لودھراں: پولیس کا ’’دادا‘‘امین پچادا جعلی مدعیوں کی ’’فیکٹری‘‘ کا مالک

بدنام زمانہ ٹائوٹ پولیس کی یومیہ پٹرول پرچی سے گیلےوال آتا جاتا،بلدیہ کی دو پرچیوں سے نان کسٹم پیڈ ڈالے اور گاڑیاں رواں دواں

لودھراں پولیس اور دیگر محکموں کے سرکاری افسران براہ راست کسی سے ڈیل نہیں کرتے، امین پچادا ہی دو طرفہ معاملات دیکھتا ،لین دین کرتا

امین بلوچستان سے گاڑی لا کر کسٹم حکام کی ملی بھگت سے کاغذات تیار کراتا اورفروخت کرتا، خبر نہ لگائیں ہتھ ہولا رکھیں:ٹائوٹ کی ’’قوم‘‘ سے گزارش

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) لودھراں کے بدنام زمانہ ٹائوٹ چوہدری امین پچادا بارے مزید انکشافات ہوئے ہیں کہ لودھراں پولیس یومیہ پٹرول کی پرچی دیتی ہے جس سے وہ اپنی رہائش واقع گیلے وال آتا جاتا ہے اور روزانہ دو پٹرول پرچیاں بلدیہ لودھراں کی طرف سے ملتی ہیں جس سے اس کی نان کسٹم پیڈ ڈالے اور گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں رہتی ہیں۔ لودھراں پولیس اور دیگر محکموں کے سرکاری افسران براہ راست کسی سے ڈیل نہیں کرتے بلکہ چوہدری امین پچادا ہی دو طرفہ معاملات دیکھتا اور لین دین کرتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چیمبر آف کامرس بہاولپور کے سابق عہدے دار کے خلاف جو حدود کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا تھا اس کیلئے مدعیہ کا انتظام بھی چوہدری امین ہی نے کیا تھا اور وہی اسے لاہور سے لے کر آیا تھا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک معزز شخص کے خلاف بھی اس قسم کا ایک مقدمہ اسی ٹائوٹ چوہدری امین نے ایک عورت پیش کر کے کرایا حالانکہ مذکورہ شخص ان ایام میں لاہور میں تھا اور اس نے ان دنوں تو کیا اس سال بھی بہاولپور کا دورہ نہیں کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ معزز شہریوں کو بلیک میل کرنے کیلئے اب بھی اس کے پاس خواتین موجود ہیں جو پولیس کی معاونت سے مقدمات کی مدعیہ بنتی ہیں۔ اس کے ایک بھائی نے گیلے وال میں میڈیکل سٹوروں کو غیر معیاری ادویات سپلائی کرنے کا کاروبار کر رکھا ہے اور اس بدنام ٹائوٹ کی پولیس سمیت دیگر محکموں پر گرفت کا یہ عالم ہے کہ ضلعی فوڈ آفیسر ظہیر میو اس کے دبائو میں آ کر لودھراں میں سرکس میں کام کرنے والی لڑکیوں کیلئے ایک ماہ تک مفت آٹا سپلائی کراتا رہا اور چوہدری امین کے دبائو پر ظہیر میو کے حکم پر ایک فلور ملز کا مالک سرکس والوں کو ہر ہفتے آٹا سپلائی کرتا رہا اس گروہ کے ایک رکن نے محکمہ انہار پر کنٹرول کر رکھا ہے اور پولیس پر چوہدری امین کی دسترس کا یہ عالم ہے کہ لودھراں اور بہاولپور میں تعینات رہنے والے افسران کسی بھی دوسرے شہر جا کر تعینات ہو‘ یہ اسی شہر کا بے بنیاد وقوعہ بنا کر معزز شہریوں پر مقدمات درج کراتا اور بعد ازاں ڈیل کر کے بھاری رقوم کی وصولی کے بعد مقدمات واپس ہوتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ چوہدری امین بلوچستان سے گاڑی لا کر ان کے کسٹم حکام کی ملی بھگت سے کاغذات تیار کراتا اور کٹ اینڈ وائیڈ گاڑی تیار کر کے اس کی اپنے سہولت کار ایس ایچ او حضرات کی معاونت سے چوری کی رپٹ اور پھر مقدمہ درج کراتا ہے اور گاڑی کو کہیں چھپا دیا جاتا ہے بعد ازاں چند ہفتوں کے وقفے سے اس کی برآمدگی کرائی جاتی ہے اور اس طرح چیسز نمبر کو ٹمپرڈ کر دیا جاتا ہے پھر دیگر شناختیں ظاہر کر کے گاڑی کو سپر داری پر لے کر مختلف افسران کو ملنے والوں کو فروخت کر دیتا ہے چوہدری امین کے زیر استعمال ٹمپرڈ اور نان کسٹم پیڈ ڈبل کیبن ڈالا لودھراں کے مختلف تھانوں میں کھڑا ہوتا ہے مگر پولیس کارروائی نہیں کرتی۔ روزنامہ ’’قوم‘‘ کے اپنے نمائندے کے ذریعے چوہدری امین پچادا سے اس کا مؤقف جاننے کے لئے رابطہ کیا مگر اس کا یہی مؤقف تھا کہ خبر نہ لگائیں ہتھ ہولا رکھیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں