این ایف سی کوخسارےمیں ظاہرکرکےہڑپ کرنیکامنصوبہ،صنعتکار،سیاستدان اورتعلیمی شخصیت کی ٹرائیکا متحرک

وفاقی حکومت کی نجکاری پالیسی کی آڑ میں جامعہ پر مافیا کی نظریں ،طے شدہ منصوبہ کے تحت نقصان ظاہر،بعض شعبے بند ، طلبہ داخلے سے محروم

سارے کھیل میں تین شخصیات کاگھنائوناکردار،یونیورسٹی آمدن میں کمی ،انتظامیہ حکومتی اعلان کی روشنی میں ملازمین کو اضافہ شدہ تنخواہیں دینے سے انکاری

جامعہ اثاثہ جات دس ارب سے زائد، 38 ایکڑ زمین کی مالیت 6 ارب کے قریب، تمام اراضی کمرشل ، انفراسٹرکچر ویلیو 8 ارب سے بھی زائد

طلبہ میں دوگنااضافےکے باوجودفنانشل ریزرو78لاکھ ڈالرسے30لاکھ ڈالرپرآگئے،نجکاری کامال حاصل کرنےمیں ’’تجربہ کار‘‘ صنعتکارکی خصوصی دلچسپی

ملتان ( میاں غفار سے ) وفاقی حکومت کی نجکاری پالیسی کی آڑ میں ملتان کی این ایف سی یونیورسٹی پر مافیا نے نظریں جما لیں۔ ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت یونیورسٹی کو نقصان میں ظاہر کیا جا رہا ہے اور بعض شعبہ جات کو بند کر کے داخلہ حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ بھی داخلے سے محروم کر دیئے گئے ہیں جس سے یونیورسٹی کی آمدن میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ این ایف سی یونیورسٹی حکومتی اعلان کی روشنی میں ملازمین کو اضافہ شدہ تنخواہیں دینے سے انکاری ہو گئی ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اس سارے کھیل میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک صنعتکار‘ ایک سیاستدان اور ایک تعلیمی شخصیت کا گھنائونا کردار سامنے آ رہا ہے۔ روزنامہ ’’قوم‘‘ کو ملنے والی معلومات کے مطابق این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے اثاثہ جات دس ارب روپے سے زائد ہیں کیونکہ اس یونیورسٹی کی 38 ایکڑ زمین کی مالیت بھی 6 ارب روپے کے قریب ہے کیونکہ یہ تمام کی تمام اراضی کمرشل ہو چکی ہے جبکہ اسکے انفراسٹرکچر کی موجودہ ویلیو 8 ارب سے بھی زائد ہے جبکہ اس کی تعلیمی استعداد کی ساکھ بھی اربوں میں ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ایک دور میں پنجاب یونیورسٹی کی نجکاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس پر انہوں نے ابتدائی تخمینے کے بعد ہی سلسلہ ختم کر دیا تھا اور اس طرح پنجاب یونیورسٹی کی کھربوں روپے کی زمین بچا لی گئی تھی۔ این ایف سی یونیورسٹی میں اس وقت کل26 بلاک ہیں جن میں سے تین بلاک نئے بن رہے ہیں جن پر 550 ملین یعنی 55 کروڑ لاگت آ رہی ہے۔ یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ 55 کروڑ کی لاگت سے بننے والے ان تینوں بلاکس کی نہ توسینیٹ سے منظوری حاصل لی گئی ہے اور سنڈیکیٹ ربڑ سٹیمپ ہے جبکہ 2017ء کے بعد سے تقرر نامہ نہ ہونے کی وجہ سے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کا اجازت نامہ بھی غیر قانونی ہے اور چیلنج ہو چکا ہے جس کی لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں سماعت جاری ہے۔اس وقت یونیورسٹی میں کل 26 بلاک ہیں اور تیس بلاک کی تعمیر 55 کروڑ لاگت ہے جو کہ تقریباً 18 کروڑ فی بلاک ہے اس حساب سے 26 بلاکس کی قیمت 5 ارب کے قریب چلی جاتی ہے جبکہ آڈی ٹوریم کی لاگت اس شرح سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی میں فرنیچر‘ بسیں‘ اے سی 500 کلو واٹ کا سولر سسٹم‘ سرکاری گاڑیاں جن میں دو وائس چانسلر کے زیر استعمال ہیں کیونکہ انہوں نے ایک گاڑی پروٹوکول کے کھاتے میں اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ ملتان ہی سے تعلق رکھنے والے ایک صنعتکار اس یونیورسٹی کی نجکاری میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں کیونکہ ان کا نجکاری کا مال حاصل کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ ان کے ساتھ ملتان ہی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان نے ہاتھ ملا لیا ہے اور ان دونوں کو ایک تعلیمی میدان کی مشکوک سرگرمیوں کی حامل ایک شخصیت تکنیکی سپورٹ دے رہی ہے۔ 2012ء میں جب ڈالر کی قیمت 90 روپے تھی اس وقت این ایف سی یونیورسٹی کے فنانشل ریزروز 78 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ تھے اور آج 2023ء
میں اس یونیورسٹی کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ اس کے موجودہ فنانشل ریزرو 30 لاکھ ڈالر ہیں جبکہ طلبہ کی تعداد میں ان 13 سالوں میں 3 گنا اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ 2012ء میں اس یونیورسٹی میں کل 1400 طلبہ زیر تعلیم تھے جو کہ اس وقت 4100 سے زائد ہو چکے ہیں مگر فنانشل ریزروز میں اضافے کی بجائے دانستہ اور طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کمی کی جا رہی ہے تاکہ یونیورسٹی خسارے میں لے جائی جا سکے اور نجکاری کے مراحل سے آسانی سے گزرا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں