ۔ 4۔ وائس چانسلر جو کہ 31 جنوری 2024 کو 65 سال کے ہو جائیں گے اور اپلائی کرنے کی آخری تاریخ 29 جنوری رکھی گئی ہے اور اخبار اشتہار میں قابلیت کی شرائط کے پوائنٹ a کے مطابق وائس چانسلر کی عمر 29 جنوری سے پہلے 65 سے کم ہونا ضروری ہے ۔ 5۔ یہ اخبار اشتہار وائس چانسلر کے آفس میں تیار کیا گیا ہے اور رجسٹرار کے نام سے ایڈورٹائز کیا گیا ہے۔6۔ غیر قانونی وائس چانسلر یونیورسٹی کے عارضی رجسٹرار کے ذریعے یونیورسٹی میں ہی وائس چانسلر کی کرسی کے لیے کیسے درخواستیں موصول کر سکتے ہیں۔ جب کہ وفاقی وزارت تعلیم بھی انہیں غیر قانونی وائس چانسلر تسلیم کر چکی ہے۔ 7۔ حیران کن طور پر 2012 سے آج تک کبھی وائس چانسلر ، رجسٹرار ، خزانہ دار اور کنٹرولر کے عہدے کے لئے کوئی اخبار اشتہار نہ دیا گیا اور اب غیر قانونی وائس چانسلر کو مزید چوتھی مدت کی تعیناتی کے لیے ان کے 65 سال سے پہلے اخبار اشتہار دیا جا رہا ہے۔ یہ اخبار اشتہار مکمل طور پر بد نیتی پر مبنی ہے تاکہ اختر کالرو مزید غیر معینہ مدت تک کام کر سکیں۔ این ایف سی یونیورسٹی کے تمام ملازمین کی صدر پاکستان عارف علوی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر، سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم ، کیبنٹ ڈویژن ، چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ، نگران وزیراعظم پاکستان، منسٹری لاسے پر زور اپیل ہے کہ غیر قانونی طور پر براجمان وائس چانسلر سے این ایف سی یونیورسٹی ملتان کو آزاد کروایا جائے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں