میر پور خاص: میڈیکل طالبہ کی مبینہ خودکشی، سندھ حکومت کا نوٹس، پی ایم ڈی سی کا ایکشن

کراچی،میر پو ر خاص ( سٹا ف رپورٹر،بیورو رپورٹ) میر پورخاص میںمیڈیکل طالبہ کی مبینہ خودکشی پرسندھ حکو مت نےنوٹس لیکرکارر و ا ئی شروع کردی،پی ایم ڈی سی نےبھی ایکشن لیتے ہوئےرپورٹ طلب کرلی۔تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میڈیکل کالج کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی مبینہ خودکشی کے افسوسناک واقعے پر محکمہ ترقی نسواں کی صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے فوری نوٹس لے لیا ہے،صوبائی وزیر کی ہدایات پر ڈپٹی ڈائریکٹر طارق وحید اوراسسٹنٹ ڈائریکٹر فوزیہ جمالی نے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کے لئےاحکامات جاری کئے ہیں،اس سلسلے میں ایس ایچ او پولیس اسٹیشن اور SSP میرپورخاص کوباضابطہ خط ارسال کیا گیا ہے،جس میں واقعے کی مکمل غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے،صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے زور دیا کہ انکوائری ہر پہلو سے کی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور یہ واضح ہو سکے کہ واقعہ خودکشی ہے یا اس میں کسی قسم کی غفلت یا مجرمانہ عنصر شامل ہے۔علاوہ ازیں میرپورخاص میں میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی پراسرار موت کے واقعے سے متعلق پی ایم اینڈ ڈی سی نے متعلقہ میڈیکل کالج سے ریکارڈ طلب کرلیا۔پی ایم اینڈ ڈی سی نے صوبائی حکومت سے انکوائری رپورٹ بھی مانگ لی۔پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق طالبات کی ہراسانی سے متعلق زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار ہے، قصور وار ثابت ہونے پر فیکلٹی اور ادارے کے خلاف کارروائی ہوگی۔صدر کونسل پروفیسر رضوان تاج نے اعلان کیا کہ ڈسپلنری کمیٹی میں کارروائی کی جائے گی، طلبہ براہِ راست ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایات درج کروا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محفوظ تعلیمی ماحول کی عدم فراہمی قوائد کی خلاف ورزی ہے۔ طلبہ کو ہراسانی، دھمکی یا بدسلوکی پر سخت کارروائی ہوگی۔ طلبہ کی سلامتی اور ذہنی صحت اولین ترجیح ہے۔تمام میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں لازمی قرار دی گئی تھیں۔واضح رہے کہ میرپور خاص کے نجی میڈیکل میں تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ورثا کا الزام ہے کہ طالبہ کو کالج ٹیچر کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں